عمران خان قیمت دینے کو تیار ہیں ۔۔

zaheer-babar-logoسپریم کورٹ نے عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیازی سروس لمیڈ کی تفصیلات ایک ہفتے کے اندار اندار فراہم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو مبینہ طور پر بیرون ملک سے ملنے والی فنڈنگ بارے الیکش کمیشن سے پوچھا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو کون سا فورم اس کی سماعت کریگا۔؟
پانامہ لیکس وزیراعظم اور ان کے خاندان کا نام آنے پر عمران خان نے جس انداز میں تن تنہا احتجاجی تحریک برپا کی اس کے نیتجے میں معاملہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا۔ عدالت عظمی نے عوامی خواہشات کا احترام کرتے اور آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اہم معاملہ کی سماعت کا بیڑا اٹھایا۔ پانچ رکنی بینچ میں دو فاضل جج صاحبان نے وزیراعظم کے مالی معامملات مشکوک قرار دیتے ہوئے انھیں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے ڈالا۔ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس سے متعلق اپنے حکم میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا بھی حکم دیا جس پر ہر دو ہفتے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی شرط عائد کی گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سے ان کے گھر بنی گالہ کے لیے اراضی خریدنے کے لیے رقم اور بیرون ملک سے مبینہ طور پر پارٹی فنڈنگ حاصل کرنے کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے۔ اگرچہ سابق رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان پر قائم کیا گیا مگر عام تاثر یہی ہے کہ اس تمام عمل کے درپردہ حکومت کی اہم شخصیات کا عمل دخل ہے۔ ملک کا سیاسی منظر نامہ اس وقت دلچیسپ منظر پیش کررہا ۔ ایک طرف وزیراعظم نوازشریف اور ان کا خاندان اپنے مالی اثاثہ جات کے لیے قانون کے کہڑے میں موجود ہے تو دوسری طرف عمران خان سے پوچھ گچھ کا عمل جاری ہے۔
وطن عزیز کے روشن اور محفوظ مسقبل سے مایوس ہونے والوں کے لیے یہ عمل یقینا امید افزاءہے۔قومی سیاست میں جواب دہی کا جو عمل شروع ہوا اب شائد ہی یہ تھم سکے۔دراصل عدالت عظمی نے پانامہ لیکس جیسے اہم مقدمہ کی سماعت کرکے ایسے سیاسی تنازعہ کو حل کرنے کی زمہ داری اپنی سر لی ہے جو قومی سیاست کا رخ موڈ سکتا ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ نظام عدل کو اس مقدمہ کی اہمیت کا ادراک نہیں شائد اسی لیے آنے والے بہتر دنوں کی نوید سنانے والے تو یہاں تک کہہ رہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی سے پوچھ گچھ کا عمل کسی طور پر رکنے والا نہیں۔
یہ نقطہ سمجھ لینا ہوگا کہ دنیا کے کسی بھی حقیقی جمہوری ملک میں اس کا تصور ہی نہیںکیا جاسکتا کہ سیاست کے بڑے بڑے نام جواب دہی سے مبرا کہلائیں یعنی قائدین کہلانے والوں کے اپنے دامن کسی طور پر صاف نہ ہوں۔ بلاشبہ قیادت کا منصب اسی کو زیبا ہے جس کا اپنا دامن پاک ہوں۔ پانامہ لیکس کا مقدمہ ہمارے زمہ داروں کو خود احتسابی کی دعوت دے رہا تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سیکنڈل سے کس حد تک بہتر ظاہر ہونے کی امید ہے۔
سیاسی وقانون مبصرین عمران خان کے اس بیان کو خاصی اہمیت دے رہے کہ ”جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ میں آگ سے کھیل رہا ہوں اور نااہل ہوسکتا ہوں تو پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کی یہ بہت تھوڈی قیمت ہوگی“۔ توقعات کے عین مطابق حکومتی اراکین عمران خان کا سوشل میڈیا پر اس قسم کے اظہار خیال کو پی ٹی آئی سربراہ کی پسپائی سے تعبیر کررہے مگر دوسری طرف ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کی سیاسی جدوجہد گواہ ہے کہ عمران خان ہتھیار نہیں پھینکے گے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ حالات جس طرف جارہے اس کے نتیجے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یا تو وزیراعظم پاکستان اور عمران خان دونوں کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا پھر دونوں اس بحران سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔ حکمران جماعت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ وفاق اور پنجاب میں برسراقتدار ہے۔ بنیادی عوامی مسائل حل نہ ہونے سے عام آدمی کے غم وغصہ کا بھی اسے سامنا ہے۔زیادہ دور کیوں جائیں لوڈشیڈنگ کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پی ایم ایل این یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتی تھی کہ وہ حکومت میں آتے ہی نہ صرف بجلی کا مسلہ حل کردے گی بلکہ اضافی بجلی پڑوسی ممالک کو بھی سپلائی کی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ آج چار سال گزرنے کے باوجود وہ وعدے اور دعوے کیونکر پورے نہیں ہوسکے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ پر لاکھ اعتراض اٹھائے جانے کے باوجود اس حقیقت کو کسی طور پر نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ عمران خان کبھی حکومت میں نہیں آئے۔ طویل سیاسی جدوجہد کے بعد دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ان کی سیاسی جماعت اس قابل بنی کہ خبیر پختوانخواہ میں حکومت بنا سکے اس کے برعکس مسلم لیگ ن کم وبیش تیس سال سے قومی سیاست میں متحرک ہے۔ سابق صدر پرویزمشرف کے دور اقتدار کو نکال کر شائد ہی کوئی وقت ایسا گزرا جس میں پی ایم ایل این اقتدار سے لطف اندوز نہ ہوئی ہو۔ دراصل یہ وہ خوبی ہے جو آج حکمران جماعت کے لئے بڑا امتحان بن گی۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے مالی معاملات ایک پاکستانی کی حثیثت سے نہیں بلکہ اس خاندان کے طور پر دیکھے جارہے جو کئی دہائیوں سے برسرا قتدار رہا دراصل یہ وہ پہلو ہے جو عام پاکستانی کے علاوہ نظام انصاف کے پیش نظر بھی ہے)

Scroll To Top