میڈیا کی دنیا کے دو رخ

17-06-2011
سلیم شہزاد کے بہیمانہ قتل پر ہماری صحافی برادری کا شدید احتجاج نہ صرف یہ کہ قابل فہم ہے بلکہ قابل تحسین بھی۔ جو لوگ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں وہ بہت بڑے خطرات مول لے کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اگر وہ ایسے کڑوے سچ سامنے لاتے ہیں جن سے معاشرے اور اس کے افراد براہ راست متاثر ہوتے ہیں تو وہ ان لوگوں کی دشمنی بھی مول لیتے ہیں جن کے مفادات کے بچھے ہوئے جال ہر ایسے سچ کو جنم دینے کا باعث بنا کرتے ہیں۔
یہ بات سو فیصد درست ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ میڈیا کی دنیا بھی ایسے عناصر سے پاک نہیں جو سچ سامنے لانے کی آڑ میں مخصوص مفادات کے فروغ اور حصول میں ناقابل رشک کردار ادا کرتے ہیں۔ اور یہ ناقابل رشک کردار وہ یقینی طور پر پرُکشش معاوضوں کے بغیر ادانہیں کرتے۔
مطلب اس بات کا یہ ہوا کہ تصویر کے دو رخ میڈیا کی دنیا میں بھی موجود ہیں۔ بلکہ یہاںاس لئے زیادہ بہتات اور شدت کے ساتھ موجود ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں میڈیا نے معاشرے کی اقدار کا تعین کرنے کے معاملے سے لے کر حکومتوں کو بنانے اور گرانے کے کام تک بھی اتنا طاقتور کردار حاصل کرلیاہے کہ جہاں اس کے روشن پہلوﺅں میں اضافہ ہوا ہے وہاں اس کے تاریک پہلو بھی بڑے خطرناک انداز میں سامنے آئے ہیں۔
اگر آپ پاکستان کا ہی جائزہ لیں تو آپ کو ہر قسم کے لوگ میڈیا کی طرف راغب نظرآئیں گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شہرت ” کالے دھندوں “ کی وجہ سے تھی۔ اور ایسے لوگ بھی جو معقول معاوضے کی خاطر اپنے ضمیر سے لے کر اپنے قومی مفادات تک ہر چیز کی قربانی دے سکتے ہیں۔
میں یہاں کسی کا نام نہیں لوں گا۔ جن اصحاب سے میں مخاطب ہوں وہ میرے اس بیان میں اپنا چہرہ آسانی کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ ضروری امر یہ ہے کہ ہم من حیث القوم ایسے لوگوں کے چہروں سے شناسائی حاصل کریں اور ان کے مذموم عزائم کے خلاف اپنا دفاعی نظام مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔

Scroll To Top