سرحد سیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ دوسالوں میں پاکستان کے ساتھ بھارتی سرحد مکمل طور پر سیل کردی جائیگی۔ گذشتہ روز پاکستان کے ساتھ جڑی چار سرحدی ریاستوں کے سیکورٹی ریویو کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سوا تین ہزار کلومیٹر سرحد کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سیل کیا جائیگا اس حوالے سے خصوصی منصوبہ ترتیب دیا جارہا ہے۔ “
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدیگی کا باریک بینی سے جائزہ دراصل اس حقیقت کا پردہ چاک کرتا ہے کہ مودی سرکار اندرون خانہ اپنی ناکامیوںکو چھپانے کے لیے پڑوسی ملک پر الزام تراشی کی حکمت عملی پر عمل پیراءہے۔ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ بھارتیہ جتنا پارٹی میں ایسی سیاسی بصیرت رکھنے والے حضرات ناپید دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان جیسے پڑوسی ملک کے ساتھ مسلسل کشدیگی روا رکھنے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ بظاہر مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی میں شدت پیدا ہونے کی وجوہات کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کی بجائے پاکستان پر ملبہ پھینک دینا کسی طور پر دانشمندی نہیں۔
پاکستان کے ساتھ سرحد سیل کرنا بھارت کا حق ہے مگر انتہاپسند ہندو قیادت کو یہ نہیں بھولنا چاہے کہ اس اقدام سے کسی صورت کشمیر میں جاری تحریک کی شدت میں کوئی کمی واقعہ نہیں ہوگی۔ پڑوسی ملک زمینی حقائق جس قدر جلد تسلیم کرلے اس کے لیے اتینا ہی بہتر ہے۔ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی تیسری نسل اگر بھارت قبضہ کے خلاف صف آراءہے تو اس کا حل سوائے حق خود ارادیت کا مطالبہ تسلیم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ وادی میں بھارت کی سات لاکھ فوج موجود ہے۔ تادم تحریر لالچ ہو یا خوف شائد ہی کوئی ایسا حربہ رہ گیا ہو جو مقبوضہ وادی میں چانکیہ کے پیروکاروں نے اسمتال نہ کیا ہو۔
جنوبی ایشیاءاس لحاظ سے بدقسمت واقعہ ہوا کہ یہاں بھارت جیسی ایسی ریاست ہے جو کہنے کو تو سیکولر ہے مگر عملا وہاں ہندو انتہاپسندی اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ موجود ہے۔ دراصل یہ عالمی برادری کی مصلحت پسندی ہی ہے جو مقبوضہ وادی میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف وزریوںکے باوجود غفلت کی مرتکب ہورہی۔ بھارت کو بڑی تجارتی منڈی کے طور پر دیکھنے والے اکیسویں صدی میں مسلمہ اخلاقی اصولوں کی پامالی پر آنکھیںبند کیے ہوئے ہیں۔ سب باخوبی جانتے ہیں کہ اگر بھارت کی جگہ کسی بھی مسلمان ملک کی جانب سے عیسائی، یہودی یا ہندو اقلیت کے ساتھ یہ ظلم روا رکھا جاتا ہے تو اقوام عالم کا ضمیر فوری طور پر جاگ اٹھتا ۔
مخصوص عالمی حالات کے پس منظر میںمقبوضہ وادی کے باسیوںکو بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ابھی مذید کئی آزمائشیوں کی گزرنا ہوگا۔ اس میں دو آراءنہیں کہ تاحال کشمیری ریاستی ظلم وستم کا پوری جوانمری سے مقابلہ کررہے ہیں مگر آزادی کی منزل اگر دور نہیںتو فی الحال قریب بھی نہیں۔ یہ عملا اعصاب شکن جنگ ہے جو بھارتی ریاست اور نہتے کشمیریوں کے درمیان ستر سال سے جاری وساری ہے۔ پڑوسی ملک کے کرتا دھرتا آگاہ ہیں کہ اگر کبھی بھی انھیں کشمیر کو الگ کرنا پڑا تو یہ سلسلہ پھر رکا گا نہیں ۔ ناگالینڈ اور خالصتان سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں میں درجن بھر آزادی کی تحریک جاری ہیں جو اس سے حوصلہ پا کر اپنی جدوجہد مذید تیز کرسکتی ہیں۔
بھارت کو ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے کہ پڑوسی ملک کسی طور پر یہ سمجھنے کی کوشیش نہیں کررہا کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں۔ تاریخ کا شعور رکھنے والے کسی بھی ہوشمند فرد کے لیے یہ سمجھنا قطعا مشکل نہیں کہ بالاآخر پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے تعلقات بہتر کرنے ہی پڑیں گے۔ باہم دشمنی دونوں ملکوں کے عوام کو روشن اور محفوظ مسقبل دینے میں ہرگز معاون نہیں بن سکتی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا زبانی جمع خرچ کے طور پر پاکستان کو دشمن قر ار دینا شائد اس قدر نقصان دہ نہ ہوتا مگر مودی سرکار کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری پر کشیدیگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندار بھی دہشت گردی بڑھانے میں مصروف ہے۔
ایک بار پھر یہ اعتراف کرنا افادیت سے خالی نہیں کہ پاک بھارت کشدیگی ختم کروانے میں عالمی برداری بڑی حد تک غیر زمہ داری واقعہ ہوئی ۔دو ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں کا ایک دوسرے کے خلاف صف آراءہونے کے باوجود بین الاقوامی برداری کا لاتعلقی اختیار کرنا افسوسناک ہونے کے علاوہ تشویشناک بھی ہے۔حالیہ دنوں میں امریکہ بہادر کا ایک سے زائد مرتبہ یہ بیان سامنے آچکا کہ وہ تعلقات کی بہتری میں اسی صورت کردار ادا کرسکتا ہے جب پاکستان اور بھارت دونوں اس پر رضامندی کا اظہار کریں۔ انکل سام یہ موقف اس کے باوجود ر کھتا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ دونوں ملکوںمیں اس تنازعہ پر چار باضابطہ جنگیں ہوچکیں ۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کا طرزعمل دراصل اس زمہ داری سے پہلو تہی ہے جس کی بجا طور پر اس پر زمہ دادی عائد ہے۔
بادی النظر میں یقینا اس کا امکان کم ہے کہ مسقبل قریب میں بھارت میں ایسی دوراندیش قیادت کا ظہور ہوجائے جو پاکستان کے ساتھ مسلسل کشدیگی کے نقصانات کا پوری طرح ادارک رکھتی ہو۔ ان دنوں تو حالات یہ ہیں کہ بھارتی وزیر داخلہ سرحد سیل کرنے کا بیان بی جے پی حکومت کے اس موقف کی تصدیق کررہا کہ خرابیوں کا تمام تر زمہ دار پاکستان ہے جہاں سے سرحد پار کرکے شدت پسند مسائل بھارت کے لیے مسائل پیداکررہے۔

Scroll To Top