مکہ کی جمہوریت اور مدینہ کا اسلام 03-11-2009

میرے اس  دعوے پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ جس مغربی نظام کو ہم جمہوریت کہتے ہیں وہ ظہور اسلام سے پہلے مکہ کے معاشرے میں پوری طرح رائج تھا۔
اس زمانے میں ریاستیں بڑے بڑے علاقوں پر محیط نہیں ہوا کرتی تھیں۔بڑے بڑے شہروں کو ہی ریاستوں کا درجہ حاصل ہوا کرتا تھا۔ آج کی لغت میں ایسی ریاستوں کو City Statesکہا جاتا ہے۔ اور اس ضمن میں بہترین مثال سنگاپور کی ہے۔
آنحضرت جس مکہ میں پیدا ہوئے وہ ایک شہری ریاست  (City State) ہی تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شہری ریاست کی کوئی باقاعدہ فوج نہیں تھی۔ کوئی باقاعدہ حاکم بھی نہیں تھا۔ آج کے جمہوری نظام سے مماثلت رکھنے والا ایک ایسا نظام تھا جس میں مختلف قبائل کو ” حلقوں“ کا درجہ حاصل تھا۔ ان حلقوں کے نمائندوںکے اجتماع کو آپ پارلیمنٹ کہہ سکتے ہیں۔ جس دور میں آپ عمر نبوت کو پہنچے عمرو ہشام یعنی ابوجہل اس پارلیمنٹ کا منتخب کردہ بڑا سردار تھا۔ دوسرے سرداروں میں امیہ عتبہ ¾ ابو لہب اور ابو سفیان قابل ذکر تھے ۔جہاں تک قبائلی سرداروں کے انتخاب کا تعلق ہے وہ اپنے حلقوں یعنی قبیلوں کی اکثریت کی رائے کے ذریعے ہی ہوتا تھا۔
میں نے یہ موضوع ان اصحاب کو آئینہ دکھانے کے لئے چھیڑا ہے جو مغرب کے نظام حکومت کو انسانی جدوجہد کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ یہ تو قبل ا ز اسلام کے دور جہالت میں بھی رائج تھا۔ ” اکثریت“ کی رائے کو سب سے بڑا سچ قرار دینے والوں کو یہ حقیقت اچھی نہیں لگے گی کہ مکہ کی پارلیمنٹ نے بہت ہی بڑی اکثریت کی رائے سے آنحضرت کا کام تمام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ (نعوذ باللہ)۔
قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے نظاموں میں پھر کیا فرق سامنے آیا۔۔۔؟
قبل از اسلام کے نظام میں حتمی حاکمیت اکثریت کی تھی۔ اور بعدازاسلام میں حتمی حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کسی کی نہیں تھی۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حکومت اللہ تعالیٰ کے نائب کے طور پر کی۔ اور خلق خدا نے اس شرط پر ان کی اطاعت قبول کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل میں کوئی کوتاہی نہیںبرتیں گے۔۔۔

Scroll To Top