کون بے وقوف پھانسی کے تختے پر خود پہنچتا ہے اور خود اپنے گلے میں پھندا ڈالتا ہے !!

aaj-ki-baat-new-21-aprilaj
حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے چھ گھنٹے گزارنے کے بعد جب باہر آئے اور میڈیا سے مخاطب ہوئے تو انہوں نے باقی ساری باتوں کے ساتھ دو باتیں ایسی کہیں جو میری توجہ کا باعث بنیں اور جن میں میرے خیال کے مطابق قوم کے لئے ایک واضح پیغام چھپا ہوا تھا۔۔۔
ایک بات تو یہ کہ ” میں تمام وہ دستاویزات پیش کردوں گا جو قانون کے دائرے میں ہوں گی۔۔۔ اور ایسی کوئی دستاویز پیش نہیں کروں گا جو قانون کے دائرے سے باہر ہوگی۔۔۔“
اور دوسری بات یہ کہ ” انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگرمیں نے مناسب سمجھا تو واپس سپریم کورٹ سے بھی رجوع کروں گا اور عوام کے پاس بھی جاﺅں گا۔۔۔“
ان دو باتوں سے میں نے یہ نتیجہ خذا کیا ہے کہ ابھی تک حسین نواز نے جے آئی ٹی کو وہ تمام دستاویزات پیش نہیں کیں جو اُن سے مانگی گئی ہیں۔۔۔ اور نہ ہی وہ ایسی کوئی دستاویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن سے ” مے فیئر فلیٹوں“ کی ملکیت کے حقائق کا سراغ مل سکے۔۔۔
مجھے یوں لگا جیسے وہ دنیا سے کہہ رہے ہوں۔۔۔” آپ نے کبھی دیکھا کہ کسی نے پھانسی کے تختے پر پھندا خود اپنے گلے میں ڈالا ہو ؟ پھانسی پر چڑھنے والا تو بے بس ہوتا ہے۔۔۔ آپ کیسے یہ توقع کررہے ہیں کہ میں پھانسی کے تختے پر خود پہنچوں گا اور وہاں پہنچ کر خود پھندا اپنے گلے میں ڈالوں گا ۔۔۔؟“
میری رائے حسین نواز کے بارے میں بہت اچھی ہے۔۔۔ اُن کا کوئی قصور نہیں کہ وہ اتنے امیر او طاقتور خاندان میں پیدا ہوئے اور انہیں اتنی بڑی جائیداد کا مالک بنا دیا گیا ۔۔۔ وہ خود بھولے بھالے آدمی ہیں۔۔۔او ر اپنے بھولپن میں وہ تو یہ سچ بھی بول گئے کہ الحمدُللہ سارے کے سارے فلیٹ ہماری ملکیت ہیں۔۔۔“
باقی شریف خاندان کو ڈر یہی ہے کہ اگر حسین نواز اکیلے جے آئی ٹی کے سامنے جاتے رہے ور وکیل ان کی معاونت کرنے کے لئے موجود نہ ہو ا تو وہ کسی نہ کسی سوال کے جواب میں سچ بول جائیں گے۔۔۔
30مئی 2017ءکو تو وہ بولنے سے ہی احتراز کرتے رہے۔۔۔ مگر یہ معاملہ ان کے والد کی وزارت ِ عظمٰی کا ہے جنہیں بچانے کے لئے وہ کسی بھی مرحلے پر کوئی نہ کوئی ایسا سچ بول جائیں گے جو ان کے خیال میں بے ضرر ہوگا۔۔۔ مگر جویا تو ان کی ہمشیرہ کویا ابا جان کو نئی مصیبت میں ڈال دے گا۔۔۔
اور جو بات انہو ںنے سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کی کہی ہے ` اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے خاتمے کو اپنا ہدف بنائے رکھیں گے۔۔۔ اگر سپریم کورٹ نے پھر مایوس کیا تو وہ عوام کے پاس جائیں گے۔۔۔
” عوام کی عدالت “ کی عظمت کا نعرہ نون لیگیوں کا پسندیدہ نعرہ ہے۔۔۔ یہ نعرہ انہیں پسند اس لئے ہے کہ وہ جب بھی انتخابات میں گئے ” الحمدُللہ “ فرشتوں کی حمایت کے ساتھ گئے۔۔۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہیں عوام کی اس عدالت کو بھی یاد کرلیناچاہئے جو رومانیہ کے صدر چوسسکو کو محل سے گھسیٹتی ہوئی چورا ہے تک لے گئی تھی!

Scroll To Top