پانامہ لیکس اور بہتری کی امید

zaheer-babar-logoپانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائے گے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے وزیراعظم کے نوازشریف صاحبزادے کی جانب جے آئی ٹی کے دو اراکین کی جانب سے کیے جانے والے اعتراضات کو مسترد کردئیے ہیں۔ فاضل عدالت کا کہنا تھا کہ محض شکوک وشبہات کی بنیاد پر کسی بھی رکن کو تحقیقاتی ٹیم سے نہیں نکالاجاسکتا۔ یاد رہے کہ حسین نواز کو تحقیقات ٹیم نے رواں ماہ 30 مئی کو پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام دستاویزات ہمراہ لے کرآئیں۔“
بظاہر پانامہ لیکس کی تحقیقات کا عمل جاری ہے مگر قومی میڈیا میں اس کی پذائری ماضی کے دنوں کی نسبت کم ہوچکی۔ یاد ریے کہ پانامہ لیکس کی سماعت کرنے والے پانچ میں سے تین ججوں نے میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے مالی معاملات کی مذید تحقیقات کرنے جبکہ دو نے وزیراعظم پاکستان کے مالی معاملات مشکوک قرار دیتے ہوئے انھیں عہدے سے ہٹائے جانے کی سفارش کی تھی۔توقعات کے عین مطابق اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نوازشریف سے قانونی نہ سہی مگر اخلاقی بنیادوں پر اپنے منصب سے مستفی ہونے کا مطالبہ کیا جو امیدوں کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے مسترد کردیا۔
وطن عزیز میں پانامہ لیکس کی سماعت ایسے موقعہ پر ہورہی جب مملکت خداداد پاکستان کا شائد ہی کوئی باشعور شہری ہو جو یہاں کے طاقتور افراد کے خلاف بھرپور قانونی کی امید رکھتا ہو۔یہ تاثر عام ہے کہ قانون صرف غریب کے لیے ہے۔ ملک کی جیلوں میں ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں قیدی موجود ہیں جو معمولی جرائم کے پاداش میں سالوں سے پابند سلاسل ہیں۔بسا اوقات تویہ بھی ہوا کہ گھر کا واحد کفیل جیل جانے کے سبب پورے کا پورا خاندان مسائل کا شکار ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسوں کی کون داد رسی کریگا۔ کون انھیں انصاف دیگا۔ اس کا فیصلہ کب اور کیسے ہوگا کہ واقعتا وہ بے گناہ تھے بھی نہیں۔
حضرت علی کے اس قول کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ ریاست کفر پر تو قائم رہ سکتی ہے ناانصافی پر نہیں“۔جب طاقتور شخص کے آگے قانون موم کی ناک ثابت ہوجائے اور کمزور پر چڑھ دوڈے تو اس مملکت کے روشن اور محفوظ مسقبل کی پیشنگوئی کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ ہمارے زمہ داروں کو دل ودماغ کھول کر حالات کا مشاہدہ کرنا ہوگا ۔ ملک کے باشعور طبقہ میں پائی جانے والی اس بے چینی کا ازالہ کرنا چاہے جو جا بجا اپنی موجودگی کا احساس دلا دہی۔
پانامہ لیکس بارے ہر کوئی جان لے کہ یہ ملکی نہیںبین الاقوامی سیکنڈل ہے۔ درجنوں ممالک کے سربراہان مملکت یا کاروباری افراد کے اثاثہ جات ظاہر کردئیے گے ۔ پانامہ لیکس بارے اب تک کی ہر سماعت کو بین الاقوامی میڈیا نمایاں کوریج دے رہا۔ اس ضمن میں بی بی سی ادود کی نشریات کو ثبوت کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہا جارہا کہ اگر اس عالمی مالیاتی سیکنڈل میں چار سو سے زائد پاکستانیوں سے آف شور کمپنی بنانے کے لیے منی ٹریل بارے نہیں پوچھا جاتا تو شائد پھر مسقبل میں بہتری کی امید نہ رکھی جائے۔ وطن عزیز میں سیاست بڑی حد تک تجارت ہے۔ جب ملک کے معروف سرمایہ دار بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاسی کھیل میں متحرک ہوں تو یہ امید کرنا عبث ہے کہ یہ حکمرانی کا کھیل عام آدمی کی فلاح وبہبود کو مقدم رکھے گا۔دراصل یہی وہ تلخ سچائی ہے جو اس سچائی کو بے نقاب کرچکی کہ الیکشن لڑنا اب عام پاکستانی کے بس میں نہیںرہا۔ انتخاب قومی ہو یا صوبائی اس کے لیے کروڈوں روپے لازم ہوچکے۔ بلاشبہ سیاست کو امراءکا کھیل سوچ سمجھ کر بنایا گیا۔ حزب اقتدارہو یا حزب اختلاف سب ہی وابستہ حضرات باخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے مفادات اسی وقت محفوظ رہ سکتے ہیں جب اسے عام آدمی سے دور رکھا جائے۔ ملکی سیاست کو گہرائی تک جانے والے جانتے ہیں کہ یہاں اختلافات محض سطحی نوعیت کے ہیں۔ اندرون خانہ حکومت و اپوزیشن کے کئی اراکین برنس پارٹنر ہیں۔ سیاسی کشیدگی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی محض ووٹر کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ پانامہ لیکس کا معاملہ اس ایک شخص کی وجہ سے اب تک زندہ ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اگر پی ٹی آئی کے چیرمین اس معاملہ میںکسی قسم کی کمزور دکھاتے تو شاےد یہ عالمی سکینڈل ماضی کا حصہ ہوتا۔ دراصل اصلاح احوال کے لیے کی جانے والی کوششوں میں سب ہی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملکی میڈیا ، سیاسی جماعتیں اور سب سے بڑھ کر اہل فکر ونظر آگے بڑھ کر قوم کی رہنمائی کریں۔ سمجھ لینا چاہے کہ جمہوریت میں کسی مخصوص خاندان یا شخص کو ناگزیر سمجھنا دراصل اس نظام کی روح کے خلاف ہے۔ نئے چہروں کو سامنے آنا اور آزمانا ہرگز جمہوری اصولوں کی خلاف وزری نہیں۔
شائد وقت آگیا ہے کہ کرپشن اور سیاست کے درمیان کسی قسم کا کوئی تعلق نہ روا رکھا جائے ۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ بدعنوانی کسی مخصوص سیاسی خاندان یا شخصیت سے وابستہ ہے۔ عام پاکستان باخوبی جانتا ہے کہ یہاں پل پل اسے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو تکلیف دہ ہونے کے ساتھ ساتھ شرمناک بھی نظر آتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سچ یہی ہو کہ کسی بھی ریاست میں بدعنوانی کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن نہیں مگر اس کا حجم ضرور کم کیا جاسکتاہے۔ پانامہ لیکس نے ہمیں ایسا ہی موقعہ دیا ہے کہ ہم بدعنوانی کی روک تھام کے لیے قومی سطح پراپنی سنجیدگی ثابت کرڈالیں ۔)

Scroll To Top