کھیل اور تماشائی 28-06-2011

kal-ki-baatاس بات کو سمجھنے کے لئے بہت زیادہ دانش کی ضرورت نہیں کہ اس صدی کے آغاز سے امریکہ بھارت کو خوش رکھنے اور اسے نوازنے کی جس پالیسی پر گامزن ہے آئندہ نہ صرف یہ کہ اس پر قائم رہے گا بلکہ اسے اور زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر اپنی دیرینہ پالیسی اور اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہو کر بھارت کے ساتھ ایسا سمجھوتہ کرلے کہ 1947ءمیں قائم ہونے والی سرحدیں بے معنی ہوجائیں۔ جو لوگ سیاست کے داﺅ پیچسمجھتے ہیں وہ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوںگے کہ ” جنوبی ایشیا“ کی اصطلاح کو فروغ اسی مقصد کے لئے دیا گیا ہے کہ پاکستان کی شناخت کو مغربی ایشیا سے علیحدہ کرکے بھارت کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ آزادکشمیر کو اپنی طالع آزمائی اور اقتدار کی جنگ کا میدان بناکر ہماری دونوں بڑی جماعتوں نے نہ صرف یہ کہ امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے بلکہ قائداعظم ؒ کی روح کو بھی زبردست ٹھیس پہنچائی ہے۔
26جون 2011ءکے انتخابات میں اہلِ کشمیر دو سانڈوں کی لڑائی کے خاموش تماشائی بن کررہ گئے۔
مارچ 1977ءکے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو اپنی انتظامی” نگرانی“ میں انتخابی عمل کو آگے بڑھانے کا موقع ملا۔ بدقسمتی سے یہ عمل اسی سمت میں آگے بڑھاہے جس سمت میں 1977ءمیں بڑھا تھا۔
کیا گزشتہ ساڑھی تین دہائیوں کے تجربات سے ہم نے یہ بھی نہیں سیکھا کہ سرکار کی ”اطاعت“ کرنے والے الیکشن کمیشن کے ذریعے مطلوبہ نتائج تو حاصل کئے جاسکتے ہیں لیکن جمہوریت کے نحیف ولاغر ڈھانچے سے باقیماندہ جان کو نکلنے سے نہیں روکا جاسکتا۔؟
برطانوی طرز کی پارلیمانی جمہوریت اگر پاکستان کے لئے بنی ہوتی تو قائداعظم محمد علی جناح ؒ آزادی کے فوراً ہی بعد ببانگ دہل پاکستان کے آئین کے خاکے کا اعلان ضرور کردیتے۔
یہ وہ کھیل ہے جو گنتی کے ڈیڑھ دو ہزار خاندان کھیلتے ہیں اور باقی ساری قوم خاموش تماشائی بنے رہنے اور اس کھیل کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہوتی ہے۔

Scroll To Top