عدلیہ کو سوچ سمجھ کر نشانہ بنایا گیا ؟

zaheer-babar-logo
مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کا وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کا احتساب کرنے والوں کا یوم حساب بنانے کو محض دھکمی کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ ادھر پی ایم ایل این نے اس وڈیو کے سامنے آنے کے فورا بعد ہی نہال ہاشمی کی پارٹی رکنیت منسوخ کرتے ہوئے انھیں سینٹ سے استعفی دینے کے لیے بھی کہ ڈالا۔
سپریم کورٹ کے حکم کے تحت بنے والی جے آئی ٹی پر حکمران جماعت کے اعتراضات اب کسی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ پر نٹ والیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا پر یہ خبریں عام ہیں کہ حکمران جماعت جاری کاروائی سے خوش نہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کے پانچ میں سے دواراکین پر پی ایم ایل این کا اعتراض سامنے آچکا۔ جے آئی ٹی پر ڈھکے چھپے الفاظ میں جانبداری کا الزام بھی لگایا جارہا۔ سیاسی پنڈت کہہ چکے کہ پی ایم ایل این کو سیاسی محاذ پر شدید مشکلات درپیش ہیں چنانچہ وہ درپیش صورت حال سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے تازہ معاملہ پر درعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کا نہال ہاشمی کے خلاف ردعمل اور کاروائی مذاق ہے۔ بعقول ان کے یہ حمکران جماعت کی اپنی تربیت ہے جو اس بیان میں نظر آئی ۔ شازیہ مری کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن ماضی میں بھی عدالتوں پر حملے کرچکی ہے لہذا اپنے سینیٹر کے خلاف مسلم لیگ ن کی کاروائی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کے بیان کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پی ایم ایل این کے سینیٹر کو ذاتی حثیثت میں طلب کرلیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ وطن عزیز میں قانون کی بالادستی کا خواب آخرکیونکر پورا ہوگا جب سیاسی جماعتوںمعزز اراکین خود ہی قوائد وضوابط کو پامال کرنے میں ملوث پائے جائیں گے۔ معاملہ یہ نہیں کہ نظام عدل میں اعلی ترین عہدوں پر براجمان حضرات کو دھونس دھمکی ذاتی حثیثت میں دی گی یا کسی کے ایماءپر۔تشویش اس پر ہے کہ آخر ایسی نوبت آتی ہی کیوں ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیںجب پی ایم ایل این کے سینیٹر مشائد اللہ نے عسکری قیادت کے خلاف ایسے الزامات عائد کیے جس کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کو بھی وزارت کے منصب سے الگ کر ڈالا۔
ملکی سیاسی جماعتوں میںپارٹی سربراہ کی مضبوط گرفت سے باخبر حلقہ یہ تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں کہ آئے روز قومی اداروں کے خلاف کہے جانے والے الفاظ کسی فاضل رکن کی ذاتی رائے ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ پی ایم ایل این چونکہ کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں موجود ہے لہذا وہ اس کا بات کا باخوبی ادراک رکھتی ہے کہ کون سی چال کس وقت چلنی ہے چنانچہ معاملہ ڈان لیکس کا ہو یا مشائد اللہ خان و نہال ہاشمی کے متازعہ بیانات کچھ بھی اتفاقیہ نہیں۔
بلاشبہ جب نظام کمزور ہوگا تو افراد طاقتور کہلائیں گے ۔ وطن عزیز کی جمہوریت کی بھی یہی کمزوری ہے کہ وہ اب تک افراد کے چنگل سے باہر نہیں آسکی۔ ملک کی بشیتر سیاسی و مذہبی جماعتیں لمٹیڈ کمپنیوں کی شکل میں موجود ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ جب کسی پارٹی میں جمہوریت نہیں ہوگی تو وہ کیونکر جمہوری کلچر کو حقیقی معنوں میں پروان چڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرپائے گی۔ کون انکار کرسکتا ہے کہ دنیا بھر جمہوری ریاستوں میں جواب دہی کا قانون پوری قوت سے موجود ہے۔ وزیراعظم ہو یا حکومت کا کوئی بھی اہم رکن ہر کسی کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلسن کا ایسا نظام موجود رہتا ہے جو کسی کو بھی اپنی مقررہ حدود وقیود عبور نہیں کرنے دیتا مگر ترقی پذیر ملکوں کی جمہوریت اس خوبی سے محروم ہیں ۔ تیسری دنیا میں جمہوریت کے نام پر مخصوص ٹوالہ برسراقتدار ہے جو اپنے مفادات سے کسی طور پر دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ آمرانہ زھن رکھنے والے اس گروہ کے لیے اول وآخر اپنے مفاد ہی عزیز ہیں لہذا بہت بار ثابت ہوچکا کہ طاقتور اشرافیہ کے لیے قومی تقاضے ثانوی اہمیت کے حامل ہیں۔
وطن عزیز میں جمہوری نظام بہتری کی جانب رواں دواں ہے۔ اس سے مکمل بہتری کی امید کرنا شائد درست نہیں۔ جو کام ہمارے زمہ داروں کو کرنا ہے وہ یہ کہ ہر سطح پر جوابدہی کا عمل شفاف بنایا جائے۔کمزور کو طاقتور کے مقابل لانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ہر سطح پر انصاف فراہم کیا جائے۔ پانامہ لیکس کا آخری فیصلہ بھی عام پاکستانی کو یہ پیغام دے گا کہ مسقبل کا پاکستان کیسا ہوگا۔
نہال ہاشمی کی انصاف کے قومی اداروں پر بارے تنقیدکو کسی طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہے۔معاملہ کا گہرائی میں جائزہ لے کر ہی ان خرابیوں کو دور کیا جاسکتاہے جو ہمہ وقت کسی نہ کسی شکل میںاپنی موجودگی کا احساس دلارہیں۔اس ضمن میں سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس لینا بتا رہا کہ عدالت عظمی ایسے معاملات بارے کس قدر حساس ہے ۔ یہ سمجھنے کے لیے بقراط ہونا لازم نہیں کہا اگر ہر کوئی اٹھ کر نظام انصاف کو دھمکی دیتا رہیگا تو عام آدمی کا قومی اداروں پر بھروسہ کیونکر قائم رہ سکتا ہے۔(ڈیک) درست کہا جارہا ہے کہ نہال ہاشمی کے بیان کو بھی ماضی کے دیگر اہم معاملات کی طرح سرد خانہ کی نظر نہیںہونا چاہے۔ دراصل قوم کے لیے جاننا ضروری ہے کہ کون سی وہ قوتیں ہیں جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے کسی طور پر جواب دہی کے لیے تیار نہیں۔ (ڈیک)

Scroll To Top