تاریخ اسلام

800a03887e3fef83ed764de0438e1e51حضرت علیؓ کو جن لوگوں سے واسطہ پڑا۔ ان میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل تھے جو چالاکیوں، مصلحت اندیشیوں اور چال بازیوں سے کام لینا جانتے تھے۔ وہ خالص اسلامی کرہ ہوائی جو آنحضرتﷺ کے زمانے سے پیدا ہو کر فاروق اعظمؓ کے آخر عہد تک قائم تھا دنیا طلبی، نسلی وخاندانی تفوق و امتیاز اور ایران و مصر و غیرہ کے کثیر التعداد نومسلموں کے اسلامی برداری کے شامل ہو جانے کے سبب کسی قدر غبار آلود ہونے لگا تھا۔ حضرت علیؓ فاروق اعظمؓ کے بعد خلیفہ ہوتے تو عہد فاروقی کی حالت کو باقی اور قائم رکھنے کی قابلیت رکھتے تھے لیکن حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے بعد وہ عہد فاروقی کی حالت کو واپس لانے میں ناکام رہے۔ ان کے زمانے میں صحابہ کرام کی جماعت بہت مختصر رہ گئی تھی۔ بڑے بڑے صاحب اثر اور جلیل القدر صحابہ فوت ہو چکے تھے۔ جو تھوڑی سی تعداد باقی تھی، وہ سب منتشر تھی۔ کوئی کوفہ میں تھا، کوئی بصرہ میں ، کوئی دمشق میں تھا۔ کوئی مصر میں، کوئی یمن میں تھا، کوئی فلسطین میں، کوئی مکہ میں تھا اور کوئی مدینہ میں۔ فاروق اعظم ؓکے زمانے تک صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد مدینہ منورہ میں موجود تھی اور بہت ہی کم لوگ باہر دوسرے شہروں میں ضرور تاً جاتے اور مدینے میں واپس آتے رہتے تھے۔ حضرت علیؓ نے مدینہ کی سکونت ترک کر کے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور سوءاتفاق سے وہ فائدہ جو کوفہ کو دارالخلافہ بنانے میں انہوں نے سوچا تھا، حاصل نہ ہوا۔ ساتھ ہی اس فائدہ سے جو مدینہ کے دارالخلافہ ہونے سے حجاز کی حیثیت اور اہمیت کم ہوگئی جس کے سبب وہ امدادجو حضرت علیؓ کو ملک حجاز سے حاصل ہوتی، حاصل نہ ہو سکی۔
منافقوں اور خفیہ سازشیں کرنے والون نے آنحضرتﷺ کے عہد مبارک میں بھی مسلمانوں کو کئی مرتبہ پریشانہوں میں مبتلا کیا لیکن وہ اپنے پلید وناستودہ مقاصد میں ناکام و نامراد ہی رہے ۔ عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں یہ شیر لوگ کوئی قابل تذکرہ حرکت نہ کر سکے۔ عہد عثمانی میں ان کو پھر شر انگیزی کے موافق میسرہ آگئے اور حضرت علیؓ کا تمام عہد خلافت انہیں شریروں کی شرارشوں کے پیدا کئے ہوئے ہنگاموں میں گزرا۔ اگر حضرت علیؓ کو اور بھی مواقع ملتے اور ان کی شہادت کا واقعہ اس قدر جلد عمل میں نہ آتا تو یقینا وہ چند روز کے بعد تمام مفسدوں کی مفسدہ پر دازیوں پر غالب آکر عالم اسلامی کو ان کو اندرونی ہنگامہ آرائیوں سے پاک وصاف کردیتے کیونکہ ان کے عزم و ہمت اور استقلال و شجاعت میں کبھی کوئی فرق نہیں پایا گیا۔ وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ان پر غالب آنے کے لئے ہمیشہ مستعدد پائے جاتے تھے۔ کسی وقت بھی ان کے قلب پر پوری مایوسی اور پست ہمتی طاری نہ ہو سکتی تھی۔ وہ لوگوں کی دھوکہ بازیوں، چالاکیوں اور پست ہمتیوں کے متعلق بھی اب تجربہ حاصل کر چکے تھے۔ وہ ان باتوںسے بھی واقف ہو چکے تھے جن کے نتائج ان کی توقع کے خلافت برآمد ہوئے تھے لیکن مشیت ایزدی اور حکم اور حکم الہٰی یہی تھا کہ وہ جلد شہادت پائیں اور بنوامیہ کے لئے میدان خالی چھوڑ جائیں۔
