مانچسٹر خودکش حملہ اور مسلمانوں کی مشکلات

مانچیسٹر میں ہونے والے خودکش حملے نے ایک بار اہل مغرب کو ہلا کر رکھ دیا ۔ ایک ہی واقعہ میں 22 سے زائد مرد وخواتین اور بچوں کا لقمہ اجل بن جانا برطانیہ حکام کو انتہاپسندی کے خلاف جاری حکمت عملی کوبہتر بنانے پر مجبور کرگیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعہ میں 59افراد زخمی ہوئے جبکہ مرنے والے 12 بچوں کی عمریں 16سالہ سے بھی کم ہیں۔ برطانوی سیکورٹی اداروں کے مطابق وہ حملہ آور کوجانتے ہیں مگر اس موقعہ پر اس کی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔“
معصوم اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے کی اجازت شائد ہی دنیا کا کوئی مذہب دیتا ہو۔ ہر مذہب احترام آدمیت کا داعی ہے اور اپنے ماننے والوں کو امن اور سلامتی کی تلقین کرتا ہے۔ اس ضمن میں الہامی مذاہب کا معاملہ اور بھی واضح ہے۔ خالق کائنات اپنی آخری کتاب قرآن حکیم میں اور اس سے قبل آنے زبور، انجیل اور تورات میں بتا چکا کہ فساد فی الارض بدترین فعل ہے۔مقام افسوس ہے کہ دین اسلام میں جس قدر انسانی جان کی حرمت کا تصور واضح کیا گیا اس کے بعض ماننے والے گروہ اسی انداز میں اس سے انکار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس سچائی کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ عصر حاضر میں انتہاپسندی محض مسلمانوں تک محدود نہیں کی جاسکتی۔ ہندو، یہودی اور عیسائیوں میںبھی ایسے افراد وگروہ موجود ہیں جو اپنے مذہب کی اس انداز میں من مانی تشریح کے مرتکب ہوئے کہ عملا انھوں نے اپنے عقیدہ کو مسخ کرکے رکھ دیا مگر حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کے علاوہ کسی اور مذہب کے پیروکار مشکو ک قرار نہیں پائے۔ اس میں دوآراءنہیںکہ طالبان، القائدہ اور داعش جیسی پرتشدد تنظمیوں سے وابستہ افراد مسلمان ہیں لہذا لامحالہ طور پر اسلام کا غیر پسندیدہ انداز میں نام سامنے آنا قدرتی امر ہے۔
دراصل تیزی سے قریب آنے والے اس دنیا میں قوموں کے مفادات میں یکسانیت نہیں آسکی۔ آج کراہ ارض پر موجود درجنوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں لہذا اس نہ دکھائی دینے والی جنگ میں ہر ریاست اپنے اپنے اہداف کے حصول کے لیے کمربستہ ہے۔ مقام افسوس ہے کہ دہشت گردی کو بھی اپنے اپنے مفادات کی عینک سے دیکھا جارہا۔ طاقتور مغربی ممالک اس سچائی سے عملا صرف نظر کررہے کہ انتہائی پسندی کے فروغ میں ان کی پالیسوںکا بنیادی عمل دخل ہے۔ جب فلسطین ، کشمیر ، شام ، افغانستان اور یمن میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری رہیگا تو اس کا درعمل بھی کسی نہ کسی شکل میں آسکتا ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ظلم کو ظلم کے زریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔ برائی کو اچھائی سے بدل ہی عالمی سطح پر ایسے معاشرے کی تشکیل کی جاسکتی ہے جہاں امن ہو ، انصاف ہو تاکہ انسانیت اصلی شکل میں ظہور پذیر ہو۔
افسوس کہ مغرب کے طاقتور حلقے انصاف کے مسلمہ اصولوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ہوسکتا ہے کہ ان کا کہنا ہی درست ہو کہ آج کی صدی ان کی صدی ہے۔ جدید علوم وفنون کے زریعہ ترقی کی جس معراج تک وہ پہنچ چکے اس کی بنیاد پر ان کو حق حاصل ہے کہ وہ پوری دنیا پر حکومت کریں۔تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ طاقت کا اپنا مزاج ہوا کرتاہے۔ اب تک افراد یا گروہوںمیں سے جس کسی نے بھی بزور قوت اقتدار حاصل کرلیا تو اسے خالص اخلاقی اصولوں کی بالادستی پر اسے راضی کرنا آسان نہیں رہا۔ دراصل یہ پیغمبر اور رسول ہی ہوئے جنھوں فتوحات کو اللہ کی نصرت قرار دیتے ہوئے سر تسلیم خم کیا۔
درپیش معاملہ کا اہم معاملہ مسلمان ریاستوں کے بارے میں بھی ہے ۔ 50 سے زائد مسلم ممالک میںایسے خال خال ہی ملتے ہیں جہاں عوام کو پوری طرح اظہار خیال کی آزادی ہے۔ حکمران کو منتخب کرنے کا اخیتار ایسی خرابی ہے جس کے مضمرات سے کسی طور پر صرف نظر نہیںکیا جاسکتا۔ نسل درنسل چلے آنے والا حکمران طبقہ عام مسلمانوں کی مشکلات کا کسی طور پر اندازہ نہیں کرسکتا۔ گلوبل ویلنج بن جانے والی اس دنیا میں اگر ایک طرف ہر پانچ یا چار سال بعد عوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کی آزادی ہو تو دوسری جانب موروثیت کو کیونکر پسندیدہ کہلائی گی۔ دراصل مسلم سماج میں انتہاپسندانہ رویوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں موجود طرزحکمرانی میں عام آدمی کی شمولیت جائزہ لیا جائے۔ یہ نقطہ نظر غلط نہیں کہ اس وقت تک مسلم سماج پرامن اور مستحکم نہیںہوسکتا جب تک اس میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی نہ بنائی جائے۔
افسوس کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی نبرد آزما مسلم معاشرے خود کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور جدوجہدمیں میں شامل ہوجائیں۔ اس کے برعکس مسلم اشرافیہ درپیش تنازعہ کو طاقت کے زور پر حل کرنے کا جتن کررہی جو معاملات کو مذید گبھیر بنا رہا۔ حیرت انگیز طور پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مسلم اشرافیہ کے اقدامات سطحی ہیں اس کے برعکس چالاک و طاقتور مغرب انتہاپسندی کو اپنے حق میں استمال کرنے کی کامیاب حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔اب تک مغربی دنیا میںہر انسانیت سوز کاروائی کی قیمت عام مسلمان کو ہی دینا پڑ رہی مانچیسڑ میں ہونے والی قتل وغارت گری کے اثرات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اطلاعات یہی ہیںکہ خود کش حملے آور کی شناخت ظاہر ہوتی ہی قانون سازی خارج ازمکان نہیں جو کم از کم برطانیہ میں رہنے والے اور وہاں جانے والے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ کردے۔

Scroll To Top