پاکستان کے دوست نہیں دشمن بڑھ رہے

وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایک بار پھر افغانستان کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا گیا۔ شرکاءنے افغانستان کی بگڑتی صورت حال پر تشویش کا اظہا کرتے ہوئے کہا گیا کہ دشمن عناصر کے ادارہ جاتی تعاون سے باخوبی آگاہ ہیں اور مسقبل کے خطرات کے لیے بھرپو ر انداز میں نمٹتے ہوئے دفاع کرینگے۔ “
اس میں دو آراءنہیں کہ ملک کو خارجی اور داخلی محاذ پر کئی مسائل درپیش ہیں۔ پانامہ لیکس کو لے کر حزب اختلاف نہیںحکومت بھی ایسی جارحانہ حکمت عملی پر عمل پیراءہے جو کم ازکم انتشار پیدا کررہی۔ ادھر لاکھوں نہیں کروڈوں پاکستانی مسلسل بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ بلاشبہ اس پسے ہوئے طبقہ کی مشکلات میں کمی نہ کرکے وفاقی اور صوبائی حکومتیں افسوسناک طرزعمل کا مظاہرہ کررہیں۔ حکمران جماعت کے کرتا دھرتا افراد بظاہر اس پر یقین رکھتے ہیں کہ حقیقی معنوںمیں عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے دعووں اور وعدوں سے کام چلایا جائے۔ یقینا عام آدمی میں پائی جانے والی بے چینی جہاں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کررہی وہی ملک کے اندر اور باہر موجود دشمن کا کام بھی آسان ہورہا۔ اس سوال کا جواب زمہ داروں کو دینا ہوگا کہ گذشتہ چار سالوں میں کسی ایک محاذ پر بھی حتمی کامیابی کیونکر ممکن نہ ہوسکی۔
2013کی انتخابی مہم کے دوران پی ایم ایل این یہ دعوی کرتی رہی کہ ملکی مسائل سے نہ صرف وہ پوری طرح باخبر ہے بلکہ اقتدار ملنے پر وہ اس کو تیزی کے ساتھ حل بھی کرلے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ماہرین کی ایسی ٹیم موجود ہے جو جلد ہی ملک کو ان بحرانوں سے نکال کر تعمیر وترقی کے راستہ پر ڈال دے گی مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ آج حالات یہ ہیں کہ چند میگا پراجیکٹ کے علاوہ بہتری کی کوئی بھی صورت نمایاں نہیں۔ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کا جن مسلسل بے قابو ہے تو پھلوں اور سبزیوںکی قیمت بھی کم ہونے کا نام نہیںلے رہی۔ بڑے اور چھوٹے کسی بھی تاجر کو اس کی ہرگز کوئی پرواہ نہیں کہ مقدس ایام ہونے کے باوجود لوگوں کی مشکلات میں کمی لائی جائے۔
وطن عزیز کی جمہوریت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ عملا عام آدمی سے لاتعلق ہے۔ مقامی حکومتیں جو کسی بھی جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں مسلسل ناپید ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ کی بھرپور کوشش کے نتیجے میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات تو کرادئیے گے مگر عملا انھیں اختیار نہیںدیا جارہا۔ستم بالا ستم یہ کہ اہل اقتدار نہیں سمجھ پارہے کہ داخلی استحکام ہی ایسی مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد فراہم کرسکتا ہے جو قومی مفادات کی آئینہ دار ہو۔
مقام شکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ۔ ضرب عضب کے بعد ردالفساد کی شکل میں شرپسند عناصر کے خلاف پوری قوت سے کاروائیاں جاری ہیں۔ ریجنرز کو پنجاب میںاختیارات ملنے کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے مگر یہاں بھی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں حکومتی ادارے بڑی حدتک ناکام ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں بارے تاثر یہی ہے کہ دہشت گردی کی جنگ کو دفاعی اداروں کی زمہ داری سمجھ کر اس میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا جارہا۔
قومی سلامتی کے اداروں کو دفاع وطن کی خاطر جانفشانی سے فرائض کی ادائیگی کا عزم اپنی جگہ مگر کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ تاحال ہماری خارجہ پالیسی اس حد تک ضرور ناکام ثابت ہوئی ہے کہ یہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم نہیںرکھ سکی۔ بہت آسان ہے کہ ناکامیوں کی تمام تر زمہ داری بھارت کے سر عائد کردی جائے۔ مثلا پاک افغان تعلقات میں بگاڈ کو را کی کارستانی کہہ دیا جائے۔ پوچھا جانا چاہے کہ ازلی دشمن بھارت سے بہتری کی توقع کس نے رکھی۔ کیا اس حقیقت کوفراموش کردیاگیا کہ تقسیم ہند سے لے کر اب تک بھارت کے انتہاپسند اور طاقتور ہندووں نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو سے لے کر نریندر مودی تک کم ہی ایسا ہوا کہ نئی دہلی میں کوئی ایسا شخص برسراقتدار آیا جس نے پاکستان دشمنی سے احترازبرتا ہو۔ ہم میں سے جو کوئی بھی بھارت سے خیر سگالی کی توقع رکھتا ہے وہ عملا خواب غفلت میں سویا پڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے 1971 کے سانحہ کے بعد ہمیں کسی طور پر بھارت سے بہتری کی توقع نہ رکھی جائے۔
کسی دانشور نے خوب کہا ہے کہ زندگی کسی کی خامیوں نہیں بلکہ اپنی خوبیوں کے سہارے بسر کی جاتی ہے۔ زمہ داروں کو ہمہ وقت بھارت کو قصور وار ٹھرنے کی بجائے اپنے اس پالیسی پر غور کرنا ہوگا جس کے سبب مودی سرکار ہمسایہ ملکوںکوپاکستان سے دور کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ افغانستان بارے پاکستان کی پالیسی میںتسلسل نظر نہیں آتا۔ زیادہ وقت نہیں گزراجب سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میںایک وفد نے کابل کا دورہ کیا، صدر اشرف غنی سمیت افغان حکومت کے سب ہی اہم شخصیات سے میل ملاقاتیں ہوئی مگر برف نہ پھگل سکی۔حکومت کی جانب سے افغان حکومت کر کھل کر تنقید کے بعد یہ کہنا آسان نہیں کہ ہم درست میں آگے بڑھ رہے ہیں۔وزارت خارجہ کے زمہ دار حلقوں کافرض ہے کہ وہ جاری پالیسی کو تنقیدی نگاہ سے جانچے۔ سوچنا چاہے کہ آخر کیوں علاقائی سطح پر پاکستان کے دوستوں کی بجائے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا۔
٭٭٭٭٭٭

Scroll To Top