مدارس میں اصلاحات م±لک و قوم اورعلماءکے مفاد میں ہے

افتخار حسین


نیشنل ایکشن پلان کے نکات میں مدارس میں اصلاحات کرنا بھی شامل ہے تاکہ ملک سے انتہا پسندی اوردہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔قومی اہمیت کا حامل یہ مس¿لہ مختلف وجوہات کی بنا پر حل نہیں ہو پا رہا۔۲۰۰۲ سے لے کر اب تک پاکستان کی مختلف حکومتوں نے اتحاد تنظیم المدارس سے اس مس¿لے کے اوپر مذاکرات کیے اور اس ضمن میں متعدد بار معاہدے بھی کیے گئے لیکن کچھ مفاد پرست عناصر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں اور باوجود اس کے کہ اس مس¿لے کو سبھی فریقین حل کرنا چاہ رہے ہیں اس کے باوجود کوئی عملی اقدامات نہیں لیے جا سکے۔بدقسمتی سے تحریکِ طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں نے مدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر انھیں دنیا بھر میں بدنام کردیا ہے اس لیے جہاں مدارس کو دہشت گردی سے الگ کرنے کی ضرورت ہے وہیں مدارس کے نصاب میں اصلاحات کرنی بھی ناگزیر ہیں تاکہ مدارس کے طلباءکو جدید علوم سے آراستہ کر کے ان کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولے جائیں۔انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے اصلاحات کے اس عمل کے خلاف بھی جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تاکہ اس عمل میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔مدارس کے سبھی وفاق ہمیشہ ہی اصلاحات کے حق میں رہے ہیں اور ماضی میں بھی حکومت نے اصلاحات کے لیے ا±ن سے معاہدے کیے لیکن اس منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے یہ عمل ہمیشہ ادھورا رہ جاتا ہے۔یہاں ہم مدارس میں اصلاحات کی ضرورت کو ا±جاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان اصلاحات کو روکنے میں انتہا پسند گروہوں کے پروپیگنڈے کو رَد کرتے ہیں تاکہ اصلاحا ت پرسو فیصد عمل درآمد جلد سے جلد کیا جا سکے۔
مدارس کا دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ا±لجھ جانا حال ہی کی بات ہے تاہم مدارس کے نصاب میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہمیشہ ہی سے محسوس کی گئی ہے۔ہمارے قومی شاعراور مفکر علامہ محمد اقبال نے آج سے اَسی سال قبل اس مسئلے کو یوں ا±جاگر کیا تھا۔
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا “لَاالہ اِلااللہ لَا”
ا±ٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ
اِن اشعار میں علامہ اقبال اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ برصغیر کے مدارس طلباءکو زندگی کا سلیقہ نہیں سکھارہے۔یہ مدارس نہ ہی انھیں اسلام کے عالمگیر محبت کے پیغام سے آشنا کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کا نصاب ان میں بصیرت اوردور اندیشی پیدا کررہا ہے۔چنانچہ علامہ اقبال کا یہ واضح خیال تھا کہ مدارس کی تعلیم مسلمان طلباءکو ایک خدا کا پرستار بنانے کی بجائے ان کی آزادی کی حِس کو مٹا کر ان میں غلامانہ سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔علامہ اقبال اسی مسئلے کو اپنے ایک اور شعر میں یوں بیان کرتے ہیں۔
شیر مردوں سے ہواپیشہِ تحقیق تَہی
رہ گئے صوفی و م±لا کے غلام اے ساقی
ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ انتہا پسند گروہ اپنے پروپیگنڈے میں جہاں قرآنی آیات کا بے جا استعمال کرتے ہیں وہیں علامہ اقبال کے اشعار کو بھی غلط رنگ میں پیش کر کے اپنے موقف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم نے اقبال کے افکار میں واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ وہ آج سے80 سال پہلے ہی مدارس کے نصاب میں اصلاحات کے خواہاں تھے مزید برآں یہ کہ خود درسِ نظامی ستر ہویں صدی کی ضروریات کو مدِنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا تھا۔م±لا نظام الدین نے یہ نصاب جہاں مسلمان علماءپیدا کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا وہیں اس امر کو بھی مدِنظررکھا تھا کہ اس نصاب سے فارغ التحصیل طلباءدرباری خدمات اور حکومتی عہدوں کے بھی اہل ہوں۔ تین سو سال پ±رانا درسِ نظامی کسی بھی طور پر جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکتا۔یہی سبب ہے کہ مدارس محض علماءپیدا کر رہے ہیں اور کوئی ڈاکٹر ،انجینئر یا حکومتی عہدِ ےدار مدرسے سے نہیں پیدا ہوتا۔