پانامہ کیس اب بھی حالات بدل سکتا ہے

zaheer-babar-logo

وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز کے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض کی سماعت پیر کو ہوگی۔ واضح رہے کہ حیسن نواز نے ای میل کے زریعہ رجسڑار سپریم کورٹ کے سامنے جے آئی ٹی کے ممبران غلام رسو ل اور عامر عزیز پر اعتراض اٹھایا ، وزیراعظم کے صاحبزادے کے بعقول دونوں ممبران کا رویہ ایسا نہیں کہ وہ جے آئی ٹی کاحصہ رہیں۔“
بظاہر پانامہ لیکس کا معاملہ قومی افق پر اب بھی موجود ہے مگر میڈیا میں اس کی اہمیت وہ نہیں رہ گی جو عدالت عظمی میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے دنوں میں تھی۔ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے فیصلہ میں حکم دیا تھا کہ ایف آئی اے کے اعلی آفیسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی جائے جو 60 کے دنوں کے اندار اپنی تحقیقات مکمل کرے۔ عدالت عظمی نے ہر دوہفتے کے بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
پانامہ لیکس بین الاقوامی مالیاتی سیکنڈل ہے جس میں وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بچوں کا نام واضح طور پر سامنے آیا۔ حکمران جماعت کا موقف تو اب بھی یہی ہے کہ اس تمام عمل سے وزیراعظم پاکستان کا ہرگز کوئی تعلق نہیں یعنی مذکورہ معاملہ میاں نوازشریف کے دوبچوں سے متعلق ہے جو بیرون ملک سالوں سے کاروبار کررہے ہیں۔ دوسری جانب تاحال حکومت لندن فلیٹس خریدنے کے لیے منی ٹریل تاحال ثابت نہیں کرسکی یہی وجہ ہے کہ عدالت عظمی کو اس مقدمہ کا حتمی فیصلہ کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
افسوس ہے کہ پہلی بار نہیں کہ یہاں کسی طاقتور شخص کے سامنے قانون اپنی بالادستی ثابت نہ کرسکا۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ بااثر شخصیات کبھی بھی کسی بھی شکل میں آئین کی بالادستی اپنے عمل سے ثابت نہ کرسکیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے خاندان سمیت چار سو سے زائد پاکستانیوں کا قانونی کاروائی سے بچ کر نکل جانا ہرگز حیران کن نہیں ہوگا البتہ اس پر تعجب کا اظہار ضرور کیا جائیگا جب ان میں ہر کسی سے حقیقی معنوں میں باز پرس کی جائے۔
مقام افسوس ہے کہ وطن عزیز میں میں انصاف کی سربلندی کے لیے کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ اس پہلو کی جانب توجہ مبذول کرنے کی زحمت نہیںکی جارہی کہ مسلسل انصاف کا نہ ہونا خود ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بنتا جارہا۔ حضرت علی رضہ اللہ تعالی عنہ کے اس قول کی افادیت کو نظر انداز کیا جارہا کہ ریاست کفر پر توقائم رہ سکتی ہے ناانصافی پر نہیں۔
حزب اقتدار سے ہو یا حزب اختلاف سے اس سچائی کو پس پشت ڈال رہی کہ باشعور پاکستانی کا رائج نظام پر سے اعتماد اٹھتا جارہا۔ وہ یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب دکھائی دے رہے کہ زمام اقتدار جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ لاکھوں نہیں کروڈوں پاکستانیوں کی حالت زار سے لاتعلق ہیں۔ بے حسی پر مبنی یہ طرزعمل کسی طور پر صحت مندانہ نہیںکہلا سکتا۔ درپیش معاملہ کا سنگین پہلو یہ ہے کہ تاحال یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک یہ صورت حال جاری رہیگی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہورہا بااثر طبقہ کے مفاد اس فرسودہ اور بےکار نظام سے وابستہ ہوچکے لہذا وہ اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ دراصل مفادات کے اس کھیل میں نظریاتی اختلاف اپنی قدروقیمت کھو چکا۔ اہل سیاست مال ودولت کے حصول کے لیے اس طرح سرگرداں ہیں کہ وہ کسی بھی قانونی یا اخلاقی ضابطہ کو اہمیت نہیں دے رہے۔ وطن عزیز میں نظر آنے والی سماجی خرابیوں کا جائزہ یوں بھی لیا جاسکتا ہے کہ اہل مذہب بھی اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ محراب ومنبر جو حقیقی معنوں میں اصلاح احوال کا کام کیا کرتا تھا آج مسلک اور فقہی اختلافات کی نظر ہوچکا۔
کسی دانشور نے درست کہا ہے کہ ملک میں سیاسی یا معاشی بحران نہیں بلکہ اخلاقی بحران ہے ۔ ہم میں سے شائد کوئی شخص ہو جو درجن بھر لوگوں کی ایمانداری کی قسم اٹھانے کو تیار ہو۔ سوال یہ ہے کہ جب معاشرے میں اخلاقی قدریں اس انداز میں زوال پذیر ہوں گی تو پھر سیاست میں پاک دامن افراد کیونکر نمودار ہونگے۔ سوال یہ ہے کہ بہتری کا عمل کہاں سے شروع کیا جائے۔ بظاہر اس کا آغاز انصاف کی فراہمی سے کیا جانا چاہے۔ یقینا اگر نظام انصاف طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں سلوک کرے تو کیونکر ممکن ہے کہ خرابیوں کا سلسلہ جاری وساری رہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ عصر حاضر میں پرنٹ، الیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استمال سرکاری حکام کو مجبور کردیگا وہ اپنی زمہ داریوںکو احسن انداز میں ادا کریں مگر افسوس تاحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے برعکس کہ ملک کے ہر طاقتور طبقہ نے اپنی اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کرلی جس کے بعد اس کے خلاف عوامی غم وغصہ کا اظہار کم سے کم دیکھنے کو مل رہا ۔ جاری رجحان یہ بتارہا کہ یہاں ہر بااثر تو محفوظ ہے مگر اس عام آدمی کوئی والی وارث نہیں جو کمزور بھی ہے اور غریب بھی۔ پانامہ لیکس آج بھی ایسا کیس ہے جو بہت سے مفروضوں کو غلط ثابت کرسکتا ہے۔ اس میں وزیراعظم کے بچوں کے علاوہ اکثریت بااثر پاکستانیوںکی ہے۔ شائد اس اہم مقدمہ کے فیصلے کی شکل میں اب زیادہ دن نہیں رہ گے جب یہ ثابت ہوجائے کہ آئین اور قانون کی سربلندی کا خواب مسقبل قریب میں اس سرزمین پاک پر شرمندہ تعبیر ہوگا بھی کہ نہیں۔

Scroll To Top