کیا قومیت اسلام کی جڑ کاٹنے والے مسلمان کہلا سکتے ہیں؟ 09-10-2009

شاعرمشرق، مفکرپاکستان اور فخر اسلام علامہ اقبالؒ کا132واں یوم پیدائش مناتے وقت اگر ہم ان کی مشہور نظم ”وطنیت“ یاد کرلیںیا پڑھ لیںتو ہمارے ذہنوں کو ”لاغرومفلوج“ کرنے والی بہت ساری پیچیدگیاں دور ہو جائیںگی۔ میںکچھ اشعار یہاںپیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
”ان تازہ خداﺅں میں بڑا سب سے وطن ہے
جوپیرہن ہے اس کا وہ مذہب کا کفن ہے“
علامہ کا شکوہ ہے کہ مسلمانوںنے اپنی عقیدتوں کی دنیا آباد کرنے کے لئے جن نئے بتوں (خداﺅں) کو تراشا ہے ان میںسب سے زیادہ قابل ذکروطن ہے، جو رسول اکرم کے دیئے ہوئے دین کی تمام تعلیمات کی نفی کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ ”وطن پرستی“ اسلام کو دفن کرنے کے مترادف ہے، ہمارے ان دانشوروں اور سیاستدانوں کو چونکائے بغیر نہیںرہے گی جو بلوچ حقوق ، سندھی حقوق، مہاجر حقوق، پختون حقوق اور پنجابی حقوق وغیرہ کی باتیںکرتے رہتے ہیں۔ اسی نظم میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔
”بازو تراتوحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترادیس ہے تو مصطفوی ہے۔“
یہ شعر ایک سچے مسلمان کے ایمان کا بڑا واضح نقشہ کھینچتا ہے۔ مسلمان کی حقیقی قوت اس کا یہ ایمان ہے کہ وہ رب جلیل کے سوا کسی کے سامنے جھکے گا۔ اگر کوئی اس سے پوچھے کہ تمہارا وطن کون سا ہے تو وہ ایک ہی جواب دے گا۔ ”اسلام“ اور وہ یہ جواب دیتے وقت یہ بھی کہے گا کہ میںاس نبی کا پیروکار ہوں جس نے اسلام کی خاطر اپنا گھر (مکہ) چھوڑا تھا۔
ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں۔
”ہوقید مقامی تونتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزاد وطن صورت ماہی
اور یہ شعربھی۔۔۔
”ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
دے تو بھی نبوت کی صداقت کی گواہی“
علامہ نے نبوت کی صداقت کی گواہی دینے کا راستہ واضح کردیا ہے۔ مسلمان دنیا میں زندگی اس طرح سے بسر کرے جیسے سمندر میں مچھلی زندگی بسر کرتی ہے۔ مچھلی کا کوئی وطن نہیں ہوتا کیوں کہ پانی کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔
نظم کا آخری شعر یہ ہے۔
”اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے“
بہت سارے دانشور شاید علامہ کی فکر کو درست تسلیم نہ کریں مگر یہ علامہ کی فکر ہرگز نہیں۔ یہ فکر رسول عربی کی ہے جنہوںنے خطبئہ حجتہ الوداع میںواضح طورپر فرمادیا تھا کہ ” آج خدا کا دین مکمل ہو گیا ہے۔ آج کے بعد کوئی عربی، کوئی عجمی، کوئی یمنی، کوئی حبشی، کوئی گورا اور کوئی کالا نہیں ہوگا۔ اسلام نے ہر تفریق مٹادی ہے۔ ہر کلمہ گو دوسرے کلمہ گو کا بھائی ہے۔ لسانی، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر سیاست کا کھیل کھیلنے والے رسول عربی کے اس فرمان کو کبھی قبول نہیںکریںگے لیکن جو مسلمان صرف اس لئے مسلمان سمجھے جاتے ہیں کہ وہ آپ کے ہر فرمان کو اپنے ایمان کا حصہ مانتے ہیں، وہ مسلمان کبھی ایسی سوچ اختیار نہیںکریںگے جو ”ترک اسلام“ کے مترادف ہو۔
پاکستان اس لئے پاکستان ہے کہ یہ ”قومیت اسلام“ کا گہوارہ بن کر عالم وجود میں آیا۔ اس کے علاوہ نہ تو اس کی کوئی پہچان ہے ، اور نہ ہی کوئی تاریخ۔
میں ظہور پاکستان کو ریاست مدینہ کا ظہور ثانی سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہر سچا مسلمان میری اس سوچ سے اتفاق کرے گا۔

Scroll To Top