شہادت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )سے شہادت حسین(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )تک اندوہ کی ایک دلگداز داستان

پہلی اسلامی صد ی کے تین واقعات ایسے ہیں جو مجھے غمزدہ کئے بغیر نہیں رہتے۔ پہلا واقعہ جب حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو شہید کیا گیا اور وہ بھی اس انداز میں کہ کوئی بھی شخص اور ،کوئی بھی لشکر خلیفة المسلمین کی جان بچانے کے لئے نہ پہنچ سکا۔ میں جب بھی حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے گھر کے محاصرے کا تصور کرتا ہوں اور پھر اس منظر کو چشمِ تصور سے دیکھتا ہوں جب اُن بدبختوں نے آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) پر وار کئے تو کپکپا جاتا ہوں۔
دوسرا واقعہ جنگ جمل کا جب اسلام کی دو جلیل القدر شخصیات میدانِ جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل آ گئی تھیں۔ میری ناقص عقل یہ فیصلہ کر ہی نہیں سکتی کہ کون حق پر تھا اور کون نہیں۔
میں جب بھی اُس جنگ کے بارے میں سوچتا ہوں اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ آدمی کو اگر اپنے موقف کی صداقت پر سو فیصد یقین ہو تو اس کے لئے لڑنا چاہئے۔ مطلب اس بات کا یہ ہے کہ اُس جنگ میں دونوں فریقین کو اپنے اپنے موقف کی صداقت کا یقین تھا۔ یہ اور بات ہے کہ دونوں کے یقین نے ایک بہت بڑے المیے کو جنم دیا۔ اس جنگ میںان گنت جلیل القدر صحابہ نے دونوں طرف سے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
تیسرا واقعہ کربلا کا ہے۔
اور یہ اس قدر دلدوز واقعہ ہے کہ اس کے بارے میں سوچتے وقت پورا وجود تڑپ اٹھتا ہے۔
میں نے کبھی نہیں مانا کہ نواسہ¿ رسول کا سر قلم کرنے والے مسلمان تھے۔ اگر اسلام کی پہلی صدی کے مسلمان ویسے تھے تو اسلام کی صداقت کا یقین ہم دنیا کو کیسے دلا سکتے ہیں۔
حضرت حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اپنے موقف کی صداقت اپنی جان دے کر ثابت کر دی۔ آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی شہادت ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک ایسی اُمت کا ایک فرد ہوں جس کی عظمت کا ایک روشن باب رقم کرنے والے ایک سپوت کا نام حسین(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تھا۔
وہ لوگ جنہوں نے آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے خلاف اپنی تلواریں بلند کیں تاقیامت زندانِ لعنت میں گرفتار رہیں گے۔
امت محمدی( صلى الله عليه وآله وسلم) کے لئے حضرت حسین(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہمیشہ روشنی کا ایک مینار رہیں گے۔

Scroll To Top