’’4جون ۔۔۔ میری زندگی کا ایک اہم دن‘‘ 04-06-2017

aaj-ki-baat-new-21-aprilپورے36برس قبل آج کے روز یعنی4جون کو پرل کانٹی نینٹل لاہور میں سہ پہر کے وقت ایک تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اس کے مہمان خصوصی تب کے وفاقی وزیراطلاعات راجہ ظفر الحق تھے مگر اس کی صدارت میاں نوازشریف صاحب نے کی تھی جو ان دنوں حکومت پنجاب میں وزیر خزانہ تھے۔ میں سٹیج پر میاں نوازشریف صاحب کے پہلو میں بیٹھا تھا ۔ دوسری طرف راجہ ظفرالحق صاحب کے پہلو میں میرے ایک رفیق اے کے ضیاءمرحوم بیٹھے تھے۔

میں اس روز بھی ملک کی سب سے بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسی اور ینٹ کی پنجاب شاخ کا سربراہ تھا کیوں کہ اورینٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور میرے پرانے دوست ایس ایچ ہاشمی مرحوم نے میرا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا حالانکہ مستعفی ہوئے مجھے ایک ماہ گزر چکا تھا۔
جس تقریب کا یہ ذکر ہے وہ میڈاس پرائیویٹ لمیٹڈ کی افتتاحی تقریب تھی۔
تیس برس کے فاصلے سے جب میں ماضی پر نظر دوڑاتا ہوں تو ایک لحاظ سے یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ کل کی بات ہو۔ اور دوسری طرف یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیاں گزر گئیں۔
ایڈورٹائزنگ کا پیشہ میں نے 1974ءمیں اختیار کیا جب بھٹو دور میں مجھ پر صحافت کے دروازے بند کردیئے گئے اور میرے مرحوم دوست ایس ایچ ہاشمی نے مجھے اورینٹ میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی۔
پوری ربع صدی تک میں ایڈورٹائزنگ کے پیشے سے براہ راست منسلک رہا ۔ 2001ءمیں میں نے میڈاس کو تین کمپنیوں میں تقسیم کرکے اس کا انتظام اپنے بیٹوں کے حوالے کردیا۔
آج میڈاس گروپ ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں پہلی پوزیشن پر پہنچ چکا ہے۔ جب میں نے میڈاس قائم کی تھی تو میرے اندر ایک خواب بسا ہوا تھا۔میں پنجاب کو ایڈورٹائزنگ کا ایک بڑا مرکز بنانا چاہتا تھا۔ تب پچانوے فیصد ایڈورٹائزنگ بجٹ کراچی کی ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے کنٹرول میں تھے۔ آج صورتحال بالکل الٹی ہے۔ کراچی کی بڑی ایجنسیاں بھی اپنے دفاتر لاہور اور اسلام آباد میں کھولنے پر مجبور ہیں۔ اس انقلاب میں پہلے اورینٹ نے اور اس کے بعد میڈاس نے مرکزی کردار ادا کیا۔
آج یہاں مجھے یہ اعتراف بھی کرنا ہے کہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں میرا دل کبھی نہیں لگا تھا۔ میں بنیادی طور پر ایک قلمکار ہوں۔ اور جب بھی قلم میرے ہاتھ میں آتا ہے تو کاروبار کی تمام مصلحتیں میری سوچ سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنے 55برس کے تعلق میں صرف دو برس ایسے آئے جب حکومتِ وقت کے ساتھ میرے تعلقات ناخوشگوار نہیں تھے۔ میں 1994 اور 1995ءکی بات کررہا ہوں۔
ورنہ میرے قاری گواہ ہیں کہ جو لفظ پہلے میرے ذہن میں ابھرتا ہے میں اس کا قیدی بن جاتا ہوں۔
آج مجھے یوں ہی خیال آیا کہ میڈاس گروپ کے معماروں کو میڈاس کی 36سالگرہ پر مبارکباد دوں۔
یہ معمار میرے بیٹے انعام اکبر ’ آفتاب اکبر اور ندیم اکبر ہیں۔ ان کے ساتھ میرا بھانجا آصف الطاف بھی ہے جو میری بیٹی اسمٰی کا شریک حیات ہے۔ میڈاس ان کا مشترکہ اثاثہ ہے مگر یہ سب الگ الگ کمپنیوں کے سربراہ ہیں۔ سب کی شخصیات اور سب کے اہداف الگ الگ ہیں۔
میںنے اپنے لئے گھاٹے کا کاروبار منتخب کیا ۔
اخباری صنعت۔
مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرا لکھا ہوا ایک لفظ بھی میری قوم کے احساسات کی ترجمانی کررہا ہے تو مجھے ہر گھاٹا خوشدلی سے قبول کرلینا چاہئے۔
میرے لئے زندگی کا روبار نہیں۔

Scroll To Top