اس لیے دور ِ حاضرکے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں مدارس کے نصاب میں ضروری اصلاحات ضرور لانی چاہیں اور اس ضمن میں کسی پَس وپیش سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ اقدام خود مدارس کے مفاد میں ہیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کے سنہری دور میں یورپ کے طلباءسائنسی علوم کی تحصیل کے لیے مسلمانوں کے مدارس میں آیا کرتے تھے۔مدارس کے اسی روشن کردار کو بحال کرنے کے لیے ان کے نصاب میں جدت لانا ناگزیر ہے اور اس عمل کی کامیابی سے ہمارے معاشرے میں مدارس اور ان سے منسلک علماء کا قد ا±ونچا ہوگا۔پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے اس کام کو سرانجام دینے میں مخلص ہیں اور اس ضمن میں دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کا پروپیگنڈا جھوٹ پر مبنی ہے۔
تحریکِ طالبان کے ترجمان اور رہنماو¿ں کی حکومت ،مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف بے بنیاد دلیلوں کا ایک نمایاں پہلو مدارس اور علماءکے نام پر عوام کو مشتعل کرنا ہے۔ اس گروہ کے رسا لوں اور آڈیو ، ویڈیو پیغامات میں شدّومد سے یہ بتایا جاتا ہے کے پاکستان تمام مدارس اور علماءکرام کا دشمن ہے اور ریاستی اداروں سے انہیں شدید خطرات لاحق ہیں لیکن تحریکِ طالبان کے دعوو¿ں کے برعکس اس وقت وطن عزیز میں بتیس 32,000ہزار سے زیادہ مدارس آزادانہ کام کر رہے ہیں۔ 70فیصد رجسٹررڈمدارس دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں کبھی کسی قسم کی مشکلات اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ملک میں مدارِس کے پانچ وفاق قانونی تحفظ کے ساتھ اپنے ماتحت مدرسوں کا انتظام چلا رہے ہیں۔ ان وفاق المدارس کی قیادت نے کبھی بھی تحریکِ طالبان کے دعوو¿ں کی تصدیق نہیں کی بلکہ وہ مدارس میں جدّت لانے کے لئے حکومت کی کوششوں کے حامی رہے ہیں۔ یہ حقا ئق دہشت گردوں کے بھی بے بنیاد پروپیگنڈے کو رد کرتے ہیں۔
مدارس برسوں سے برصغیر میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی تدریس کے مراکز ہیں، مگر تحریکِ طالبان نے مدرسوں کو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کا گڑھ بنا کر انہیں بدنام کرکے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ با خبر حلقوں کے مطابق اس گروہ کے دہشت گرد مدارس کی آڑمیں اغواء برائے تاوان، گاڑیوں کی چوری اور منشیات فروشی جیسے گھنا و¿نے جرم کر رہے ہیں۔نیز دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو بھی مدرسوں میں چھپایا جاتا ہے۔اِن سرگرمیوں کا یقینی نتیجے کے طور پر مدارس قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں تاہم پھر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مدارس کے تقدس کا ہمیشہ خیال رکھتے ہوئے ان میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی۔ اس کے برعکس،
دہشتگردا پنی موجودگی سے دنیا بھر میں مدارس کو بدنام اور غیر مقبول کر رہے ہیں۔
بعض علماءکرام اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان مدارس کو دہرے طریقے سے نقصان پہنچا رہی ہے جس کا مقصد پاکستان اور اسلام کو علماءکے سائے سے محروم کرنا ہے۔ ایک طرف تو یہ گروہ خودکش حملوں کے ذریعے مسجدوں اور خانقاہوں سے منسلک مدرسوں اور علماء کو مٹا رہا ہے اور دوسری طرف انہی مدارس کے طلباءکو تعلیم ادھوری چھوڑ کر دہشت گردی میں ملوث کر رہا ہے تا کہ مستقبل میں علماءپیدا نہ ہوسکیں۔ یقیناً یہ علماءاور مدارس کے خلاف بہت سنگین سازش ہے جس کا ادراک ایک عام شخص بھی زمینی حقائق سے باخوبی کرسکتاہے۔نیز خود بہت سارے دہشت گرد رہنما یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ تحریک طالبان مدرسوں سے بھتا لے کر ان کا مالی استحصال کرتی ہے۔
اس مختصر مضمون میں بیان کردہ حقیقت دہشت گردوں کی مدارس اور علماءسے دشمنی کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہیں۔لہذا ، مدارس اور علماءکے نام پر دہشت گردوں کے جھوٹ کا ادراک کر کے ہمیں مدرسوں اور علماءکے تحفظ اور مدرسوں میں اصلاحات لانے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل ساتھ دینا چاہے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اتحاد تنظیم المدارس کے تحفظات کو فوری طور پر دور کرے اور مدرسوں میں اصلاحات پرفوری عمل درآمد کی کوشش کرے اور اس ضمن میں درپیش رکاوٹوں کا فوری سدِباب کیا جائے۔علماء کو بھی اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ یہ بہت اہم قومی مسئلہ ہے اور ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ قوم کی فلاح وبہبود کے لیے بھی مدارس کے نصاب میں جدت لانا ایک ناگزیر امر ہے۔

Scroll To Top