تہران میں دہشت گردی کے لیے وقت کا انتخاب اہم

zaheer-babar-logoتہران میں بیک وقت پارلمینٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار کو نشانہ بنا کر دولت اسلامیہ نے ایران میں پہلی دہشت گرد کاروائی کرڈالی۔ ایرانی میڈیا اور حکام کے مطابق ان واقعات میں 12افراد جان بحق ہوئے تاہم زخمیوں کے بارے اطلاع نہیں۔دہشت گردی کی اس کاروائی کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا وہ یقینا اہمیت کا حامل ہے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب سعودی عرب اور چھ دیگر عرب ممالک نے قطر کے ساتھ یہ کہہ کر تعلقات منقطع کرلیے کہ وہ داعش جیسے دہشت گروہوں کی معاونت کرنے میں ملوث ہے۔دوسری جانب قطر نے ان الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پابندیوں کو بلاجواز قرار دیا۔
ادھر تہران انتظامیہ کا موقف ہے کہ درالحکومت کے مختلف مقامات پر دہشت گردی کی تین کاروائیاں کی گئیں جن میں ایک کو مکمل طور پر ناکام بنادیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد خواتین کے لباس میں آئے جو سارے کے سارے سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گے۔ ادھر حکام کے مطابق بظاہر پارلیمان اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر ایک ہی وقت میں حملہ کیا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیںکہ عرب ممالک کے درمیان باہم کشیدگی اور پھر ایران کے ساتھ تعلقات میں بگاڈ کا فائدہ دولت اسلامیہ کو ہی ہوگا۔ مسلم ممالک ایک دوسر ے پر داعش کو مدد دینے کا الزام عائد کررہے مگر عملا صورت حال یہ ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ ہر ایک کو نشانہ بنا رہا۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب مکہ معظہ اور مدینہ منورہ میں بھی کشت وخون کا سانحہ دیکھنے میں آیا ۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ دولت اسلامیہ نے ان دو مقدس مقامات میں بھی قتل وغارت گری سے باز نہ آئی جن کا ادب واحترام مسلمانوں کے ہر فرقہ اور مسلک میں موجود ہے۔
ایران میں دہشت گردی کی حالیہ کاروائیوں کو خطر ے کی گھنٹی کے طور پر دیکھنا چاہے ۔ مسلم دنیا سمجھ لے کہ داعش کے درپردہ جو قوت میں فعال ہے وہ حالات کا اس رخ پر لے جاتی ہوئی نظر آتی ہے جس کا نتیجہ انتشار اور افراتفری کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔ ہوشمندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ اگر حقیقی معنوں میں اسلامی دنیا داعش کو خطرہ سمجھتی ہے تو باہم اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے فوری طور پر اس خطرے کے تدارک کے لیے مل جل کر کام کرے مگر شائد ایسا نہ ہوسکے۔ افسوس صد افسوس کہ مسلم اشرافیہ اب تک نہ تو مسائل کو سمجھ سکی ہے اور نہ ہی ان کو حل کرنے کے لیے اس حکمت کا ثبوت دے سکی جو لازم ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ترکی اور پاکستان جیسے ممالک کو فوری طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔دونوں کمیپس کو باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ محاذآرائی خود ان کو کمزور کرڈالے گی۔ امریکہ ہو یا کوئی بھی اور ملک جو کوئی بھی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی پر کاربند ہے اس کا اہل توحید کا دشمن ہونے میں شک نہیں۔ نہیں بھولنا چاہے عرب دنیا میں حالیہ بحران امریکی صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد سامنے آیا ۔ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ سعودی عرب کو قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے میں حوصلہ افزائی امریکہ نے ہی کی۔ دراصل یہ پہلی بار نہیںکہ امریکہ نے اپنے مخصوص مالی مفادات کے حصول کے لیے مسلم ممالک کو استمال کیا۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہو چکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان حکمران اس قدر سمجھ بوجھ بھی نہیں رکھتے کہ اختلافات بات چیت سے حل کرلیں۔ بلاشبہ جنگ وجدل سے حل کرنے کی روش انھیںمذید مسائل سے دوچار کردے گی۔درست کہا جاتا ہے کہ پیچاس سے زائد مسلمان ملکوں میں محض اکا دکا ریاستوں میں جمہوریت ہے۔ نسل درنسل چلے آنے والے حکمرانوں میںایسی اہلیت دکھائی نہیں دیتی جو انھیں مسائل کو حل کرنے کے قابل بنا سکے۔ ایک طرف شاہی خاندانوں میںاقتدار کے حصول کے لیے اندرون خانہ کشمکش جاری ہے تو دوسری جانب عوام میں بڑھتا ہوا اضطراب ان کی مشکلات میں اضافہ کررہا۔
ایک اللہ ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والوں کا باہم اتفاق نہ ہونا افسوسناک بھی ہے اور تشویشناک بھی۔ ٹھیک ہی کہا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کو کسی اور دشمن کی ضرورت ہی نہیں ان کے باہم تنازعات ہی انھیں جانی ومالی نقصان پہنچانے کے لیے بہت کافی ہیں۔
(ڈیک)قطر سے سفارتی تعلقات کے ختم کرنے کے فورا بعد ایران میں داعش کی کاروائی حالات کی سنگینی ظاہر کررہی۔ مسلم ممالک کو روس اور امریکہ کمیپ میں تقسیم ہونے کی بجائے او آئی سی کو فعال کرنا ہوگا۔ یہ جاننے کے لیے بقراط جیسی دانش کی موجودگی ہونا ضروری نہیں کہ اگر مسلمان ملکوں میںتقسیم در تقسیم کا عمل اسی طرح جاری وساری رہا تو آنے والے ماہ وسال میں ان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہونے کا امکان ہے۔(ڈیک)
مسلم اہل فکر ونظر کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ محض چندسالوں کے اندار دولت اسلامیہ نے کیونکر اتینی طاقت حاصل کرلی کہ وہ مشرق سے لے کر مغرب تک سب ہی کے لیے خطرہ بن چکی۔ اسلام کے نام پر ہونے والے تشدد میں مسلمانوں ہی کو نشانہ بنانا بتارہا کہ سازش ہرگز معمولی نہیں ۔ گماں یہی ہے کہ اہل اسلام کے خلاف کوئی بڑا کھیل کھیلا جارہا جس سے مسلمانوں کا حکمران طبقہ عملا لاتعلق ہے۔ یہ پیشن گوئی کرنا غلط نہ ہوگا کہ اگر مسلم پالیسی سازوں نے بروقت اقدمات نہ اٹھائے تو ان کی مشکلات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

Scroll To Top