ظلم رہے اور امن بھی ہو!

زین العابدین


مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضہ اور کشمیریوں سے باربار وعدہ کرنے کے باوجود اسکا کشمیریوں کے پےدائشی حقِ رائے دہی سے مسلسل انکار اےک طرف تو اسکے سےکولر اور جمہوری ریاست اور انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کے دعویٰ کی صریحاً نفی کرتا ہے تو دوسری طرف بھارتی قابض افواج نے حکومتی شہہ پرمقبوضہ وادی مےںریاستی دہشتگردی کا بازار گرم کر کے انسانی حقوق کی پامالیوں کو اپنا وطیرہ بناےا ہوا ہے جس کےلئے اسے کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے ذمہ دار فوجیوں کو قانون کے کٹہرے مےں لاکر قرار واقعی سزا دےنے کی بجائے انہیں اعزازات سے بھی نوازا جارہا ہے۔ کچھ دن پہلے مقبوضہ کشمیر سے منظرِ عام پر آنےوالی اےک ویڈیو نے دنیا بھر کے انسانیت نواز طبقوں اور ہر ذی شعور کوتشویش مےں مبتلاءکر دیا۔ اس ویڈیو مےں بھارتی قابض فوج کے اےک افسر مےجر لیتل گوگوئی کو بھارتی فوج پر پتھراو¿ کرنےوالے اےک کشمیری نوجوان کو اےک چلتی ہوئی فوجی جیپ کےساتھ باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دکھاےا گےاتھاجبکہ بھارتی فوجی یہ نعرے لگا رہے تھے کہ “پتھر بازوں کا یہی حشر ہو گا”۔ اس واقعہ پر جہاں دنیا بھر سے بھارتی قابض افواج کےخلاف شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور اسے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہیں انتہا پسندہندوو¿ں کیجانب سے بھارتی فوج کی اس حرکت کو پسندیدگی کی نگاہوں سے دےکھا جارہا ہے جو یہ بات ثابت کرنے کےلئے کافی ہے کہ کس طرح حکومتی پشت پناہی پر کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بناےا جاتا ہے اورانکی تذلیل کیجاتی ہے جبکہ انکے ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
BJPکی انتہا پسند حکومت کے نمائندوں نے اس واقعہ پرمجرموں کےخلاف تادیبی کارروائی کرنے کی بجائے ان کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اظہار کیاجو بھارت سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد مےں مصروف ہےں۔ اس واقعے کے بعد انتہا پسندحکومتی جماعت BJPکے رہنما رام مادھو اور چندرپرکاش گنگا کے دھمکیوں پر مبنی بےانات سامنے آئے جن سے بخوبی اندازہ لگاےا جاسکتا ہے کہ بھارتی سیاستدانوں کا کشمیر اور کشمیریوں کے بارے مےں کیا اےجنڈا ہے۔مذکورہ بالابہیمانہ واقعے کی ویڈیوپر تبصرہ کرتے ہوئے BJPکے جنرل سےکرٹری رام مادھو نے کہا کہ “محبت اور جنگ مےں سب جائز ہے “۔ ےقیناً کسی کشمیری پراےسا تشدد محبت کا اظہار تو نہیں ہو سکتا ۔یہ صرف اور صرف جنگ ہی ہو سکتی ہے ےعنی بھارت نہتّے کشمیریوں کےخلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے اےک وزیر چندر پرکاش گنگا نے اپنے اےک بےان مےں کہا کہ” ان کشمیری نوجوانوں کو جوبھارتی افواج پر پتھراو¿ کرتے ہےں ، گولی ماردےنی چاہیے۔” بھارتی سیاستدانوں کے ان بےانات سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ بھارتی قابض افواج نے نہتے کشمیریوں کےخلاف غےر اعلانیہ جنگ شروع کررکھی ہے جسکے نتیجے مےں بلا امتیاز عمر و جنس بےگناہ شہری بھارتی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہورہے ہےں جبکہ اےسے بیانات سے قابض افواج کے کشمیر دشمنی پرمبنی روےّے کو مزید تقویت اور کشمیریوں کو بلا خوف مارنے کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے جو پہلے ہی کالے قوانین کی چھتری تلے انسانی حقوق کو اپنے پاو¿ں تلے روند رہے ہےں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اس واقعے کے بعد بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت نے مےجر گوگوئی کو اس کارنامے پر تعریفی کارڈ دےنے کے فےصلے کا اعلان کیا تو انسانی حقوق کی پاسداری کرنےوالا ہر شخص ششدر رہ گےا کہ سر عام اکشمیری نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانےوالے کو کوئی کس طرح نواز سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم اےمنسٹی انٹر نےشنل نے بھی بھارتی فوج کے سربراہ کی طرف سے مےجر لیتل گوگوئی کو انعام دےنے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وادی مےں بھارتی قابض افواج وہاں ہونےوالی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کیجانب سے چشم پوشی سے کام لےتی ہےں۔ اےمنسٹی انٹرنےشنل کے اےگزےکٹو ڈائرےکٹر آکر پٹےل نے اپنے اےک بیان مےں کہا ہے کہ اےک اےسے فوجی افسر کو نوازنا جسکے خلاف انسانی حقوق کی پامالی اورتشدد کے الزامات کے تحت تفتیش کیجارہی ہو، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر اپنی افواج کے ظالمانہ، غےر انسانی اور ذلت آمےز سلوک اور تشدد کونظرانداز ہی نہیں کرنا چاہتا بلکہ حقیقت مےں وہ سرکاری سطح پر ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قیمت ادا کرکے اپنے فوجیوں کی حوصلہ افزائی بھی کررہا ہے۔