سالانہ سرکاری بجٹ اعتبار کھو چکا ؟

بظاہر مسلم لیگ ن نے تاریخ بناتے ہوئے اپنی حکومت کا پہلا پانچواں بجٹ پیش کردیا۔آئندہ مالی سال 2017-18 کا 47کھرب 50ارب روپے کا بجٹ سامنے آیا ۔اس سے قبل کابینہ نے بجٹ کی منظوری دی ۔ اس بار بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا کل ہدف 43کھرب سے زائد رکھا گیا۔آئندہ مالی سال میں ترقیاتی اخراجات ایک ہزار ایک ارب سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔ ملک کا دفاعی بجٹ 9کھرب 20ارب روپے کا ہوگا۔ زراعت اور چھوٹی انٹرپرازوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائیگی۔حکومت کے مطابق 2018 کی گرمیوں میں مذید 10 ہزار میگاوٹ بجلی کا اضافہ کیا جائیگا جس سے حکمرانوں کے بعقول لوڈشیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائیگا۔ ادھر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے 55 لاکھ افراد کے لیے 21ارب روپے مختص کیے گے ہیں۔ حکومت نے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا ہے مگر ماہرین اسے ضرورت سے کم قرار دے رہے ہیں۔
افسوس کہ وطن عزیز میں ہر سال بجٹ پیش کرنا روایت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ پاکستان کا شائد ہی کوئی باشعور شہری ہو جو بجٹ کے اعداد وشمار پر یقین رکھتا ہو۔سوال تو یہ ہے کہ ایسی معیشت جو زیادہ تر قرضوں پر انحصار کرے کس طرح عوامی فلاح وبہود کے منصوبوں کو عملی شکل دے سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن دراصل سٹیس کو کی سیاسی قوت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس سے یہ امیدکرنا ہی غلط ہوگا کہ وہ ایسے انقلابی اقدمات اٹھا لے جس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں نمایاں بہتری نمایاں رونما ہوجائے ۔ پی ایم ایل این کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہو تو اس کے انتخابی وعدوں اور اب تک کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ ناقدین کے بعقول گذشتہ تین دہائیوں سے زائد قومی سیاست میں نمایاں رہنے والی سیاسی جماعت کسی ایک شعبہ میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ نہیںکرسکی۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف گذشتہ نو سال سے بطور وزیراعلی پنجاب میں برسراقتدار ہیں مگر صوبائی عوام کی اکثریت اب بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہے۔ پنجاب کے سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زار بھی کسی سے مخفی نہیں۔ اب تک پنجاب کے تین شہروں لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں میڑو سروس کا آغاز ہوا مگر صوبے کے کئی شہروں میں رہنے والے مسلسل معیاری ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کی مسلم لیگ ن کی کارکردگی ہے جو کئی لحاظ سے اطمنیان بخش نہیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ جب گذشتہ چارسال سے زائدعرصے میں حکومت وفاقی درالحکومت کا قبلہ درست نہیں کرسکی تو ملک بھر کے مسائل حل کرنے میں اسے کیونکر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔ پی پی پی ہو یا پی ایم ایل این بنیادی خرابی گورنس کی ہے جو تاحال بہتر نہیں ہوسکی۔ گذشتہ سال تو پانامہ لیکس کی شکل میں ایسا بین الاقوامی سیکنڈل بھی سامنے آیا جس سے حکمرانوں کی جان تاحال نہیں چھوٹ سکی ۔ ادھر کون اقرار کرسکتا ہے کہ کوئی ایک بھی سرکاری محکمہ ایسا رہ گیا ہے جو عوام کی خدمت میں پیش پیش ہونے کے علاوہ بدعنوانی سے بھی پاک ہے۔
دراصل اہل اقتدار اور عوام کے درمیان نہ صر ف فاصلہ بڑھ چکا بلکہ اعتماد کا رشتہ بھی بری طرح مجروع ہوا ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ایوانوں میں براجمان ممبران اسمبلی ان کے حق کے لیے کسی طور پر سامنے نہیں آئے ۔ ”مقدس ایوانوں “ میں طاقتور طبقات کے مفادات کی گونج تو آئے روز سنائی دیتی ہے مگر اسے پسے ہوئے طبقہ کے حق میں آواز بلند نہیںکی جاتی جوکئی عشروں سے امید بھری نظروں سے اپنے منتخب نمائندوں کی جانب دیکھ رہا ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ پاکستان تیزی سے بدل رہا ہے۔ عوام کا سیاسی شعور اس منزل کی جانب رواں دواں ہے جو حقیقی معنوں میںجمہوریت کہلائی گی۔ حیرت انگیز طور پر عوام میں پائی جانے والی بے چینی واضطراب کا اندازہ لگانے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کو مختلف حیلے بہانوں سے دبانے کی حکمت عملی تو جاری ہے مگر خود کو بہتر بنانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔اہل سیاست کو سمجھ لینا چاہے کہ جمہوریت میں ساکھ کی اہمیت کلیدی نوعیت کی ہے اگر سیاست دانوں کی اکثریت عوام کی نظروں میں اپنا اعتبار کھو دے گی تو پھر جمہوریت کا پودا کیونکر تناور درخت بن سکتا ہے۔
سمجھ لینا چاہے کہ باشعور پاکستانی بجٹ کے اعداد وشمار پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ کیا کوئی دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ہمارے سال میں ایک بار ہی بجٹ آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے پورے سال منی بجٹ عوام کا منہ چڑھاتے رہتے ہیں۔ اہل اقتدار ایک شعبہ سے رقم نکال کر دوسرے میں مختص کرتے ہیں مگر انھیں ہرگز جواب دہی کا خوف نہیں ۔مسلم لیگ ن کے لیے پانچواں بجٹ پیش کرنا خوشی کا مقام ہوسکتا ہے مگر لاکھوں نہیں کروڈوں پاکستانی اب بھی حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف جیسا ”تجربہ کار“ شخص ان کی مشکلات حل کرنے میں کسی طور پر کامیاب نہیں ہوسکا۔ 2018کے عام انتخابات میں عوام کس کو ووٹ دیتے ہیں اس کا فیصلہ تو ہونا ابھی باقی ہے مگر وزیراعظم نوازشریف نے ترقیاتی فنڈز کی مد میںکروڈوں روپے اراکین اسمبلی کو دینے کے احکامات جاری کرچکے جن پر مسلسل اعترا ضات اٹھائے جارہے ۔

Scroll To Top