پنجاب کی تعمیر وترقی کا خواب

zaheer-babar-logozaheeصوبائی وزیر خزانہ پنجاب ڈاکڑ غوث پاشا نے صوبائی اسمبلی میںمالی سال 2017-18 کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ کے بعقول صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی قبل ازوقت تکمیل اور بچت حکومت کی ترجیحات رہیں جبکہ موجود بجٹ بھی عوامی فلاح کے لیے اٹھائے گے اقدمات کا عکاس ہے۔ ڈاکڑ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ بجٹ کا کل حجم 1970ارب اور 70کروڈ ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1017 ارب روپے مختص کیے گے ہیں۔“
وطن عزیز کے باشعور افراد اس سچائی سے آگاہ ہیں کہ بجٹ چاہے وفاقی ہو یا صوبائی ان کے لیے اس میں خیر کاپہلو کم ہی رہا۔ ایسا بھی ہوا کہ حسب معمول جون کا بجٹ پیش کیا گیا مگر پھر سال بھر منی بجٹ سامنے لاکر عوام کو بھرکس نکال دیا۔ بدقسمتی کے ساتھ سیاسی جماعتوں میںجمہوری روایات کے فقدان کے باعث ایسا اب تک نہیں ہوسکا کہ خود حکومتی اکابرین کے اندار سے تنقید کا رججان فروغ پائے۔ شومئی قسمت سے جی حضوری اور خوشامد کا کلچر ہر پارٹی میں اس حد تک فعال ہے کہ اختلاف کی جرات کسی کو بھی نہیں۔(ڈیک مسلم لیگ ن پنجاب میںکم وبیش 35سال سے موجود ہے۔ میاں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلی رہے اب تیسری مرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر فائز ہیں مگر صوبے کی تقدیر نہیں بدلی۔ حالت یہ ہے کہ پانچ دریاوں کی سرزمین میں شائد ہی ایسا شہر ہو جس کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہو۔(ڈیک)
صحت اور تعلیم کی حالت بھی کسی طور پر قابل رشک نہیں۔ صوبائی سرکاری محکموں میں بشیتر میں سے سفارش اور رشوت کلچر عام ہے۔ پنجاب پولیس کی بریریت اور وحشت کا بھی اک جہاں میں چرچا ہے غرض ایسا کچھ بھی نہیں جس سے صوبائی حکومت کی کارکردگی کو قابل رشک کہا جاسکے۔ہونا تو یہ چاہے تھا کہ اہل پنجاب کو بنیادی ضروریات زندگی اس انداز میں فراہم کی جاتیں کہ دیگر صوبوں میں رہنے والے اسے قابل رشک نگاہوں سے دیکھتے مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔
آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے ایک حصہ میں اگر سڑکوں اور پلوں کی بہتات ہے جبکہ دوسری طرف ٹوٹے پھوٹے راستہ اپنے مکینوں کا منہ چڑھا رہے۔ یہ صورت حال لاہور شہر کی بھی ہے مثلا کہا جاتا ہے کہ نہر کے ایک کنارے رہنے والے لوگوں کا معیار زندگی اور ہے جبکہ دوسرے طرف کے رہنے والوں کا کچھ اور ۔ یہی اصول شمالی پنجاب اور جنونی پنجاب پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے باسی جس کسمپرسی کے عالم میں جے رہے ہیں وہ اب راز نہیں۔ جھنگ، ملتان ،لیہ ، مظفرگرڈھ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے رہنے والے اہل لاہور جیسی زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ دراصل یہی وہ ناانصافی ہے جو صوبے کی حکمران جماعت کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی۔
ملک نوئے کی دہائی کا عرصہ گزار چکا لہذا اب مملکت خداداد پاکستان کو نئی طرح کے داخلی اور خارجہ مسائل درپیش ہیں ۔ اپنے مسائل اور حقوق بارے تیزی سے باخبر ہوتے باشعور شہریوں کو وعدوں اور دعووں سے بہلایا نہیںجاسکتا۔ شائد یہ تجزیہ درست ہو کہ پی ایم ایل این کو سیاسی محاذ پر سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک طرف گذشتہ چار سال سے وفاقی اور صوبائی حکومت متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی تو اب پانامہ لیکس کی شکل میں اسے بین الاقوامی مالیاتی سکینڈل کا سامنا ہے۔
دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں پی ایم ایل این کو بڑا چیلنج درپیش تھا چنانچہ لاہور اور راولپنڈی کے ان حلقوں میں بھی پی ایم ایل این کو ان اسمبلی نشستوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے جن کے متعلق عمومی تاثر یہ تھا کہ یہاں اسے شکست دینا ممکن نہیں ،یقینا زمینی حقائق بدل رہے ۔سیاست کو بھی معروضی حالات کے مطابق ہونا چاہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کی روش مثال موجود ہے کہ کیسے سابق صدر زرداری کی قیادت میں پارٹی مسلسل روبہ زوال ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پی ایم ایل این بارے ایک بیزاری کا عنصر بھی عوام میں موجود ہے۔ بار بار شریف خاندان کے حکومت میں آنے کے باوجود لوگوں کی مشکلات میں کمی نہ آنا انھیں یہ سمجھا رہا کہ شائد کچھ بہتر نہیں ہونے والا۔ حکمران جماعت کو دراصل ان عوامل پر گہری نگاہ رکھنا ہوگی جو اسے غیر مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہے۔ یقینا اگر ملک میںجمہوریت کے پودے نے پھلنا پھولنا ہے تو نمایاں سیاسی قوتوں کے لیے خود کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی شکل میںمسلم لیگ ن کے لیے سیاسی طور پر بڑی مشکل موجود ہے ۔ عمران خان نے جس جارحانہ انداز میں پی ایم ایل این اور پی پی پی کی سیاست کو بے نقاب کیا وہ دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ۔دراصل اب بھی وقت ہے کہ جمہوریت کی دعویدار قوتیں اپنے اندر حقیقی معنوں میں جمہوری روایات کو فروغ دیں ۔سیاست کے تجارت بن جانے کے تاثر کو اپنے عمل سے ثابت کریں۔ پنجاب اور سندھ کے رہنے والوں کو اچھی حکمران مہیا کریں۔ بینادی حکومتوں کا نظام پورے اخلاص کے ساتھ نافذ کیا جائے۔سیاست میں اپنے بندے آگے لانے کا رجحان ختم کرتے ہوے خالصتا میرٹ کو فروغ دیا جائے۔ موروثی سیاست اگر ناگزیر ہے تو اپنی نئی نسل کو مقامی حکومتوں سے آگے لایا جائے ۔ پہلے قابلیت اور تربیت کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد ہی ان کو بڑے عہدوں کے قابل بنانا ہی سیاسی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہوگا وگرنہ امکان یہی ہے کہ نتائج ”رہنماوں “کی توقعات کے برعکس ظاہر ہوں۔

Scroll To Top