بھارتی فوج کے سربراہ کے اس فےصلے سے مقبوضہ کشمیر مےں بھارتی افواج کے اہلکاروں کو یہ خطرناک پےغام پہنچا ہے کہ انہیں کشمیریوں کےساتھ غےر انسانی سلوک کرنے کی پوری اجازت ہے ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جائےگی اور انکے ہر سنگین جرم کو بآسانی نظرانداز کیاجاسکتا ہے۔آکر پٹےل نے بھارتی انتظامیہ کومشورہ دےتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجیوںکی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اس امر کو ےقینی بنائے کہ جو کوئی بھی انسانی حقوق کی پامالیوںکے جرم مےں ملوث ہو انصاف کے تقاضوں کے مطابق انہےں سول عدالتوں مےں قانون کے کٹہرے مےںکھڑا کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے بھی بھارتی فوج کے مےجر کو بھارت افواج کی جانب سے عزت و تکریم دےنے کے عمل کو تشویشناک اور شرمناک قرار دےتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنانا بھارت کی ریاستی پالیسی بن چکا ہے اور اگر اس روےّہ کا خاتمہ نہ ہوا تو اسکے خطرناک نتائج نکلےں گے۔مزید برآں انہوں نے عالمی عدالتِ انصاف سمےت انسانی حقوق کے تمام بےن الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ یہ انکی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی اقدار کی پاسداری کو ےقینی بنائےں۔
بھارتی افواج کے سابق جرنیلوں کی طرف سے بھی جنرل بپن راوت کے اس طرزِ عمل پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔لےفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ)ہرچرن جیت سنگھ پناگ نے اپنے اےک بیان مےں کہا کہ بھارتی قوم کا مزاج انسانی حقوق کی تنظیم اےمنسٹی انٹر نےشنل کی رواےات، اقدار اور قاعدے قوانین کو بہا کرلے گےا ہے۔کشمیری نوجوان کےساتھ کی گئی زیادتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت شرمناک واقعہ ہے۔ بھارتی فوج پر پتھراو¿کرنےوالے کشمیری نوجوان کے فوجی جےپ کےساتھ باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی تصویر بھارتی فوج اور قوم کو ہمےشہ شرمندہ کرتی رہےگی۔ سابق سفیر کرشنن چندر سنگھ نے اےچ۔اےس پناگ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مہذّب قوم، کی فوج کسی انسان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرسکتی۔بھارتی فوج کے کئی اور افسران کی طرف سے بھی یہی کہا جارہا ہے کہ یہ واقعہ خلافِ قانون اور فوجی کارروائی کے طے شدہ طریقہ¿ کار کی خلاف ورزی ہے۔کسی بھی اےسے بھارتی فوجی کو سرکاری سطح پر عزت دےناجو کسی کشمیری کےساتھ ظلم و زیادتی اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہوا ہوقابلِ مذمت فعل ہے۔
جہاں تک بھارتی قابض افواج پر کشمیری نوجوانوں کے پتھراو¿ کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ بھارت کےلئے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ کشمیری نوجوانوں، بچوں اور عو¿رتوں کیجانب سے اس طرز عمل پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے بھارت کو پچھلے ستر سال کی تاریخ کی ےاددہانی کرنا ہو گی۔ پتھراو¿ کے واقعات سے بھارت کو یہ اندازہ ہو جانا چاہیے کہ کشمیری بھارتی قبضے اور قابض افواج کی وادی مےں موجودگی کو سخت ناپسند کرتے ہےںاور اسے اپنی غلامی کی علامت کے طور پر دےکھتے ہےں جن سے وہ آزادی حاصل کرنا چاہتے ہےں۔ دوسری طرف بھارت اپنی چانکیائی مکاری سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ جاری رکھنے کےلئے ہر ہتھکنڈے کو آزما رہا ہے اورکشمیرےوں کے دل کی آواز کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دےتا ہے جس کا اظہار وہ مقبوضہ وادی کے ہر گلی کوچے اور سڑک پر کررہے ہےں ےعنی بھارتی غلامی سے آزادی۔بھارت کو پچھلی ستر دہائیوں کے تجربات سے کم از کم یہ آگاہی ضرور ہو جانی چاہیے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر مےںاسکی حےثیت اےک قابض قوت کی ہے اور اسکی افواج قابض افواج ہےں جنکے ہاتھوں پر لاکھوں معصوم کشمیریوں کا خون ہے، ہزاروں کشمیری خواتین کی آبرورےزی کا گناہ بھارتی افواج کے سر ہے اور لاکھوںکشمیری بھارتی افواج کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بن چکے ہےں اور آج بھی بن رہے ہےں۔ اےسے مےں بھارت اور اسکی قابض افواج کا کشمیریوں سے یہ امید کرنا کہ وہ بھارتی افواج کے اہلکاروں پر پتھراو¿ کرنے کی بجائے انکو خوش آمدید کہتے ہوئے پھولوں کے ہار پہنائےں گے احمقوں کی جنت مےں رہنے کے سوا کچھ نہیں۔

Scroll To Top