کون سی فوج بہتر؟ 01-11-2009

ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان آئے اور چلے گئے ۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی آئیں اور چلی گئیں۔ کچھ باتیں میں نے دونوں دوروں میں نوٹ کیس جن کا ذکر میں یہاں کرنا چاہتا ہوں۔ نوٹ تو یقینی طور پر آپ نے بھی کی ہوں گی۔
ترک وزیراعظم کی اہلیہ مکمل طور پر ”لباس حجاب “میںتھیں۔آپ کو اس بات سے کیا پیغام ملا؟ مجھے تو یوں لگا کہ جیسے ہمارے ترک مہمان ہم سے کہہ رہے ہوں۔
” بھائیو اور بہنو۔۔۔ہم اپنی سیکولر شناخت بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہم نے جی بھر کے مغرب زدہ بن کر دیکھا لیکن ہم ترک کے ترک رہے۔ اور آج ہمیں یہ اعتراف اور یہ اقرار کرنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ ہماری جڑیں بھی اسلام میں ہیں ، ہماری شناخت بھی اسلام میں ہے اور ہمارا مستقبل بھی اسلام میں ہے۔ کتنا ہی اچھا ہو کہ آپ اس تجربے سے نہ گزریں جس تجربے سے کئی دہائیوں تک ہم گزرتے رہے ہیں۔ کاش کہ آج کچھ ایساہوجائے کہ ہم دونوں۔۔۔ ہم دو ملک مغرب کی طرف رخ کرکے وہ نعرہ بلند کریں جس نعرے کی گونج نے ساتویں صدی سے لے کر سترہویں صدی تک دنیا پر حکومت کی تھی۔ اللہ اکبر “
یہ کوئی وہم نہیں میرا۔۔۔ میں یہاں ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اروان کے و ہ الفاظ بھی دہراﺅں گا جوگزشتہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے انا طولیہ میں کہے تھے۔
” ہماری تاریخ 1928ء سے شروع نہیں ہوتی ، ہماری تاریخ اس دن سے شروع ہوتی ہے جس دن عثمان نامی ایک ترک نے اس سرزمین پر ہلالی پرچم لہرایا تھا۔“
جہاں تک محترمہ ہیلری کلنٹن کے دورے کا تعلق ہے وہ ایک منجھی ہوئی ذہین سیاست دان اور سفارت کار کا دورہ تھا۔ مجھے البتہ یوں لگا ہے کہ وہ صرف ایک پیغام دے کر گئی ہیں۔
” ہماری امداد لینا تمہاری کوئی مجبوری نہیں۔ تم انکار بھی کرسکتے ہو۔ لیکن انکار کا حوصلہ تم کہاں سے لاﺅ گے۔؟ اگر تم لوگوں نے نیپولین کو نہیں پڑھا تو پڑھو۔ اس نے کہا تھا کہ گیڈروں کی وہ فوج جس کا سالار شیر ہو بہتر ہے شیروں کی اس فوج سے جس کا سالار گیڈر ہو۔“

Scroll To Top