بخدمت جناب کامران خان صاحب 25-06-2011

kal-ki-baatکچھ عرصے سے آپ پینتروں پر پینترے بدل رہے ہیں۔ گزشتہ شب یعنی جمعرات 23جون کی شب آپ نے جو پروگرام کیا اس کا واحد مقصد مجھے یہ نظر آیا کہ کسی شک و شبہ کے بغیر پاکستان کو دہشت گردوں کا قلعہ یا ان کی جنت ثابت کردیا جائے۔ اور پھر امریکہ کے اس موقف کو تقویت دی جائے کہ جب تک پاکستان کے معاشرے میں تطہیر کا عمل شروع نہیں کیا جاتا اور اسے ویسا ہی ملک نہیں بنا دیا جاتا جیسا امریکہ اسے دیکھنا چاہتا ہے تب تک کرہ ارض کا ایک ایک چپہ خطرات کا شکار بنا رہے گا۔
صحافتی اقدار کا تقاضہ تو یہ ہے کہ میں آپ کے حقِ ” رائے دہی “ کا احترام کرتے ہوئے آپ سے مخاطب ہونے کی جسارت نہ کروں۔۔۔ مگر مجھے 23جون کی شب کو آپ پوری طرح حسین حقانی اور نجم سیٹھی کے رنگ میں رنگے نظر آئے۔ ۔۔ اور یقین کیجئے ایسے لوگوں کے بارے میں میرے جذبات کبھی نیک نہیں رہے جو اپنی سرزمین پر بیٹھ کر غیروں کے مفادات کو فروغ دیا کرتے ہیں۔
آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ سٹاک ایکسچینج کے بادشاہ ہیں اور آپ کی شاہانہ زندگی کا راز یہی ہے ۔۔۔ مگر اب تو یوں لگتا ہے کہ آپ نے امریکہ کا راستہ صاف کرنے کا بیڑہ بھی اٹھا لیا ہے۔
آپ نے اپنے پروگرام میں بے شمار ایسے ” دہشت گردوں“ کے نام لئے جو سرزمین پاکستان پر پکڑے گئے ۔
اور کہاں پکڑے جاتے ؟ یہیں تو انہیں افغان جہاد کے دوران آباد کیا گیا تھا ۔ یہیں سے میری مراد وہ پہاڑ ہیں جو پاکستان اور افغانستان کو ملاتے ہیں ۔ اگر پہاڑوں کے ایک حصے میں آگ برس رہی ہو تو وہاں کے باسی بھاگ کر کہاں جائیں گے ؟ اگر مقبوضہ افغانستان کے پہلو میں کوئی اور ملک ہوتا تو وہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ کہلاتا۔
کامران خان۔۔۔ آپ افغانستان کو مقبوضہ افغانستان کہنے سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ آپ اس حقیقت کا اظہار کرنے سے اجتناب کیوں کرتے ہیں کہ پاکستان جس تباہی و بربادی کا سامنا کررہا ے اس کی وجہ شمال میں جارح امریکی افواج کی موجودگی ہے۔ اس خطے نے غلامی کبھی قبول نہیں کی۔
آپ بھی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکیں۔ ایک غلامی مفادات کی بھی ہوتی ہے۔

Scroll To Top