امریکہ نے پالسیاں نہیں بدلیں

zaheer-babar-logo

امریکہ صدر ٹرمپ اور سعودی فرما رواں شاہ سیلمان بن عبدالعزیر نے دیگر عالمی رہنماوں کے ساتھ مل کر ”سینڑ فار کومیبٹنگ ایکسڑیم ازم “ کی بنیاد رکھی چھوڈی ۔ صدر ٹرمپ کے دورے امریکہ کے دوران تین سربراہی اجلاس کا انقعاد کیا گیا جس میں تقریبا 50ممالک کے سربراہان شریک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ رکن ممالک نے انتہاپسندی کے خلاف اس سینٹر کے ہیڈکوراٹر کے طور پر ریاض کا انتخاب کیا جہاں انتہاپسند نظریات کا تجزیہ کیا جائیگا، اس کی مخالفت کی جائیگی اور اسے روکا جائیگا۔اس کے علاوہ باہمی تعاون سے اعتدال پسندی کو فروغ دیا جائیگا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس مرکز کے تین ستون ہیں جن میں جدید دانشوروں ، میڈیا اور عددی تجزیوں کے زریعہ انتہاپسندی کی مخالفت کرنا شامل ہے۔ مذکورہ ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مختلف ملکوں اور تنظیموں کے 12 نمائندے شامل ہونگے۔“
عصر حاضر میں دہشت گردی بڑے مسلہ کے طور پر سامنے آئی مگر تشویش کا پہلو یہ ہے کہ اقوام عالم تاحال اس عفریت کی متفقہ تعریف پر متفق نہ ہوسکیں۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ دہشت گردی کو طاقتور اور کمزور ممالک اپنے اپنے مفادات کی عینک سے دیکھ رہے یہی سبب ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود کراہ ارض سے انتہاپسندی ختم ہونے کا نام نہیں لی رہی۔ امریکہ بہادر کو اس سوال کا جواب تاحال دینا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں کہاں تک دہشت گردی کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے۔ افغانستان ، عراق، شام ، لیبیا اوریمن کی صورت حال اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کررہی کہ اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دہشت گردی کو پھیلانے کی مرتکب ہوئی۔ یہ جاننے کے لیے سقراط ہونا ضروری نہیں کہ جب امریکہ معشیت کا قابل زکر حصہ اسحلہ کی فروخت پر انحصار کرتا ہے تو پھر اس کراہ ارض پر امن وامان کی بحالی کیونکر ممکن ہوسکے گی۔ عالمی سیاست کے اسرار ورموزسے آگاہ کسی بھی شخص کے لیے اس سے انکار کرنا مشکل ہے کہ شام کا بحران خالصتا امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے پیدا کیا گیا۔ ہزاروں نہیں لاکھوں شامی مہاجرین اپنے گھربار چھوڈ کر اس انداز میں مہاجر بنے کہ دنیا کا ہر باضمیر شخص ہل کر رہ گیا۔ دولت اسلامیہ کے پیدا ہونے اور اس کے پروان چڑھانے میں امریکہ کا نام لیا جاتا ہے۔ عالمی میڈیا میں یہ خبریں چھپ چکیں کہ کس طرح داعش کے جنگجووں کو سپرپاور کی جانب اسلحہ فراہم کیا جاتا رہا۔ داعش کو ملنے والی اسی سرپرستی کا ہی ثمر ہے کہ دولت اسلامیہ آج اہل مغرب سے کہیں زیادہ مسلم دنیا کے لیے خطرہ کی گھنٹی بن چکی۔
اففانستان میں دولت اسلامیہ کا آنا بھی مقصد سے خالی نہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ افغان طالبان امریکہ کے کنڑول میں نہیں آرہے لہذا ان کا توڈ کرنے کے لیے دولت اسلامیہ کو میدان میں اتارا گیا۔ریکارڈ پر ہے کہ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد امریکہ نے اسلام کو اپنے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ روس اففان جنگ میں دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں کو اسلحہ اور پیسہ دے کر سوویت یونین کے خلاف جاری جنگ میں جھونک دیا گیا۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمان نوجوان اس لڑائی میں جان سے گے۔ امریکہ کے زیراثر اس وقت کا عالمی میڈیا روس افغان لڑائی کو مقدس جنگ قرار دیتا رہا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ تصادم پاکستان کے لیے بھی بھاری ثابت ہوا۔ امریکی اشاروں پر پالیساں ترتیب دینے والے اس وقت کے حکمران اس بات کا ادارک نہ کرسکے کہ یہ جنگ ایک دن انھیں اپنی لپیٹ میں لے لی گی۔ روس کی افغانستان میں تاریخی شکست ہونا تھی کہ امریکہ نے پاکستان کیا اس خطے سے بھی منہ موڈ لیا۔ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا کریڈٹ امریکہ بہادر نے کھلے عام لینا شروع کردیا ۔ پاکستان کے گلے شکوے یہ کہہ کر مسترد کردیے گے کہ تعاون کے بدلے میں پاکستان کو اسحلہ اور پیسہ دیا جاچکا۔
افغانستان اور روس کی لڑائی پر غور کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا بھر کے بشیتر مسلم معاشروں میں انتہاپسندی اس ایک لڑائی کی وجہ سے ہی فروغ پائی۔ افغان جنگ کے خاتمہ کے بعد ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان نوجوانوں کو سوائے لڑنے اور کچھ نہ آتا تھا۔ بعض اپنوں اور غیروں نے بھی طاقت کے زور پر اپنا مقصد حاصل کرنے کے عادی نوجوانوں کو یہ باور کروانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی کہ ان کے ہاں موجود حکومتیںکسی طور پر اسلامی تعلیمات پر پورا نہیں اترتیں۔مسلم دنیا کی یہ بدلی ہوئی صورت حال امریکہ کے مفادات کے عین مطابق تھیں چنانچہ ایک طرف ان متشدد نظریات کے حامل نوجوانوں کو ہدف بنایا گیا تو دوسری طرف مسلم ممالک کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کے الزام میں طرح طرح سے دباو میں لانے کی حکمت عملی بھی جاری وساری رہی۔
سوال یہ ہے کہ دونلڈ ٹرمپ کے دورے امریکہ میں ایسی کون سے نئی بات تھی جو ماضی میں سامنے آئی۔ (ڈیک)امریکہ ایک بار مسلم دنیا کو بالخصوص اور غیر مسلم ممالک کو بالعموم دہشت گردی کی اس تعریف پر لانے کے لیے کوشاں ہے جو اس کے مفادات کی تکمیل کے لیے معاون ٹھرے، یہی وہ حقیقت ہے جس کے تحت بھارت کو دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دے دیا گیا(ڈیک)۔ وزیراعظم نوازشریف کی مذکورہ کانفرنس میں شرکت بجا مگر افسوس اس میں پاکستان کے مفاد بارے کسی طور پر پیش رفت نہ ہوسکی جو حکمران جماعت کے لیے خفت کا باعث ہے۔

Scroll To Top