اب وائی فائی کے ذریعے دیواروں کے پار دیکھنا ممکن

jجرمنی کے طالب علم وائی فائی کے ذریعے کمرے میں رکھی اشیا کے دھندلے ہولوگرام حاصل کیے ہیں۔ فوٹو: فائل
برلن: ہم جانتے ہیں کہ وائی فائی دیواروں سے گزر سکتی ہے اور اسی لیے ایک کمرے کا راؤٹر دوسرے کمرے میں سگنل بھیجتا ہے لیکن اسی کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے کمرے میں موجود اشیا مثلاً میز ، کرسی اور خود انسانوں کے تھری ڈی ہولوگرام بناکر ان کی موجودگی کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
ٹیکنکل یونیورسٹی آف میونخ کے 23 سالہ طالب علم فلپ ہول کہتے ہیں کہ وائی فائی سے کسی کمرے کو اسکین کیا جاسکتا ہے، فلپ نے ایک چھوٹا سا آلہ بنایا ہے جس کی تفصیل فزیکل لیٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے، یہ ایک آزمائشی آلہ ہے جو کمرے میں رکھی اشیا سے ٹکرانے اور دوبارہ پلٹنے والی وائی فائی امواج کے ذریعے اس شے کا ایک ہیولہ یا خاکہ سا بناتا ہے۔

اگر کمرے کی میز پر کوئی کپ رکھا ہے تو یہ اسے ایک شکل کی مانند دکھائے گا، صوفے پر بیٹھے شخص یا پالتو جانور کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ مختصراً یہ کسی بھی چار سینٹی میٹر لمبی شے کو دکھا سکتا ہے۔
اگرچہ وائی فائی کے ایک دو اینٹینا سے کمرے کی اشیا کی دو جہتی (ٹو ڈائمینشنل) تصاویر لی جاسکتی ہے لیکن فلپ کا تیار کردہ نظام کمرے کی ایک ایک شے کا تھری ڈی ہولوگرام بناسکتا ہے۔

اس نظام میں دو اینٹینا ہیں ، ایک ساکت رہتا ہے اور دوسرا حرکت کرتا رہتا ہے۔ فکسڈ اینٹینا وائی فائی سے بیک گراؤنڈ (پس منظر) کی تصویر لیتا رہتا ہے جبکہ ایک اینٹینا کو کمرے میں گھماکر اشیا کی مختلف زاویوں سے تصاویر لی جاتی ہے اور ایک سافٹ ویئر فوری طور پر اس کی نقشہ سازی کرتا رہتا ہے، اگرچہ ابھی ٹھوس اشیا کے دھندلے ہولوگرام بن رہے ہیں لیکن جلد ہی اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنایاجاسکتا ہے ۔
فلپ کے مطابق ایک اضافی ریفرنس اینٹینا کے ذریعے حادثات میں ملبے تلے دبے افراد کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جب کہ اس سے جاسوسی کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top