تاریخ اسلام

تاریخ اسلام
حضرت معاویہؓ کی پیدائش کے وقت ابو سفیان کی عمر چالیس سال سے کچھ زیادہ تھی ۔ ابو سفیان حضرت محمد ﷺ سے دس سال عمر میں بڑے تھے۔ امیر معاویہؓ میں لڑکپن ہی سے ایسے علامات پائے جاتے تھے جس سے لوگ اُن کو کسرائے عرب کہتے تھے۔ اُن کی دانائی، خش مد بیری شلامت روی اور اعتدا ل پسندی کی خالص طور پر شہرت تھی۔ وہ طویل القامت۔ سرخ و سفید رنگ۔ خوبصورت اور مہیب آدمی تھے۔ حضورﷺ نے امیر معاویہؓ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ عرب کے کسریٰ ہیں جس روز معاویہؓ تم میں سے آٹھ جائیں گے توتم دیکھو گے کہ بہت سے سرجسموں سے جدا کئے جائیں گے۔ آخر عمر میں امیر معاویہؓ کا پیٹ کسی قدر بڑھ گیا تھا اور منبر پر بیٹھ کر خطبہ سناتے تھے۔ بیٹھ کر خطبہ سنانے کی ابتدا امیر معاویہؓ ہی سے ہوئی۔ امیر معاویہؓ خوب پڑھے لکھے آدمی تھے فتح مکہ کے روز اپنے باپ ابو سفیان کے ہمراہ آکر پچیس سال کی عمر میں مسلمان ہوئے اور پھر وفاتِ نبوی تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، جنگ حنین اور محاصرہ طائف میں بھی شریک تھے ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم مکہ میں تشریف لا کر عمرہ ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو امیر معاویہؓ بھی آپ کے ہمراہ مدینہ میں آئے اور کاتب وحی مقرر ہوتے ہوئے ۔کتابت وحی کی خدمت کے علاوہ باہر سے آتے ہوئے وفود کی مدارات اور ان کے قیام وطعال کا اہتمام بھی آنحضر ت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جب امیر معاویہؓ کے بھائی یز ید ؓ بن ابی سفیان کو ایک لشکر کے ساتھ شام کی طرف بھیجا تو امیر معاویہؓ کو ایک دستہ فوج دے کر ان کا کمکی مقرر کیا۔ فتوحات شام میں انہوں نے اکثر لڑائیوں کے اندر بطور مقدمتہ الجیش کار ہائے نمایاں انجام دیئے اور اپنی شجاعت و مردانگی کا سکہ دلوں پر بھٹایا۔ فاروق اعظم ؓ نے ان کو علاقہ اردن کا مستقل حاکم مقرر کیا۔

Scroll To Top