تاریخ اسلام

تاریخ اسلامان پر جس قدر شک کریں خم ہے دنیوی دولت خار حکومت بھی وہ چیز ہے جو انسان کو خدا سے دور مہحور کر دیتی ہے اور اسی لئے قرآن و حدیث میں دولت ِ دنیا کو حقارت کی نظر سے دیکھا گیا ہے تاریخ ہم کو بتا تی ہے کہ دولت و حکومت کی وجہ سے علم صحیح بھی اعمال صالحہ پر لوگوں کو آمادہ نہیں کر سکا۔ پس شریعت حقہ کی حفاظت انہیں لوگوں نے کی ہے جو دولت و حکومت سے کچھ زیادہ تعلق رکھتے تھے اور اسی قسم کے لوگ قیامت تک اسلام کی حفاظت کا کام کرتے تہیں گے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اسلام غریبوں ہی سے جاری ہوا۔ اور غریبوں ہی میں انجام کار رہے گا۔ اب اس کے بعد اس حدیث پر غور کرو کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ تم میں قرآن اور اپنی آل یعنی سادات کو چھوڑتا ہوں۔ پس یہ حدیث بھی دلیل اس بات کی ہو جاتی ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے عین منشائے حدیث کے موافق فرمایا تھا کہ
”میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نبوت اور خلافت ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں۔“
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
ابتدائی حالات
حضرت امیر معاویہؓ ہجرت سے سترہ سال پہلے پیدا ہوئے تھے یعنی وہ حضرت علی ؓ سے چھ سال چھوٹے تھے۔ حضرت امیر معاویہؓ کی ماں ہند بنت عتبہ کی شادی اول بن مغیرہ قریشی سے ہوئی تھی۔ فاکہ کو ایک مرتبہ اپنی بیوی ہند کی عصمت و پاک دامنی کے متعلق شبہ گذرا اس نے ہند کو ٹھوکریں مار کر گھر سے نکال دیا۔ اس کا لوگوں میں چرچا ہوا اور ہند کے باپ عتبہ نے بیٹی سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے صاف بتاو¿۔ اگر فاکہ تم کو متہم کرنے میں سچا ہے تو ہم کسی شخص سے کہہ دیں گے وہ فاکہ کو قتل کردے گا اور ہم بدنامی سے بچ جائیں گے لیکن اگر وہ جھوٹا ہے اور بلاوجہ بدنام کرتا ہے تو ہم اس معاملہ کو کسی کاہن کی طرف رجوع کریں گے۔ ہند نے اپنی برا¿ت دبے گنا ہی ثابت کرنے کے لئے قسمیں کھائیں اور الزام سے قطعی انکار کیا۔عتبہ کو جب بیٹی کی بے گناہی کا یقین آگیا تو اس نے فاکہ بن مغیرہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنی قوم بنی محزوم کے لوگوں کو ہمرا لے کر یمن کے کسی کاہن کے پاس چلے اسی طرح عتبہ بن بعیہ بھی اپنے ہمراہ عبد مناف کے چند لوگوں اور ہند کو معہ اس کی ایک سہیلی کے لے کر روانہ ہوا۔ کاہن کے پاس ان لوگوں نے پہنچ کر کہا کہ ان دونوں عورتوں کے معاملہ کی طرف توجہ کیجئے۔
کاہن اول ہندکی سہیلی کے پاس گیا۔ اور اس کے دونوں منڈھوں پر کچھ ضربیں لگا کر کہا کہ اٹھ پھر ہند کے پاس آیا اور اس کو بھی مار کر کہا اٹھ نہ تجھ سے کوئی بدی سرزد ہوئی ہے نہ تو نے زنا کیا ہے اور تو ایک پادشاہ کو جنے گی جس کا نام معاویہؓ ہوگا۔ فاکہ نے یہ سن کر ہند کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مگر ہند نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا کہ اگر میرے پیٹ سے کوئی بادشاہ ہونے والا ہے تو وہ تیرے نطفہ سے نہ ہوگا۔ چنانچہ اس تصدیق بے گناہی کے بعد ہندنے فاکہ سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ اس کے بعد ابو سفیان بن حرب نے ہندسے شادی کر لی اور معاویہؓ پیدا ہوئے۔
(جاری ہے….)

Scroll To Top