ایک انقلاب جس کی جستجو آج بھی ہے 20-06-2011

kal-ki-baatیہ بات محض ایک مفروضہ ہے کہ” تصورِجمہوریت“ سے منسلک انتخابی عمل کے بغیر ایک مقبول عوامی قیادت سامنے نہیں آسکتی۔ اس مفروضے کو محض ایک مفروضہ ثابت کرنے کے لئے یہاں صرف قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی مثال دینا ہی کافی ہے۔
محمد علی جناح کو قائداعظم کسی انتخابی عمل نے نہیں بنایا تھا۔ صوبہ سرحد میں بھی جو ریفرنڈم ہوا تھا اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ وہاں کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا نہیں۔ ایسا ضروری اس لئے سمجھا گیا کہ قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد میں سرحدی گاندھی باچا خان کے بیٹے ڈاکٹر خان کی حکومت تھی۔ صوبہ سرحد کی غالب اکثریت نے جو فیصلہ دیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اگرچہ بالواسط طور پر یہ فیصلہ قائداعظم ؒ کی قیادت پر اعتماد کا ووٹ تھا ` مگر اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بانیءپاکستان کو مسلمانانِ برصغیر کے دلوں کی دھڑکن بنانے میں کسی انتخابی عمل کا دخل نہیں تھا۔ اگر مثال ان انتخابات کی بھی دی جائے جن کے نتیجے میں پنڈت نہرو غیر منقسم ہندوستان کے وزیراعظم بنے اور جو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے قیام کا باعث بنے ` تو بھی حقیقت یہ ہے کہ محمد علی جناح ` قائداعظم اس دن سے بھی پہلے بن چکے تھے جس دن لاہور کے ایک تاریخی جلسہ عام میں قرارداد پاکستان پیش ہوئی تھی۔ تب تو دور دور تک کوئی ایسا انتخابی عمل نظر نہیں آتا تھا جسے قیام پاکستان کی طرف ایک قدم قرار دیا جاسکے۔
کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ انتخابی عمل قیادتوں کی مقبولیت کے تعین کا ایک موثر ذریعہ ضرور ہے مگر مقبول قیادتوں کے ظہور کے لئے یہ کوئی لازمی شرط نہیں۔بلکہ اگر یہ کہاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ کچھ قیادتیں مقبولیت اور قبولیت کی انتہاﺅں کو چھونے کے لئے خارجی عوامل کی محتاج ہوتی ہی نہیں۔۔۔ ان کے اپنے اندر سے مقناطیست کا اخراج اتنی بہتات سے ہوا کرتا ہے کہ لوگ بے اختیار ان کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔ اس خصوصیت کو Charisma (کرزمہ یا کرشمہ)کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خداداد خصوصیت ہے جو خارجی عوامل کی محتاج نہیں ہوا کرتی۔
اگر میں مثالیں بیسویں صدی کی تاریخ ساز شخصیتوں کی ہی دوں تو میرا ذہن پہلے لنین ` پھر ماﺅ اور پھر اتاترک کی طرف جائے گا جو کبھی انتخابی عمل کی کسوٹی پر پرکھے نہیں گئے مگر جنہوں نے اپنے ملکوں کی ہی نہیں دنیا کی تاریخ تبدل کرنے میں بھی اہم کر دار ادا کیا۔ جہاں تک ان کی مقبولیت کا تعلق ہے ` وہ عوام کے دلوں پر راج کئے بغیر ایسے آ ہنی اقدامات کر ہی نہیں سکتے تھے جو انہوں نے کئے۔ان کے علاوہ بھی کچھ نام ایسے ہیں جو اگرچہ انتخابی عمل سے جڑے ہوئے ہیں مگر ان کی عوامی قوت ووٹ کی طاقت سے منسلک نہیں تھی۔ ایک مثال میں یہاں ہٹلر کی دوں گا ۔ اور دوسری ملائیشیاءکے مہاتیر محمد اور سنگاپور کے ” یوکوان لی “ کی جو برسہا برس تک محض اپنی مقبولیت کی بناءپر اپنے اپنے عوام کی تقدیر بنے رہے۔
میں یہاں ” انتخابی عمل “ کی نفی نہیں کررہا۔ حکومت سازی کے اس عمل تک پہنچنے کے لئے انسانی تہذیب نے صدیوںکا سفر طے کیا ہے۔ اور صدیوں کے اس سفر کے ثمرات سے پوری طرح فیضیاب نہ ہونا ایک عظیم ” زیاں “ ہوگا۔۔۔ جو بات میں کہناچاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ” انتخابی عمل “ کا مقصد صرف ” حکومت سازی “ نہیں ہونا چاہئے۔” حکومت سازی “ تب تک ایک ” بے کار “ ہدف ہے جب تک اس سے قوموں اور ملکوں کو وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے والی قیادتیں مہیا یا میسر نہیںہوتیں۔
