عرب دنیا میں کشیدگی بڑھ رہی

zaheer-babar-logoسعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ملکوں نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا۔مذکورہ چھ ممالک میں سعودی عرب ، مصر، متحدہ عرب امارات ، بحرین ، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔ قطر پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ دولت اسلامیہ، اخوان المسلمون اور دیگر شدت پسند تنظمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ ادھر قطر نے اس اقدام کو بلاجواز اور بلاوجہ قرار دیتے ہوئے الزمات کا مسترد کیا ہے۔ ۔ مزکورہ صورت حال پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان بھی سامنے آچکا کہ خلیجی ممالک باہمی تنازعات بات چیت کے زریعہ حل کریں۔“
حال ہی میں سعودی عرب میں مسلم وغیر مسلم سربراہان مملکت کی کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیارکرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں قطر میں شامل ہوا اور اعلامیہ پر اس نے مہر تصدیق ثبت کی۔ عرب دنیا میں اندرون خانہ پائی جانے والی کشدیگی اب کھل کر سامنے آرہی ۔ عراق، شام اور لیبیا میں جاری بحران نے عرب اشرافیہ کو خاصی تشویش میں مبتلا کردیا ۔ اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ اور اس کے حواریوں نے اپنی چالیں چلنی شروع کردیں۔ چنانچہ ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو اپنا اسلحہ بیچنے کا معاہدہ کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری مہم پر مہر تصدیق ثبت کردی ۔ متحدہ ہائے امریکہ کو اس کا بات کا خوبی اندازہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالات میں تلخی بڑھی ہے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں مگر شک نہیں کہ مسلم دنیا کے دو اہم ممالک میں اختلافات کا فائدہ کسی اور کو نہیں اسلام دشمن قوتوں کو ہی ہوگا۔
اس پر حیرت وافسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا کہ مسلمانوں کا حکمران طبقہ عالمی طاقتوں کے اس کھیل کو سمجھنے میںکامیاب نہیں ہورہا جس کے تحت انھیں آپس میںہی دست وگربیاں کرکے چالاک وطاقتور مغربی ممالک اپنے دیرینہ مقاصد کا حصول ممکن بنا رہا۔
سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی سے دونوں ملکوں کے نقصان کے علاوہ مسلم دنیا کے ان درجنوں ممالک کے تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو آنے والے دنوں میں اس گروپ بندی کا شکار ہونگے۔
صورت حال پر نگاہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ پاکستان پر بھی اس حوالے سے دباو آسکتا ہے۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان اور مسلم لیگ ن کے قریبی تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ بعض حلقے تو یہاں تک کہہ رہے کہ سعودیہ کی سربراہی میں مسلم ممالک کے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت بھی امر مجبوری ہوئی۔ ملک میںایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اعلانیہ طور پر اس اتحاد کے مخالف ہیں۔ یہ سمجھا جارہا کہ گروپ بندی میں شامل ہوکر پاکستان ایک بار پھر مسائل کا شکار ہوسکتاہے۔ جو نقطہ اہم ہے کہ وہ یہ کہ ہمیں کسی بھی صورت میں دوسروں کی جنگ کا حصہ نہیں بننا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ماضی میںپاکستان اس سے ملتی جلتی غلطیوں کی بھاری قیمت ادا کرچکا ۔ روس افغانستان جنگ میںجو کردار پاکستان نے ادا کیا موجودہ مسائل کی ایک وجہ وہ بھی بنا۔ ستم ظریفی یہ کہ ہمارا حکمران طبقہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل میںاس حد سرگرداں رہا کہ ملک وقوم کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
ایک خیال یہ ہے کہ نوازشریف حکومت کے لیے ایک حد سے بڑھ کر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے مطالبات کے اگے سر تسلیم خم کرنا ممکن نہیں۔ پانامہ لیکس اور دیگر مسائل کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی مشکلات پہلے ہی کم نہیں ہورہیں ایسے میں آگے بڑھ کسی نئے بحران کو گلا لگانا شائد آسان نہ ہو۔ ا ملکی تاریخ گواہ ہے کہ ملک میںمذہبی بنیادوں پر ہونے والے گروہ بندی کا ہمیشہ ہمیں نقصان ہوا ۔ اہل اقتدار کسی نہ کسی شکل میں خود ہی ایسے حالات پیدا کرتے رہے جو شہریوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی بجائے دوریاں بڑھانے کا باعث بنتے رہے۔ مقام شکر ہے کہ میڈیا کے متحرک ہونے سے پاکستانیوں کی غالب اکثریت اس بات سے آگاہ ہوچکی کہ ہمیں کسی بھی حال میں ایک دوسرے سے دست وگربیاں نہیں ہونا۔عام آدمی بھی جان چکاکہ جو کوئی بھی انھیں آپس میں لڑانے پر کاربندہے وہ دراصل ان کا دشمن ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ باشعورپاکستانی قابل زکر تعداد میں ان مذہبی رہنماوں سے بیزار ہیں جو نفرتوں کے سوداگر ہیں، جو تعصبات پھیلاتے ہیںاور اس کی آڈ میں اپنی جیب بھرنے سے کسی طور پر پس وپیش سے کام نہیں لیتے ۔
عرب دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد غالب امکان یہی ہے کہ پاکستان میں بھی جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوجائے ۔ ایک کی حمایت اور دوسر ے کی مخالفت میں ہونے والا اجتجاج کسی اور کے حق یا مخالفت میں تو ہوسکتا ہے مگر پاکستان کا اس سے نقصان ہی ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہے کہ پرامن انداز میں حکومت پر دباو بڑھایا جائے کہ کچھ بھی ہوجائے وہ ایک حد سے آگے نہ بڑھے یعنی ہمیں صر ف اور صرف پاکستان کے مفاد کو مقدم جاننا ہے۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں بھی زمہ داری ہے کہ وہ پارلمینٹ کے پلیٹ فارم کو بھرپور طور پر استمال کرتے ہوئے قوم کی رہنمائی کرے اور عوام کو بتایا جائے کہ بہترین حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے۔ قطر ہو یا سعودی عرب، ایران ہو یا شام پاکستان کے لیے سب ہی ممالک محترم ہیں جنھیں ہم نے اختلافات بات چیت کے زریعہ حل کرنے پر قائل کرنا ہوگا۔

Scroll To Top