بنو امیہ کا قبیلہ اپنے آپ کو ملک عرب کا سردار اور بنو ہاشم کو اپنا رقیب سمجھتا تھا۔ اسلام نے ان کے مفاخر کو مٹا اور بھلا دیا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت نے ان کو پھر چونکا دیا۔ وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاوت کو واپس لانے کے لئے تدابیر سوچنے میں مصروف ہوگئے۔ اور منافقوں کی سازشوں نے ان کی تدابیر کو عملی جامہ پہنا نے اور کامیاب بنانے میں امداد پہنچائی۔ عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں جو گوار اور ناشدنی حالات پید ا ہوچکے تھے، ان حالات کو روبا صلاح کرنے اور پہلی حالت دوبارہ قائم کرنے میں حضرت علیؓ کو زیادہ پریشانی اٹھانی پڑی اور زیادہ وقت یعنی اپنا تمام عہد خلافت صرف کرنے پر بھی وہ مشکلات پر غالب نہ ہونے پائے تھے کہ شہید ہوئے لیکن اگر حضرت عثمان غنیؓ کے بعدیہ ممکن ہوتا کہ فاروق اعظم ؓ دوبارہ تخت خلافت پر متممکن ہو سکتے اور وہ پھر زمام خلافت اپنے ہاتھوں میں لے لیتے تو یقینا وہ چند ہفتوں میں وہی پہلی حالت قائم لیتے مگر یہ سب ہماری خیالی باتیں ہیں۔ مصلحت الہٰی اور مشیت ایزدی نے اسی کو مناسب سمجھا جو ظہور میں آیا۔
حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کی معرکہ آرائیوں اور حضرت زبیرو حضرت طلحہ اور حضرت علیؓ کی لڑائیوں وغیرہ کو ہم لوگ اپنے زمانہ کی مخالفتوں اور لڑائیوں پر قیاس کر کے بہت کچھ دھو کے اور فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہم ان بزرگوں کے اخلاق کو اپنے اخلاقی پیمانوں سے ناپنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ خوب غور کرو اور سوچو کہ جنگ جمل کے موقع پر حضرت طلحہ و زبیرؓ نے کس عزم وہمت کے ساتھ مقابلہ اور معرکہ آرائی کی تیاری کی تھی لیکن جب ان کو آنحضرتﷺ کی ایک حدیث یاد دلائی گئی تو کس طرح وقت کے وقت پر جب کہا یک زبردست فوج جاں نثاروں کی ان کے قبضہ میں تھی، وہ میدان جنگ سے جدا ہوگئے۔ ان کو غیر بھی دلائی گئی۔ ان کو بزدل بھی کہا گیا۔ وہ لڑائی اور میدان جنگ کو کھیل تماشے سے زیادہ نہ سمجھتے تھے۔ ان کی شمشیر خاراشگاف ہمیشہ بڑے بڑے میدانون کو سر کرتی رہی تھی مگر انہوں نے کسی چیز کی بھی پروہ دین وایمان کے مقابلہ نہ کی۔ انہوں نے ایک حدیث سنتے ہی اپنی تمام کوششوں، تمام امیدوں، تمام اولوالعزمیوں کو یک لخت ترک کر دیا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ عالی جناب مولوی جو مسلمانوں میں بڑی عزت و تکریم کا مقام رکھتے ہیں۔ اگر کسی مسئلہ میں ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں تو برسوں مباحثوں اور مناظروں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
(جاری ہے)

Scroll To Top