ن لیگی گلو بٹ کا شیخ رشید پر حملہ: حملہ آور کس کی سفارش پر آیا، تحقیقات ہونی چاہئیں، اپوزیشن لیڈر

  • حملہ آور گرفتار ،وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے شیخ رشید کی نشست پر جاکر واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں
اسلام آباد، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے ن لیگی رہنما پارلیمنٹ ہاﺅس کے احاطے میں جھگڑ رہا ہے

اسلام آباد، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے ن لیگی رہنما پارلیمنٹ ہاﺅس کے احاطے میں جھگڑ رہا ہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ +این این آئی)پارلیمنٹ کے باہر ملک نور اعوان نامی شخص نے شیخ رشید کو گھیر کر ان پر 22 لاکھ روپے کا دعویٰ کردیا۔ایکسپریس نیوزکے مطابق پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر ایک کے باہر کافی دیر سے شیخ رشید کے منتظر ملک نور اعوام نامی شخص نے جیسے ہی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو دیکھا تو ان پر جھپٹ پڑا اور بازو پکڑ کر شور شروع کردیا۔ملک نور اعوان نامی شخص کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے مجھ سے گاڑی لی تھی جس کے 22 لاکھ روپے تاحال ادا نہیں کئے، میں غریب آدمی ہوں اور رقم بہت بڑی ہے، اس کے لئے متعدد بار لال حویلی بھی جاچکا ہوں لیکن شیخ رشید میرے پیسے واپس نہیں کررہے اور اگر یہ بات جھوٹ ہے تو شیخ رشید مسجد میں جاکر قرآن اٹھا کر حلف دیں کہ انہوں نے میرے پیسے نہیں دینے شیخ رشید معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئے اور انہوں نے پریذائڈنگ افسر چوہدری محمود بشیر ورک کو بھی شکایت کی جسپر پریذائیڈنگ افسر نے ڈی ایس پی پارلیمنٹ اور سارجنٹ ایٹ آرمز کو مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے گرفتاری کا حکم دیا۔وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ملک نور اعوان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ رشید سے جھگڑا کرنے والے شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اسپیکر کی ہدایت کی روشنی میں اقدامات اٹھائے جائیں گے دوسری جانب شیخ رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پہلے بھی متعدد بار آگاہ کرچکا ہوں کہ پارلیمنٹ غیر محفوظ ہے جب کہ مجھے بھی کئی روز سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس حوالے سے وزیرداخلہ کو بھی مطلع کرچکا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو میرے 62، 63 کے کیس کی بہت تکلیف ہے اور میں شریفوں کا قبر کی دیواروں تک پیچھا کروں گا، نور اعوان نامی شخص (ن) لیگ کا گلو بٹ ہے اگر مجھے کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمہ دار نوازشریف اور شہبازشریف ہوں گے۔ دریں اثناءقومی اسمبلی میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا حکومت کی جانب سے فوری نوٹس کے بعد متعلقہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں شیخ رشید احمد نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وہ اسمبلی کے باہر گئے تو ایک شخص نے انہیں گیٹ نمبر ایک پر روک کر کہا کہ آپ نے میرے پیسے دینے ہیں‘ میرے ساتھ ڈرامہ رچایا گیا اور بدتمیزی کی گئی ہے اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے۔ اجلاس کے صدر نشین نے سارجنٹ کو حکم دیا کہ وہ واقعہ کی تفصیلات معلوم کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس شخص کو فوری طور پر حراست میں لیا جائے اور اسے اسمبلی سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ شیخ رشید کو پارلیمنٹ کے اندر ہراساں کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی شیخ رشید کی نشست پر جاکر واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایوان کو بتایا کہ چیئر کے حکم پر اس شخص کو حراست میں لے گیا ہے وہ اب پولیس کی حراست میں ہے۔ چیئر کی ہدایت کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ متعلقہ شخص گرفتار تو ہوگیا ہے مگر وہ شخص کس رکن کی سفارش پر یہاں آیا اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔ پینل آف چیئرمین محمود بشیر ورک نے ہدایت کی کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو ایسے شخص کے فارم پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں جس کو وہ نہ جانتے ہوں۔ صاحبزادہ محمد یعقوب نے کہا کہ وہ شیخ رشید احمد پر حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔

Scroll To Top