فاشسٹ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی

زین العابدین


27 مئی 2017کو مقبوضہ کشمیر کے بارہ مولا اور پلوامہ کے اضلاع مےں بھارتی افواج نے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 11کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا جن مےں حزب المجاہدین کے کمانڈر سبزار احمد بٹ بھی شامل ہےں۔بھارتی قابض افواج نے بارہ مولاکے رام پورہ اور اُڑی کے علاقوںمےں 8اورپلوامہ کے علاقے ترال مےں 3کشمیریوں کو شہید کیا ۔ بھارتی افواج کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کشمیریوں کو فوجی کارروائی کے دوران شہید کیا گےا جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ پہلے ان کشمیریوں کر گرفتار کیا گےا اور پھر حراست کے دوران شہید کردیا۔اسی طرح لائن آف کنٹرول کے قریب بھی اڑی کے علاقے مےں دو عمر رسیدہ شہریوں کو پاکستانی قرار دےکر جنکی عمریں 80سال سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہےں قتل کر کے رات کی تاریکی مےں خفیہ طور پر دفن کر دیاَ۔ ان واقعات کے بعد وادی مےں اےک بار پھر کشیدہ صورتِ حال قائم ہے ۔ کئی ماہ کی پابندیوں کے بعد انٹر نےٹ سروسز اور سوشل وےب سائٹس کی بندش کے واپس کھلنے کے اےک ہی دن بعد دوبارہ تمام سروسز کو معطل کردیا گےا ہے اور وادی مےں کرفیو کی سی کےفےت ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر اےک بار پھر ہنگاموں اور مظاہروں کی زد مےںہے جہاں کشمیری نوجوان ، عورتےں اور بچّے بھارتی قابض افواج کے وادی پر ناجائز قبضے کےخلاف اپنے جذبات کا اظہار ان پر پتھراو¿ کرکے کررہے ہےں۔ اس صورتِ حال مےں نہتّے کشمیری بھارت کی جدید اسلحہ سے لےس فوج کو ہر گلی کوچے مےں شدید مزاحمت دے رہے ہےںاوربھارتی قابض افواج اور انتہا پسند حکومت بے بس نظر آرہی ہے اور کشمیر کو اپنے ہاتھوں سے نکلتا دےکھ کر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسکی سیاسی اور فوجی قیادت کے جو بیانات سامنے آرہے ہےں ان سے تو یہی لگ رہا ہے کہ بھارت کشمیریوںکے احتجاج اور مظاہروں کو روکنے مےں بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اب کسی نہ کسی جواز کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کے بہانے تلاش کررہا ہے تاکہ انہیں ڈرا دھمکا کر آزادی کی منزل سے دور لےجا سکے۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اپنے اےک حالیہ بیان مےں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہےں کہ کشمیری نوجوان بھارتی افواج کے سامنے پتھر کے بجائے ہتھےار اٹھائےں تاکہ فوج کے ہاتھوں مےں انہیں عسکریت پسندی کےخلاف جنگ کے نام پر مارنے کا موقع مل سکے۔
بھارتی فوج کے سربراہ کے بیان سے بھارت کے کشمیریوں کےساتھ تعلق کی نوعیت کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ مزید یہ کہ کشمیریوں کےساتھ ظالمانہ، بہیمانہ اور ذلت آمےز سلوک اورانکے خلاف طاقت کے بے درےغ اور بلا جھجک استعمال پر بے حسی کا مظاہرہ بھی یہی بتاتا ہے کہ بھارت نے اپنی طاقت کے بل پر کشمیریوں کو غلام بنانے کی ٹھان رکھی ہے اور اس کےلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتا ہے اورجس کےلئے وہ انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کوبھی نظر انداز کرتا رہےگا۔سچ تو یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنی آزادی کےلئے جنگ لڑنے والے کشمیریوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی کیونکہ وہ اس سیاسی اور انسانی مسئلے کا حل اپنی فوج سے چاہتا ہے حالانکہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل ممکن ہی نہیں۔ بھارتی حکومت طاقت کے زور سے کشمیری نوجوانوں کو دیوار سے لگاناچاہتی ہے جسکا نتیجہ وہ دےکھ رہی ہے کہ وادی مےں غےر مسلح کشمیریوں نے بھارت کو باور کرادیاہے کہ اپنی فوجی طاقت کے گھمنڈ مےں وہ انہیں غلام بنا کر نہیں رکھ سکتا۔بھارتی وزیرِ دفاع ارون جےٹلی نے بھی اپنے اےک حالیہ بےان مےں بھارتی فوج کے اس مےجر کا دفاع کرتے ہوئے جس نے اےک کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ کےساتھ باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیاتھا کہا کہ “شورش زدہ علاقوں مےں صورتِ حال سے نمٹنے کےلئے معاملات کو فوج کے حوالے کر دےنا چاہیے کیونکہ اسکے فوجی حل ہی کی ضرورت ہوتی ہے”
بھارتی افواج اور پولیس کی جانب سے عالمی برادری کی شدید تنقید کے باوجود کشمیریوں کےخلاف پےلٹ گن کے استعمال کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گےاہے۔ آزادی کےلئے اپنی آوازبلند کرنےوالے ہر کشمیری کو جان سے مارنے کی خواہش بھارت کی انتہا پسند حکومت اور قابض افواج کی مجرمانہ ذہنیت کی عکاس ہے۔حریت رہنما مےر واعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموش رہنے بلکہ انکی پشت پناہی کرنے کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی سے آنےوالے بےانات سے لگ رہا ہے کہ بھارتی حکومت نے یہ فےصلہ کر لیا ہے کہ اب وہ کھل کر اعتراف کرلے کہ اس نے مقبوضہ وادی اوراس مےں بسنے والے کروڑوں انسانوں کو اس قابض فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جسکے ہاتھ معصوم کشمیریوں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہےں۔ بھارتی افواج کشمیرکے تعلیمی اداروں مےں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گھس کر کارروائیاں کررہی ہے تاکہ کشمیری نوجوانوں کو اکساکر انہیں تشدد کا نشانہ بنا سکے۔
علاوہ ازیںوادی سے اےسی اطلاعات بھی مل رہی ہےں کہ حریت قیادت کےخلاف انتقامی کارروائیوں کے سلسلے مےں ان پر جھوٹے الزامات کے تحت قائم مقدمات کو دوبارہعدالتوں مےں چلانے کی ہداےات دی جارہی ہےں۔ اس غرض سے بھارت نے اپنی تفتیشی اداروں CBIاورNIAکو متحرک کردیا ہے اور انہیں احکامات جاری کئے ہےں کہ ان مقدمات کوجن مےں قتل، اغواءاور فسادات کےلئے السانے جےسے الزامات شامل ہےں جلد از جلد نمٹاےا جائے۔اس سلسلے مےں حریت قیادت کی نئی دہلی مےں پےشیاں بھی شروع کر دی گئی ہےں۔
کشمیری امن پسند ہےں مسئلہ¿ کشمیر کا اےک پرامن، پائےدار اور تمام فریقوں کےلئے قابلِ قبول سیاسی حل کے حامی ہےں لےکن بھارت ان کی پر امن جدوجہد اور جائز مطالبے کو ماننے سے انکاری ہے۔ کشمیری بھارتی افواج کےساتھ جنگ نہیں چاہتے لےکن اسکے ساتھ ساتھ وہ بھارتی غلامی کا طوق بھی نہیں پہننا چاہتے۔ بھارت کو پچھلی سات دہائیوں کے فوجی تجربے کے بعد یہ اندازہ تو ہو جانا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو اپنا غلام بنانے مےں ناکام ہو چکی ہے اور آئندہ بھی وہ کشمیریوں کی مرضی کےخلاف ان پر اپنی حکومت قائم نہیں کر سکتا۔تمام کشمیریوں کا اےک ہی مطالبہ ہے جسکا وہ پچھلے ستر سالوں سے اظہار کرتے چلے آرہے ہےں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے قضیے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ےعنی رائے شماری کا انعقاد کیا جائے۔بصورتِ دیگر کشمیری اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے تک اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھےں گے۔کشمیری مظاہرین کی گرفتاریاں، تشدد، قتل، دھمکیاں اور انہیں ہراساں کرنے کا کوئی بھی طریقہ کشمیروں کو ان کی آزادی کی منزل کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا۔

Scroll To Top