دوسرے الفاظ میں سیاسی نظام ایساہونا چاہئے کہ ایک طرف تو وہ ” حکومت سازی “کی ضمانت بنے اور دوسری طرف اس بات کا ضامن بھی ہو کہ اس کی کوکھ سے حقیقی معنوں میں مقبول اور موثر قیادت جنم لے سکے گی۔
اوپر میں مثالوں سے اس بات پر زور دے چکا ہوں کہ مقبول اور موثر قیادت اکثر خود اپنی داخلی مقناطیسیت کے زور پر ابھرا کرتی ہے اور اسے شرفِ قبولیت پانے کے لئے انتخابی عمل کی کسوٹی پر پورا اترنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔
اس بات کو آگے بڑھانے کے لئے میں انسانی تاریخ کے اس عہد کی طرف جاﺅں گا جب آج کے مروجہ انتخابی عمل سے گزرے بغیر دنیا کی پہلی حقیقی جمہوریت نے جنم لیا تھا۔
میری مراد یہاں انسانی تاریخ کے اس عہدسے ہے جس کا آغاز آنحضرت کی ہجرت سے ہوا اور جس کا خاتمہ عبدالرحمان بن ملجم کے ہاتھوں حضرت علی ؓ کی شہادت کے ساتھ ہوا۔
پہلے میں بات اس بیعت کی کروں گا جو مکہ کے مضافات میں یژب سے آنے والے قبائلی سرداروں نے آنحضرت کے ہاتھ پر کی۔
اگرچہ آنحضرت کی عظمت اور آفاقی حیثیت متذکرہ بیعت کی محتاج نہیں تھی مگر علامتی طور پر دیکھا جائے تو حکومت سازی اور قیادت کے ابھرنے کے عمل کی طرف اسلامی تاریخ میں یہ پہلا قدم تھا۔
یہاں ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آپ ریاست مدینہ کے سربراہ بننے سے پہلے بھی نبی تھے ` بعدمیں بھی نبی رہے اور ابد تک نبی رہیں گے۔ لیکن آپ صرف نبی ہی نہیں تھے `سربراہ ریاست بھی تھے اور سپہ سالار اعظم بھی تھے۔ اگر آپ کی ہمہ جہت ذات مبارک کے دوسرے اور تیسرے پہلوکو ملا کر دیکھا جائے تو فوراً ہمارا ذہن امریکی نظام میں صدارت کے عہدے کی مرکزیت کی طرف جائے گا۔ میں اگر یہ کہوں کہ امریکی آئین کے ” فادرز“ نے صدر کے عہدے کا تصور اسلام سے لیا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ہمارے سیکولر دانشور شاید اس بات کو مذاق میں اڑانا چاہیں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جیفرسن نے صرف تھامس مین کاہی نہیں ارسطو افلاطون سقراط اور آپ کی ذات مبارکہ کا بھی مطالعہ کیا تھا۔
امریکی کانگرس کی حیثیت امریکہ کے نظام میں آپ کی مجلس شوریٰ سے کافی مختلف ہے مگر یہاں پھر ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آپ بنیادی طور پر پیغمبر خدا تھے۔ آپ کو کسی نظام نے جنم نہیں دیا تھا ۔ نظام نے آپ کی قائم کردہ روایات سے جنم لیا تھا۔
مگر آپ کے ساتھ سلسلہ نبوت ختم ہوگیا۔
آپ کے بعد حضرت ابوبکرؓ ` حضرت عمر ؓ ` حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کا دورِ خلافت آتا ہے۔
یہ پورا چالیس سالہ دور انسانی تاریخ کا واحد دور تھا جس میں ”Have nots“ نے یعنی وسائل سے عاری لوگوں نے Havesیعنی اہل وسائل پر حکومت کی۔ اگر دیکھا جائے تو انسانی تاریخ کا یہ واحد انقلاب تھا جس میں ایسی قیادتیں ابھر کر سامنے آئیں جو کسی انتخابی عمل کی مرہون منت نہیں تھیں مگر جنہوں نے محرومیت کی چکی میں پسنے والے ” عوام “ کو حکمرانی کی مسندوں پر بٹھا دیا۔
یہ درست ہے کہ یہ انقلاب صرف حضرت علی ؓ کی شہادت تک قائم رہ سکا۔ اس کے بعد ” اہل وسائل “ طبقے پھر اقتدار پر قابض ہوگئے۔۔۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ اسی نوعیت کا انقلاب برپا کرنا ہر سچے انقلابی کی جستجو رہی ہے۔
کیا ایسا انقلاب اس پارلیمانی نظام کے ذریعے برپا کیا جاسکتا ہے جس کی موثر ڈھال بنے رہنے کی قسم پاکستان کے تمام اہلِ وسائل نے کھا رکھی ہے ؟

Scroll To Top