پانامہ لیکس: جے آئی ٹی نے حسین نواز کو کل دوبارہ طلب کر لیا

  • دبئی جدہ اور قطر میں کاروبار اور لندن فلیٹس کے متعلق سوالات ، حسین نواز نے جوابات کیلئے مہلت مانگ لی , جس پرانہیں ایک سوال نامہ اس تاکید کے ساتھ دیدیا گیا کہ آئندہ پیشی پر اسکے جوابات داخل کرنا ہونگے
  • یاد رہے کہ حسین نواز کے مطابق جے آئی ٹی کے دو ممبران ایس ای سی پی کے نمائندے بلال رسول موجودہ حکومت کیخلاف بیان بازی میں ملوث رہے ہیں جبکہ ا سٹیٹ بینک کے عامر عزیز مشرف دور میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے

حسین نوازاسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز پانامہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کے باوجود اس کے سامنے پیش ہو گئے، ٹیم نے دبئی جدہ اور قطر میں کاروبار اور لندن فلیٹس کے متعلق سوالات کئے، حسین نواز نے جواب دینے کیلئے مہلت مانگ لی، تیس مئی کو دوبارہ طلب کر لیا گیا۔۔حسین نواز پیشی کیلئے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تو مسلم لیگ ن کے رہنماء اور کارکن ان کے استقبال کیلئے موجود تھے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جے آئی ٹی نے 24 گھنٹے کے نوٹس پر بلایا، مناسب وقت نہیں دیا۔ذرائع  کے مطابق، تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم کے صاحبزادے سے دبئی اور جدہ کی سٹیل ملز، قطر میں کاروبار اور لندن فلیٹس پر سوالات کئے۔ حسین نواز نے جواب دینے کیلئے وقت مانگا تو انہیں ایک سوال نامہ دیا گیا اور ان کے جوابات تیس مئی کو اگلی پیشی تک دینے کی ہدایت کی گئی۔ وہ پیشی کے بعد پچھلے دروازے سے چلے گئے۔ ۔بیان ریکارڈ کرانے سے قبل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے بیٹے حسین نوازکا کہنا تھا کہ اپنے وکیل کے ساتھ آئے ہیں اورفی الحال کسی مفروضے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔حسین نواز کا کہناتھاکہ انہیں کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا اور بغیرسوالات،دستاویزات کے انہیں 24گھنٹے کے اندر طلب کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کے سامنے اپناموقف پیش کروں گا ۔۔ پانامہ جے آئی ٹی پر وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز نے اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے ہیں ، اعتراضات میں جے آئی ٹی کے دو معزز ممبران پر اعتراضات کیا گیا ہے۔رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرائے گئے اعتراضات 5 صفحات پر مشتمل ہیں جس میں حسین نواز نے جے آئی ٹی کے دو معزز ممبران پر اعتراضات اٹھائے ، درخواست میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی میں ایس ای پی کے نمائندے بلال رسول کی سیاسی وابستگیاں ہیں، بلال رسول پی ٹی آئی رہنما میاں اظہر کے بھتیجے ہیں، میاں اظہر پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنماو¿ں میں سے ہیں ، سرکاری ملازم ہونے کے باوجود بلال رسول موجودہ حکومت کیخلاف بیان بازی کرتے ہیں ، بلال رسول کی اہلیہ بھی پی ٹی آئی کی متحرک کارکن ہیں ، حسین نواز نے بلال رسول کی اہلیہ کے فیس بک اکاونٹ کی تفصیلات بھی فراہم کر دیں ، بلال رسول کی اہلیہ فیس بک پر پی ٹی آئی کے حق میں پوسٹیں کرتی رہی ہیں ، جے آئی ٹی میں نامزدگی کے بعد بلال رسول کی بیوی نے فیس بک سے پوسٹیں ہٹا دیں۔سٹیٹ بینک کے عامر عزیز مشرف دور میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے ، عامر عزیز نے تحقیقات کے دوران وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو دھمکایا تھا، ممبران کی دھمکیاں جے آئی ٹی کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہیں ، عدالت عظمیٰ انصاف اور برابری کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف تحقیقات کی ہدایت دے۔ ۔دریں اثناء پاناما کیس میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز سے ان کی بیانات کی روشنی میں 30 مئی تک متعلقہ دستاویزات مانگ لیں۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے حسین نواز سے نیلسن،نیسکول کمپنیوں سے متعلق سوالات کئے ،اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے کے بیان کے نکات ان کے وکیل سعد ہاشمی نے درج کئے۔جے آئی ٹی نے حسین نواز سے مے فیئر فلیٹس اور بیرون ممالک کی گئی سرمایہ کاری کے متعلق تفصیلات بھی پوچھیں۔ذرائع کے مطابق حسین نواز سے ہونے والی پوچھ گچھ کے دوران سعد ہاشمی نوٹس بھی لیتے رہے

Scroll To Top