فاٹا آئینی اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کیوں

zaheer-babar-logoریاستی و سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر عبدالقادر بلوچ کے مطابق کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں 5 ہزار 740 افراد جاں بحق 6 ہزار 427 زخمی ہوئے۔ اس سلسلے میں وزارت سیفران نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کی تعداد اور ان کے لواحقین کو دیئے گئے معاوضے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کرادیں۔ رکن اسمبلی عبدالقہار خان ودان کے تحریری سوالوں کے جواب میں وزارت سیفران کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقے میں شہید ہونے والوں میں لیویز کے 234 اہلکار، 174 خاصہ دار اور 5 ہزار 332 عام شہری شامل ہیں۔سیفران کے وزیر کے مطابق اس جنگ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو 3 ارب 48 کروڑ روپے کا معاوضہ ادا کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق مقتولین کے لواحقین کو 2 ارب 82 کروڑ جبکہ زخمیوں کو 65 کروڑ 69 لاکھ روپے جاری کئے گئے۔
دہشت گردی سے قبائلی علاقوں میں 80 ہزار مکانات تباہ ہوئے، جن میں سے 22 ہزار 471 کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت کے مطابق اب تک 15 ہزار 139 ٹی ڈی پیز کو 5 ارب 27 کروڑ روپے معاوضہ دیا جا چکا ہے جبکہ ٹی ڈی پیز کے لیے فاٹا سیکریٹریٹ اب تک 6 ارب 37 کروڑ روپے پولیٹیکل انتظامیہ کو دئیے جاچکے ہیں۔
پاکستان کے بقا وسلامتی کے لیے جو قربانی فاٹاکے عوام نے دی اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ اپنے گھر بار چھوڈ کر ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والوں کی مشکلات کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ قبائلی علاقوں میں بسنے والے عوام کی مشکلات اسی صورت کم کی جاسکتی ہیں جب ایک طرف انھیں اپنے گھروں میں باعزت طور پر واپس بھیجا جائے تو دوسری جانب فاٹا میں آئینی اصلاحات کا نفازعمل میں لا کر قبائل سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک کی جانے زیادتی کاازالہ کیا جائے۔
افسوس اور تشویش کا مقام یہ ہے کہ فاٹا میں آئینی اصلاحات کے نفاز میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں۔ حال ہی میں فاٹا کے نمائندگان اور سیاسی جماعتوںنے آئینی اصلاحات کے نفاز پر تاخیر ہونے پر دھرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر حکومت کی جانب سے سینٹ اور قومی اسمبلی کا خصوصی سیشن نہیں بلایا گیا تواسلام آباد کی جانب مارچ بھی کیا جاسکتا ہے۔گذشتہ ماہ ہونے والی کثیر الجماعتی کانفرنس میں یہ بھی مطالبہ سامنے آیا کہ قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں تاکہ 2018 کے عام انتخابات میں فاٹا کو نمائندگی حاصل ہوسکے ۔یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے رواں برس 2مارچ کو ہی فاٹا کو خبیر پختوانخواہ میں ضم کرنے اور قبائلی علاقوں سمیت دیگر ترقی پذیر علاقوں میں 10سالہ اصلاحاتی پیکج لانے کے کیے مجوزہ اقدمات کا منظور کیا تھا۔
دراصل موجود حکومت کی مشکل یہ ہے کہ چار سال گزرنے کے باوجود اس بات کا ادارک نہیںکرسکی کہ قومی ترجیحات ہیں کیا۔ایک طرف دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا منصوبہ تاحال عمل درآمد کا منتظر ہے تو دوسری جانب سرکاری محکموں کا قبلہ درست نہیں ہوسکا۔ پی ایم ایل این کے دور اقتدارمیں شائد ہی کوئی ایسا محکمہ بہتر بنایا گیا ہو جسے مثال کے لیے پیش کیا جاسکے۔
اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ شکوے شکایات اور احتجاج کے باوجود قبائلیوں کی داد رسی نہیں ہورہی۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے پوری قوت دہشت گردوں کا خاتمہ تو کردیا گیا مگر سیاسی حکومتوں نے تاحال اپنی زمہ داری نبھانی ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ صورت حال بہتری کیونکر رونما ہوگی جب بدستور سوات میں سول انتظامیہ ک کارکردگی مثالی نہیں۔ منتخب حکومت اس پہلو کو مسلسل نظر اندازکررہی کہ تادیر فوج قیام امن کا فریضہ سرانجام نہیںد ے سکتی۔جلد یا بددیر یہ کام سول انتظامیہ کو ہی کرنا ہے۔
کوئی نہ بھولے کہ فاٹا میں دہشت گردی کے بڑے بڑے مراکز موجود رہے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا قیام قبائلی علاقوں میں عمل میں آیا ۔ ٹی ٹی پی کا آخری متحرک سربراہ حکیم اللہ محسود بھی قبائلی علاقوں میں ہی ڈرون حملے میں مار گیا ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ آج بھی دور اور نزدیک کے دشمن کی فاٹا پر نظر ہے۔ اس کی خواہش اور کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایک بار پھر قبائلی علاقوں میں حالات بدترین ہوجائیں تاکہ دنیا کو دکھایا جاسکے کہ پاکستان میں ابھی دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن نہیںہوسکا۔ ہمارے زمہ داران ایسے وقت میں لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں جب مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی کشمیر پوری قوت سے جاری وساری ہے۔ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ وادی کے حالات سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان میںکسی نہ کسی طرح بدامنی پھیلا دی جائے۔ یاد رکھا جائے کہ چانکیہ سیاست کے پیرکاروں سے کچھ بھی بعید نہیں۔
عام انتخابات میں زیادہ عرصہ نہیں رہ گیا۔ وزیراعظم نوازشریف سے یہ توقع رکھنا غلط نہ ہوگا کہ وہ فاٹا اصلاحات کا نفاذ جلد ازجلد عمل میں لائیں تاکہ عام انتخابات میں انھیں ممکن حد تک سیاسی فائدہ ہوسکے۔ (ڈیک)اہل فاٹا کی قربانیوں کو خراج تحیسن پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انھیں ان کے سیاسی حقوق دیے جائیں، ملک کے دیگر علاقوں کے ساتھ برابر کا شہری سمجھا جائے۔ دراصل یہی وہ طریقہ ہے جو قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنا سکتا ہے۔ (ڈیک)

Scroll To Top