نوازشریف سے مودی کی” مختصر “ملاقات

zaheer-babar-logoقازقستان کے دارلحکومت آستانہ میں وزیراعظم نوازشریف کی بھارتی ہم منصب سے” مختصر “ ملاقات کو بھارتی میڈیا نے خوب پذائری بخشی ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ دونوں رہنماوں کی ملاقات 2015 کے بعد ہوئی ۔ دراصل پاک بھارت تعلقات کی تاریخ سے شناسا ہر شخص جانتا ہے کہ جب جب پاکستان اور بھارت کی قیادت کسی بھی موقعہ پر مل بیٹھی علاقائی ہی نہیں بین الاقوامی خبر بن گی ۔میاں نوازشریف اور نریندر مودی آستانہ میں موجود ہیں جہاں جمعہ کو دونوں ملکوں کو تنظیم کی مکمل رکنیت دے دی گی۔
دنیا کا کوئی امن پسند شخص اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ دراصل امن ہی تعمیر وترقی کی پہلی سیڑھی ہے ۔ کوئی سماج اس وقت تک بہتری کی جانب راغب نہیںہوسکتا جب تک اسے کے رہنے والوں کو امن وامان کی نعت میسر نہ آئے۔ جنوبی ایشیاءاس لحاظ سے بدقسمت رہا کہ تقسیم ہند سے لے کر اب تک خطے کے دو اہم ممالک یعنی پاکستان اور بھارت مسائل کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے میںکامیاب نہیں ہوئے۔ دراصل بھارت آزادی کے فورا بعد ہی ایسے انتہاپسند عناصر طاقت پکڑ گے جو اکھنڈ بھارت کے فلسفہ پر دل وجان سے یقین رکھتے تھے چنانچہ ان کے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ پاکستان نام کا الگ ملک وجود میں آگیا ہے جو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی اکثریت کے جذبات کی نمائندگی کرتا ہے۔ تقسیم کے وقت قتل وغارت گری کے جو واقعات رونما ہوئے اس نے دونوں اطراف بداعتمادی کی ایسی فضا پیدا کی جو کسی طور پر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ ایک طرف معصوم نہتے افراد کے قتل عام کے اثرات تھے تو دوسری جانب جلتی پر تیل کا کام تنازعہ کشمیر نے کردیا۔بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمان اکثریتی علاقے یعنی مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج داخل کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ پاکستان کی جانب سے جب اس پر احتجاج کیا گیا تو نہرو نے اعلانیہ تسلیم کیاکہ وہ مقبوضہ وادی کے رہنے والوں کو حق خود اداریت دیں گے پھر جو بھی ان کا فیصلہ ہوا اس پر سرتسلیم خم کیا جائیگا مگر باجوہ ایسا نہ ہوا۔ سیاسی مبصرین کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر ہی کا ہے اگر مسقبل قریب میں دونوں ملکوں کی قیادت اس اہم مسلہ کو حل کرلیتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ صدیوں سے ایک ہی سرزمین پر رہنے والے ایک دوسرے کے قریب نہ آجائیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک چار باضابطہ جنگیں ہو چکیں ہیں۔ کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری پر ہونے والے جھڑپوں کا تو شمار کرنا ہی مشکل ہے۔ دونوں اطراف جانی نقصان بھی ہورہا ہے۔ مودی سرکار کے آنے سے فرق یہ پڑا کہ سرحدی علاقوں میںکشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے نریندر مودی کا مسلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ان انتہاپسندانہ نظریات کو عملی شکل دینے کے لئے کوشاں ہیں جن کا نتیجہ سوائے تباہی کے کچھ اور نہیں۔ دنیا میں سیاست دانوں کا معمول ہے کہ وہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔ جمہوریت میں چونکہ اقتدار ووٹ کی طاقت سے ہی مل کرتا ہے لہذا زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے معاشرے کے سب ہی طبقات کو خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لہذا کم ہی ایسا ہوا ہو کہ کسی بھی سیاسی رہنما نے انتخابی مہم کے دوران جو کچھ کہا اس پر سو فیصد پر عمل کیا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتہاپسند ہندووں کا سیاسی چہرہ ہے۔ بی جے پی اکھنڈ بھارت کے فلسفہ پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ کسی نہ کسی شکل میں اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ بابری مسجد کو شہید کرکے وہاں رام مندر بنانا کی مہم بھارتیہ جتنا پارٹی کے فکر وفلسفہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سچ یہ ہو کہ بی جے پی اس انداز میںاپنے منصوبہ پر عمل نہیںکررہی جس قدر اس نے اپنے انتہاپسند ووٹروں سے وعدہ کیا مگر جو بھارت میں جو کچھ اب ہورہا ہے وہ بھی ہرگز کم نہیں۔
یقینا بھارتی وزیراعظم میںسیاسی بصیرت کی کمی ہی ہے جو وزیراعظم نوازشریف کے ہوتے ہوئے تنازعات کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ۔ ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامہ میں میاںنوازشریف سے زیادہ بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا رہنما موجود نہیں۔پی ایم ایل این کی پالیسی یہ ہے کہ دوایٹمی قوت کی حامل ریاستوں میں کسی طور پر تناو درست نہیں لہذا ممکن حد تک پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔ نریندر مودی کے تقریب حلف برداری میں بھی میاں نوازشریف کے جانے کی وجہ بھی یہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس عمل کو شروع کیا جائے جو سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے جانے کے بعد رک گیا تھا۔افسوس صد افسوس کہ میاں نوازشریف کی کوشش یک طرفہ ثابت ہوئیں اور مودی سرکار نے کسی طور پر اخلاص وبصیرت کا ثبوت فراہم نہ کیا۔ آج مقبوضہ وادی میں آگ وخون کا کھیل جاری ہے۔ بی جے پی سرکار تحریک آزادی کشمیر کو طاقت کے زور کچلنے میں اس طرح ناکام ہوئی کہ کشمریوں کا جذبہ حریت پوری قوت سے بیدار ہوگیا۔ اس پس منظر میں یہ مشکل ہے کہ نریندر مودی اور میاں نوازشریف کی ملاقات سے حالات میں کوئی ڈرامائی تبدیلی رونما ہوجائے۔

Scroll To Top