بغل میں چھری منہ میں رام رام

zaheer-babar-logoبھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج ایک طرف پاکستانی وزارت خارجہ و داخلہ کو اپنے دیس کی بیٹی کو بحفاظت واپس بھیجنے پر تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں تو دوسری جانب ڈاکڑ عظمی نے پاکستان کو موت کا کنواں قرار دے ڈالا ۔ ڈاکڑ عظمی کے بعقول پاکستان جانا بہت آسان ہے ، ویزا آسانی سے مل جاتا ہے مگر وہاں سے بچ کر آنا بہت مشکل ہے۔ان کے بعقول بھارتی مسلمانوں میں یہ تاثر ہے کہ پاکستان بہت اچھا ہے مگر میں جو وہاں پر دیکھ کر آئی ہوں کہ ہر گھر میں دو دو تین بیویاں ہیں۔عورتوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ہمارا انڈیا جیسا بھی ہے ،اچھا ہے ، یہاں ہمیں آزادی حاصل ہے۔“

چانکیہ سیاست کے پیروکار بھارت کے طرزسیاست کو سمجھنے کے لیے لازم ہے تقسیم ہند سے لے کر اب تک اس کی پالیسی کوسمجھا جائے۔ ٹھیک ہی کہا جاتا ہے” بغل میں چھری اور منہ میں رام رام “ ۔ بھارتی حکمت عملی پر ایک اور تبصرہ یہ بھی ہے کہ“ ہاتھی کے دانت کھانے اور دکھانے کے اور “۔
(ڈیک)بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستانی حکام کی تعریف کرنا اور ڈاکڑ عظمی سے پاکستانیوں پر تنقید کرانا سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔ اب شائد پاکستان کو بے وقوف بنانا آسان نہیں ۔ بھارت میں مسلمان ہی کیا،عیسائی ، سکھ اور خود نچلی ذات کے ہندووں جن مسائل کا شکار ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے(ڈیک)۔ دراصل بے جے پی حکومت نے عملا سیکولر بھارت کا چہرہ بے نقاب کرکے رکھ دیا ۔ یہ راز اب پوری طرح آشکار ہوچکا کہ بھارت سیکولر نہیں ہندو ریاست ہے جہاں چند لاکھ انتہاپسند ہندو اشرافیہ نے کم وبیش ایک ارب کی آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
آج مبقوضہ وادی میںکشمیریوں کا بہتا ہوا لہو یہ حقیقت بیان کررہا کہ بھارتی سرکار کسی بھی مسلمہ اخلاقی اصول کی پاسداری کرنے کو تیار نہیں۔کشمیر میں جاری پرامن تحریک کو پوری قوت سے کچلنے کے لیے انتہاپسند ہندو سرکار ہر حد پار کرچکی۔ اس میں شبہ نہیں کہ عملا کشمریوں کو دیوار کے ساتھ لگا کر انھیں بند گلی میںدکھیل دیا گیا۔ آئے روز بے گناہ کشمریوں کا قتل عام اس بات کی گواہی دے رہاکہ وادی کے مظلوم مسلمانوں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
اسے اقوام عالم کا دوہرا معیار ہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے جائز مطالبات پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔ دنیا بھر میں قائم انسانی حقوق کے تحفظ کے ادارے بھارتی ظلم وستم کے خلاف آواز بلندنہیں کررہے۔ دراصل بھارت بدلے ہوئے عالمی حالات کو باخوبی سمجھ رہا ، اسے اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ اقوام عالم دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف ہے۔ بظاہر مذہب کے نام پر جاری کشت وخون میں بڑا حصہ مسلمان انتہاپسند گروہوں کا ہے لہذا وہ کشمریوں کی پرامن اور غیر مسلح جدوجہد کو بھی دہشت گردی قرار دینے کے لیے کوشاں ہے۔
مغربی دنیا نے بھارتی درندگی پر اس لیے بھی چپ سادہ رکھی کہ بھارت بڑی تجارتی منڈی کے طور پر سامنے ہے۔ عالمی سرمایہ کار یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا کاروبار اسی صورت فروغ پاسکتا ہے جب وہ بھارتی سرکار کے منفی ہتکھنڈوں کو نظر انداز کرتے رہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کا سب سے بڑا دشمن آج خود بھارت ہے جو اپنی دوعملی کے باعث اپنے ہی شہریوں کے سامنے رسوا ہورہا۔ دراصل بھارت کبھی بھی سیکولر ملک نہیںتھا مگر کانگریس پارٹی اور دیگر کئی سیاسی جماعتوں نے دکھاوے کی حد تک سیکولزازم کا لبادہ ضرور اوڈھے رکھا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کی وزارت خارجہ اور داخلہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ تاحال کلبھوشن یادو کا معاملہ لٹک رہا ۔ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی جاسوس کی پھانسی موخر ہونے کے باوجود صورت حال مکمل طور پر بھارت کے حق میں نہیں۔ مودی سرکار کو اس بات کا پورا ادراک ہے لہذا گاجر اور لاٹھی کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بھارت ایک طرف تو پاکستان کو دھونس اور دھکمی دینے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تو دوسری جانب سشما سوراج جیسے پاکستانی حکام کے” حسن سلوک “ کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔ یہ نہیںبھولناچاہے کہ کوئی اور نہیں کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج ہی تھیں جنھوں نے بھارتی جاسوس کو سزائے موت دینے کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے پارلمینٹ میں اعلان کہ بھارت اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ہر حدتک جائیگا۔ “
اس میںدوآراءنہیںکہ پڑوسی ملکوں سے بہتر تعلقات کسی بھی زمہ دار ریاست کا وصف ہوا کرتا ہے۔پاکستان بھارت سے دوستانہ تعلقات کا حقیقی معنوں میں خواہش مند ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کم وبیش ساٹھ ہزار لوگ دہشت گردی کا شکار ہوجائیں،اربوں روپے کی املاک تباہ ہوجائیں وہاں دشمنی سے نفرت اور دوستی سے محبت کے جذبات کا فروغ پانا قدرتی امر ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی نمایاں سیاسی ومذہبی جماعت اس بات کی حمایتی نہیں کہ بھارت کے ساتھ جنگ وجدل کا ماحول رہے۔ مسلم لیگ ن ، پی پی پی ، پی ٹی آئی، جے یو آئی ف ،اے این پی ، ایم کیوایم غرض بیشتر جماعتیں بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش مند ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خود بھارت کا طرزعمل کیا ہے۔ جب بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول جیسے لوگ کھلے عام دہشت گردی کے زریعہ پاکستان کو غیر مسحتکم کرنے کا عہد کرتے رہیں گے تو بہتری کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوسکتی لہذا اب بھی وقت ہے کہ بھارت ڈاکڑ عظمی کے زریعہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔

Scroll To Top