نظام تعلیم

edguازصائمہ


دنیا کی مذہب قوم اور معاشرہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ کوئی تعلیم کی اہمیت سے انکار کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ لارڈ بروہن کے مطابق تعلیم لوگوں کو رہنمائی کرنے کے قابل بناتی ہے اور عوام پر حکمرانی کرنا آسان بنا دیتی ہے تاہم تعلیم یافتہ انسان کو غلام بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ دین اسلام نہ صرف حقوق اللہ اور حقوق العباد کا حسین امتزاج ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہے علم کے حصول کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔ ہمارے ملک میں جب بھی تعلیم کے معیار کی بات ہوتی ہے تو ہر ماہر تعلیم میں اپنے نظریات ، رائے اور مشورے دیتا ہے ۔ لیکن کوئی بھی ان باتوں کو ابھی تک صحیح معنوں میں عملی جامہ نہیں پہناپایا ہے۔ جو وزارت تعلیم کی کرسی پر بیٹھتا ہے وہ لمبی لمبی تقریرں کرتا ہے منصوبے بناتا ہے اور نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے لیکن افسوس کوئی بھی ابھی تک ہمارے ملک میں وہ نظام متعارف نہیں کرواسکا جس کی ہماری ملک کو ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے پنجاب میں سکولوں کی تعداد تو بڑھا دی ہے لیپ ٹاپ سکیم کے تحت بہت سے طلبا میں لیپ ٹاپ تقسیم ہوئے پر جب ایک قصبہ کے سکول میں جا کر طلباءسے صرف پاکستان کے وزیر اعظم کا نام پوچھا گیا تو جواب میں وہ خیالوں میں گم ہوگیا اور دماغ پر بہت زور دینے پر شہباز شریف کا نام لے لیا۔
پاکستان بننے کے بعد پہلی تعلیمی کانفرنس 27نومبر1947ءکو کراچی میں منعقد ہوئی اس کے بعد دوسری1951ءمیں ہوئی اور ترتیب وار بہت ساری کانفرنسیں منعقد ہوتی گئیں۔ ہر کانفرنس میں تعلیم کی ترقی پر زور دیا گیا۔ 30دسمبر1959ءمیں قومی تعلیمی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔1970ئ میں پہلی پالیسی اور پھر1972ءاور1979ءمیں مرتب کی گئی۔ تمام اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان میں تعلیمی ترقی اور شرح خواندگی میں اضافہ کرنا تھا۔
طلبہ اور طالبات میں صرف سرٹیفکیٹس اور ڈگریاں بانٹنا ہی تعلیم کا بنیادی مقصد نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی کردار سازی اور شخصیت سازی اور ایسے ذمہ دار شہری تیار کرنا جو نہ صرف اپنے حقوق وفرائض سے آگاہ ہوں بلکہ حب الوطنی کے جذبے سے بھی سرشار ہوں۔ جن کو بڑوں کی عزت کرنا آتا ہو ،جن کو ہر صحیح اور غلط بات کی پہچان ہو ،جو اپنے ملک کے تعمیراتی اقدمات میں آگے آگے ہوں۔ ہمارے دیگر نظاموں کی طرح ہمارے تعلیمی نظام میں بھی اصلاح کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ جب ہم اپنے نظام تعلیم کا مکمل تجزیہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر جو نصاب تعلیم اس وقت رائج ہے وہ ہماری قومی خواہشات اور مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں موجودہ تعلیم نظام حقیقت میں طبقاتی نظام تعلیم ہے جو طبقے انگلش میڈیم اور اردومیڈیم کے تعلیمی اداروں، اسلامی مدرسوں اور دارالعلوموں میں دیکھے جا سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم اصل مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ہمارے تعلیمی ادارے خاص کر یونیورسٹی اور پروفیشنل کالجز بڑی حد تک سیاست کے اکھاڑے بن چکے ہیں تعلیم اور سیاست دو الگ الگ راستے ہیں پر افسوس آج کل یونیورسٹی اور کالج مختلف جماعتوں کی سیاست میں گھرے ہوئے ہیں اور آئے دن نت نئے قصے کہانیاں سننے کو ملتی ہیں یونیورسٹی میں دھاندلی، خون خرابہ کرنا، لڑائیاں توڑ پھوڑ جلوس نکالنا، عام بات ہے اور سونے پر سہاگہ کہ اب ملک کا تعمیری ستون یعنی اساتذہ بھی اس قسم کے کاموں میں پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔ جب تک ہمارے تعلیمی اداروںسے سیاست کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا ہر ادارہ قومی توقعات پر پور انہیں اتر سکتا ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارے زیادہ تر طالبعلم کامیابی کے لئے رٹہ بازی کا سہارا لیتے ہیں اور کسی بھی موضوع کانفس مضمون جانے بغیر اس زبانی یاد کر لیتے ہیں اس بیماری سے ہمارے طالبعلموں کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں ہمارے رحجانات ، پرچوں کی تیاری اور عملی کام کا اندازہ اب تک روایتی چلا آرہا ہے۔ ہمارے یہاں بعض اداروں میں وہی پرانا روایتی نظام اور بعض میں سمسٹر نظام رائج ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں ایک اور خامی یہ ہے کہ پورے تعلیمی سال میں حد سے زیدہ چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں ہمارے تعلیم کے شعبے پرائیویٹ سیکٹر پبلک سیکٹر سے مقابلہ پر اتر آئے ہیں اور نجی شعبہ پبلک سیکٹر پر سبقت لے جا چکا ہے۔
ملک میں تعلیمی انقلاب لانے کی ضروت پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے محسوس کی جاتی ہے یہ انقلاب صرف حکومت یا وزارت تعلیم کی ذمہ داری نہیں پوری پاکستانی قوم اگر چاہے تو انقلاب برپا کر سکتی ہے۔

Scroll To Top