سپریم کورٹ کو اپنا کام کرنے دیا جائے

zaheer-babar-logoسینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے استعفی واپس لینے کے اعلان نے بظاہر ان خدشات کو تقویت ملی جس کے تحت کہا جارہا تھا کہ سب کچھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا گیا۔ ادھر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نہال ہاشمی کو استعفی واپس نہیں لینا چاہے تھا بعقول ان کے نہال ہاشمی اپنا استعفی واپس لے کر چلے گے مگر پوری پارٹی ان کے اس اقدام کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ رہی۔ مشائد اللہ خان نے کہا کہ نہال ہاشمی کو پارٹی ڈسلپن کا مظاہرہ کرنا چاہے تاہم اس حوالے سے وزیراعظم نوازشریف کا جو بھی فیصلہ ہوگا پوری جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔“
جے آئی ٹی کو لے کر حکمران جماعت جس انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کررہی وہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔(ڈیک)صورت حال پر نگاہ رکھنے والے قانونی وسیاسی حلقوںکے بعقول پی ایم ایل این لاٹھی اور چھڑی کی پالیسی پر کاربند ہے مثلا ایک طرف اس کا موقف ہے کہ وہ عدالتوں کا بھرپور احترام کرتی ہے تو دوسری اس کی جماعت کے بعض رہنماوں کالب ولہجہ فاضل جج صاحبان کو ڈرانے دھکمانے کا تاثر دے رہا۔(ڈیک)
ادھر پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف بھی میدان میں نکل آئے ۔ تازہ بیان میں ان کے بعقول ایک خاندان پر بندوق تان لینا مناسب نہیں۔ اس موضوع پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ بھی بولے ہیں جس میں انھوں نے نہال ہاشمی کے لیے صبر واسقامت کی دعا کرتے ہوئے جاری کاروائی پر تحفظات کا اظہار کیا ۔
ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جے آئی ٹی کی کاروائی جوں جوں آگے بڑھے گی حکمراں جماعت خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے ہر حربہ آزمائے گی۔ سوچی سمجھی پالیسی کے تحت خود کو مظلوم ثابت کرکے یہ تاثر دیا جارہا کہ جاری کاروائی ان کے خلاف دراصل انتقامی کاروائی ہے۔ پی ایم ایل این باخوبی جانتی ہے کہ اگر جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجہ میںان کے دامن پر مذید داغ لگ گے تو شائد آنے والے عام انتخابات میں جیت اس کا مقدر نہ بن سکے۔
یہ بات سوفیصد درست ہے کہ عدالت عظمی کی جانب سے شریف خاندان کو اپنی بےگناہی ثابت کرنے کا بھرپور موقعہ فراہم کیا جارہا۔ کئی ماہ سے جاری پانامہ لیکس کی سماعت جاری وساری ہے۔رواں سال پانچ میں سے سپریم کورٹ کے دو فاضل جج صاحبان وزیراعظم نوازشریف کو صادق اور آمین تسلیم کرنے کو تیار نہیں جبکہ تین ججز نے معاملے کی مذید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے ڈالا۔
وزیراعظم نوازشریف کا خاندان گذشتہ کئی دہائیوں سے برسر اقتدار ہے۔ خود میاں نوازشریف وزیراعلی پنجاب رہے اور اب تیسری مرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر براجمان ہیں۔ اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ میاں نوازشریف کا نام پانامہ لیکس میں آتے ہی وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے دستبردار ہوجاتے۔ اپنے خاندان میں سے یا پھر مسلم لیگ ن کے کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو وزیراعظم کے منصب پر فائز کردیا جاتا مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ بظاہر حکمران جماعت کا خیال ہے کہ وہ اس عالمی مالیاتی سیکنڈل میں جاری قانونی کاروائی میں سرخرو ہوکر اپنا سیاسی قد کاٹھ بلند کرلیں گے مگر زمینی حقائق اس کے برخلاف کھائی رے رہے۔ مسلم لیگ ن کو سمجھ لینا چاہے کہ پانامہ لیکس ملکی سیکنڈل نہیں۔ گذشتہ سال ظاہر ہونے والے اس مالیاتی سکینڈل میں بااثر ممالک کی طاقتور شخصیات کے نام بھی آئے ۔ بعض مغربی ملکوں میں اسی سبب سے سیاسی طوفان آئے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے ہاں پانامہ لیکس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کیا رہ جائے گی۔ یہی وہ پہلو ہے جو نظام انصاف کے زمہ دار باخوبی سمجھ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ایم ایل این کا ہر وار خالی جارہا اور پانامہ لیکس کا مقدمہ کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھ رہا ۔
دراصل ملک کے اہل سیاست کو سمجھ لینا چاہے کہ حالات تبدیل ہوچکے ۔ پاکستان اب نوئے کی دہائی سے نکل آیا ۔عام آدمی ایک طرف اپنے حقوق بارے خاصا حساس ہوچکا وہی اس کی خواہش ہے کہ اس پر برسراقتدار افراد مالی لحاظ سے صاف وشفاف ہو۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخاب میں پی پی پی کی شکست میں میگا کرپشن سیکنڈل اور بیڈ گورنس کے مسائل نمایاں رہے۔آج اسی قسم کی صورت حال کا سامنا حکمران جماعت کو ہے۔ اس بار پی ایم ایل این کی مشکل یہ ہے کہ وہ وفاق اور پنجاب دونوں میں برسر اقتدار ہے۔ پی پی پی کے دورے میں تو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف تمام تر مسائل کی زمہ دار سابق صدر آصف علی زرداری پر لاد کر سرخرو ہوتے رہے مگر شائد اب کی بار ایسا نہ ہو۔
نہال ہاشمی جیسی تقریروں پر انحصار کرنے کی بجائے بہت بہتر ہوگا کہ حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے پی ایم ایل این عام آدمی کی حالت زار کو بہتر بنانے کے پوری جان لڑا دے۔ سپریم کورٹ کو اپنے کام کرنے دیا جائے اور اپنی تمام تر توجہ حقیقی معنوں میں عوامی مسائل حل کرنے پر مرکوز کی جائے۔ اس سچائی کو دل وجاں سے تسلیم کرنا ہوگا کہ پی ایم ایل این کی چار سالہ کارکردگی کسی طور پر تسلی بخش نہیں لہذا حقیقی یا مصنوعی بحرانوں میں اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے ان وعدوں کی تکیمل کی جائے جو پی ایم ایل این کی قیادت مختلف شکوں میں عوام سے کرتی رہی۔

Scroll To Top