ا سفارتکاروں اور سفیروں کی جانوں کی خصوصی حرمت اسلام کا شعار ہے،سعودی مجلس ھیتہ کبار العلماء

سید ثاقب علی شاہ


سلامی تعلیمات انسانی جان کی حرمت اور عظمت کا مظہر ہیں۔تمام انسانوں کی جانوں کا تقدس ، بلخصوص سفارتکاروں اور سفیروں کی جانوں کی خصوصی حرمت اسلام کا شعار ہے۔سعودی مجلس ھیتہ کبارالعلماء کے جنرل سیکرٹریٹ نے ایک فتویٰ جاری کیا، کہ اسلام میں ہر زندگی مقدس ہے اور اسلام میں سفارتکاروں کی جانوں کی خصوصی حرمت کا حکم ہے۔ انسانی زندگیوں کے قتل کی اللہ کی طرف سے ممانعت ہے اور یہ گناہوں میں ایک بڑا گناہ ہے۔کسی بھی جواز کے تحت مقدس زندگی کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اور اس کی حرمت کے استحقاق میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مسلمان ملک میں کسی معاہدے کے تحت موجود ہوں۔ نبی اکرم نے خبر دار کیا کہ”جو کوئی مقدس جان سے ±برا برتاو کرےگا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھ سکے گا”۔اسلام سفارتکاروں کے ساتھ محفوظ طرز عمل کو فوقیت دیتا ہے اورمسلمان ممالک میں کسی بھی ملک کے نمائندے پر ہر طرح کے حملے کی ممانعت کرتا ہے۔اسلامی فقہ میں سفارتی استثنٰی کا تحفظ قانون کی صورت میں موجود ہے جو مکمل طور پر قرآن و سنت کی تعلیمات سے اخذ کیا گیا ہے۔تاہم القاعدہ ، داعش اور دیگر دہشتگردوں کا سفارتکاروں اور سفیروں کو قتل کرنا اسلامی تعلیمات سے واضح انحراف ہے۔
بعض اوقات جب مسلمانوں کا غم وغصہ ان میں اشتعال کا باعث بنتا ہے تو شدت پسندوں کی ایک قلیل تعداد بعض ممالک کے سفارتخانوں پر حملہ آور ہوجاتی ہے۔نتیجتاً یہ اقدامات دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی منفی تصویر پیش کرتے ہیں اور اسلام کے پیروکاروں کو پ±رتشدد تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے غم و غصے کا پرامن اظہار ہر طرح سے قانونی ہے مگر سفارتکاروں اور سفیروں پر حملے نبی کریم کی سنت اور اسلامی قانون کے خلاف ہیں۔ متعدد مسلم ممالک میں مغربی سفارتخانوں کے خلاف بڑھتا ہ±وا پ±رتشدد رویہ ۱۹۹۸ میں تنزانیہ اور کینیامیں امریکی سفارتخانوں پر حملوں سے شروع ہوا۔ اسی طرح ۲۰۰۲ سے ۲۰۰۶ تک کراچی میں امریکی کونسل خانے پر متعدد دہشت گرد حملے اور ۲۰۱۰ میں تحریک طالبان پاکستان کا پشاور میں امریکی سفارتخانے پر حملہ سفارتکاری کے اسلامی اور شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔اسلام میں سفارتکاورں اور سفیروں کی حفاظت اور احترام کی انتہائی اہمیت ہے اور اس کی خلاف ورزی پر انتہائی سنگین سزا کا ااطلاق ہوتاہے۔یہ اصول بین الاقوامی تعلقات کے اسلامی نقطئہ نظر کا حصہ ہیں اور دنیا میں بین الاقوامی قانون کی اولین مثال ہیں جن کا قیام اس وقت ہوا جب نہ تو اقوام متحدہ موجود تھی اور نہ ہی جنیوا کنونشن اور ریاستوں کے مابین تعلقات انتہائی محدود تھے۔تاہم تمام مسلمان اس کی پیروی کے پابند ہیں چاہے کوئی مخالف ملک اس کی پابندی کرے یا نہ کرے۔
اسلام سے قبل سفارتکاری محدود اور اخلاقی اصولوں سے محروم تھی۔ بعدازاں اسلام نے سفارتکاری کو جامع شکل دے کر اس کے دائرہ کار کو بڑھایااور اخلاقیات کا جامعہ پہنا کر جدید طرز کی سفارتکاری کی بنیاد رکھی۔جنگ ،امن اور معاہدوں کے علاوہ اسلام نے جنگی قیدیوں اورانسانیت کی بھلائی کےلئے بین الاقوامی تعاون جیسے مسائل کو سفارتی دھارے میں لا کر سفارتی استثنٰی کا بھی تعین کیا۔سفارتکاری میں اعلیٰ اخلاقیات کی مثالیں قرآن وسنت سے واضح ہیں۔ سورہ الحجرات میں ارشاد ہے، ” اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو،بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے”(۱۳ :۴۹)۔یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تمام ممالک کا ایک دوسرے کی پہچان کےلیے تعلقات استوار کرنا ضروری امر ہے۔اس میں اس بات کی بھی وضاحت ہے کہ ہمیں سفارتکاروں اور سفیروں کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرنا چاہیے تاکہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل کرسکیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم انسانی تاریخ کے وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے حقیقی معنوں میں بین الاقوامی سفارتکاری کے عمل کا آغاز کیا۔ آپ نے دنیا کے شہنشاہوں اورحکمرانوں سے تعلقات قائم کرنے، انھیں اسلام کی دعوت دینے اور دنیا میں عدل قائم کر نے کےلیے سفارتکاروں سے کام لیا۔آپ نے سلطنت روم کے شہنشاہ ہرقل ، سلطنت فارس کے شہنشاہ خسرو،مصر کے حکمران فرعون،حبشہ کے شہنشاہ نجاشی اور دیگر حکمرانوں کو اسلام قبول کرنے اور عدل قائم کرنے کے لیے خصوصی سفارتکاروں کے ذریعے خطوط بھیج کر سفارتکاری کی تاریخ میں نمایاں پیش رفت کی۔یہ سلسلہ آپ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی بڑے پیمانے پر جاری رہا۔اس طریقے سے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رکھی گئی اور دور جدید میں اقوام متحدہ کا قیام بھی اسی عمل کے عروج کی ایک وجہ ہے۔
اسلام سفیروں اور سفارتکاروں کو خصوصی استثنی دینے کا پ±رزورحامی ہے۔نبی اکرم اور خلفائےراشدین غیرملکی سفارتکاروں کا پرتپاک طریقے سے استقبال کرتے اور انکےساتھ عزت و تعظیم کا برتاو کرتے تھے۔سفیروں کے احترام کی نشاندہی اس بات سے واضع ہوتی ہے کہ آپ نے اپنے دور میں ایک عیسائی وفد کو مسجد میں عبادت کی اجازت دی۔اسی طرح مشہور جنگ موتیٰ کا پس منظر آپ کے تعین کردہ خصوصی سفیر اور موتیٰ کے حکمران حارث بن سہیل کا قتل ہے جن کے قاتل کو سزا دینے کے لیے آپ نے ایک لشکر کو روانہ کیا۔سفارتکاری کے انہی اصولوں کے قیام کے لیے ۱۹۶۱ میں”ویانا کنونشن ” کو اختیار کیا گیا۔ اسلام کی بنیادی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ہر سطح اور تمام تر حالات میں عدل و انصاف کی بالادستی کا درس دیتا ہے۔ قرآن حکیم وا ضح طور پر مسلمانوں کو عدل کی تلقین کرتا ہے خواہ ان کا معاملہ کفار کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔سورہ المائدہ میں ارشاد ہے۔”اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاو، انصاف کے ساتھ گواہی دیتے رہو اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو۔انصاف کرو کہ وہ پرہیز گاری سے زیادہ قریب ہےاور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے”(۰۵:08)۔
سفارتکاروں اور سفیروں سے احسن معاملے کی ایک اور بہترین مثال آپ کے دور میں مسیلمہ الکذاب کی بغاوت کا واقعہ ہے جس نے آپ اور مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کی۔اس نے مسلمانوں کے خلاف لڑائی کر کے کئی مسلمانوں کو شہید کیا۔مسلمہ نے آپ کے خلاف انتہائی جارحانہ پیغام دے کر ایک سفارتکار کو مدینہ بھیجا۔جب صحابہ نے اس سفیر کو قتل کرنا چاہا تو آپ نے اسے نقصان پہنچانے کی ممانعت کی کیونکہ وہ اس وقت ایک سفیر تھا خواہ اس کا تعلق ایک باغی گروہ سے تھا۔ اس واقعہ کے بعد مسلمانوں نے سفارتکاروں اور سفیروں کے تحفظ اور استثنی کےلئے قوانین مرتب کیے۔نبی اکرم نے نجاشی شاہ حبشہ کی طرف کچھ مسلمانوں کو بھیجا اور انھیں اپنی سلطنت میں پناہ دینے کی درخواست کر کے نجاشی سے تعاون حاصل کیا جس سے بین الاقوامی تعاون کے اصولوں کو اخذ کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اسلام امن کے فروغ ، مذہب کی آزادی اور انسانی فلاح وبہبود کےلیے مضبو ط اور مستحکم ریاستوں کی باہمی تنظیم اور تعاون کے تصور پر یقین رکھتا ہے۔اسلام جو نظام زندگی کے تمام تر پہلوووں کا جامع طریقہ کار وضع کرتاہے وہ سفارتی میدان کے اصولوں کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟بلکہ اسلام نے سفارتکاری کو تقویت دے کر یہ اعزاز بخشا کہ یہ انسانی سماج کی بہبود کے عظیم مقصد کا ایک بہترین ذریعہ بن گئی۔ تمام مسلم ممالک کو اپنی عوام کو اس بات کی بھرپور آگاہی فراہم کرنی چاہیے کہ وہ سفارتی استثنٰی کی خلاف ورزی نہ کریں تاکہ وہ اسلامی شرعی قوانین کے انحراف سے محفوظ رہیں جو سفارتکاروں اور سفیروں کی خصوصی استنثٰی ، جان ومال کے تحفظ اور بین القوامی تعلقات کو فروغ دینے کا درس دیتے ہیں۔القاعدہ،طالبان و دیگردہشتگردوں کے سفارتخانوں اور سفیروں پر حملے اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔

Scroll To Top