کہیں میرے اندر بھی ایک سفاک درندہ تو نہیں چھپا ہوا ! 12-06-2011

kal-ki-baat
مسلمانوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ مسلمان مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں ` اور مسلمانوں کی تلواریں مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہی ہیں۔ جب مغل ظہیر الدین بابر کی سالاری میں ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے تو ان کے مدمقابل ہندو نہیں مسلمان تھے۔ اس سے پہلے تیمور لنگ کی افواج ِقاہرہ نے جتنا بھی خون بہایا تھا مسلمانوں کا بہایا تھا ۔ عثمانی سلطان بایزید یلدرم کے ساتھ تیمور لنگ کی جو جنگ ہوئی تھی اس میں خون دونوں طرف سے مسلمانوں کا بہا تھا۔
حضرت عثمان غنی ؓ کو شہید کرنے والی تلواریں بھی مسلمانوں نے تھام رکھی تھیں ۔ حضرت علی ؓ کو شہید کرنے والا شخص تو خود کو مسلمان ہی نہیں جنّتی بھی سمجھتا تھا ۔ جنگ ِجمل میں تو صحابہ کرام کے ہاتھوں صحابہ کرام شہید ہوئے تھے۔جنگِ صفین میں بھی صحابہ کرام کے مقابلے پرصحابہ کرام صف آرا تھے۔
ہماری تاریخ کا یہ پہلو نہایت تکلیف دہ ہے۔
آج سینکڑوں برس بعد بھی پاکستان میں دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں بھی جو شخص گولی کھا کر گرتا ہے وہ بھی اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتا ہے اور جس شخص کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بندوق سے گولی نکلتی ہے اس کے منہ سے بھی یہی نعرہ بلندہوتا ہے۔
میں نے یہ لمبی تمہید کراچی کے اس ہولناک سانحے کو سامنے رکھ کر باندھی ہے جس میں چند رینجرز نے نہات شقی القلبی کے ساتھ ایک ماں کے جگر گوشے کو موت کی نیند سلا دیا۔
یہ وحشت وبربریت ہماری رگوں میں کہاں سے آئی ہے۔؟
یہ جنگ جسے ہمارے لادین حلقے پاکستان کی جنگ بنانے کے لئے بے چین ہیں اور جس جنگ کو جاری رکھوانے اور جس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرانے کے لئے امریکی لیڈر اور جنرل بار بار پاکستان تشریف لارہے ہیں۔۔۔ کہیں اس جنگ کی آگ میں ہمارا اجتماعی ضمیر تو جل کر خاک نہیں ہوگیا۔؟
جس معاشرے سے زندگی کی قدرو قیمت ختم ہوجاتی ہے وہاں خدا اور قانون دونوں کا خوف بھی ختم ہوجاتا ہے۔
میں نے زندگی میں آج تک بندوق نہیں اٹھائی ۔ آج تک کسی چڑیا پر بھی گولی نہیں چلائی۔
لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے اندر بھی ایک سفاک درندہ نہ چھپا ہوا ہو۔
ایک ایسا درندہ جو محمد کے خدا کا فرمان کان بند کرکے سنے۔۔۔

Scroll To Top