ایک پیج پر چھ کھلاڑی اور دوسرے پیج پر دو

ڈاکٹر شاہد مسعود ایک عرصے سے اِس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جس ”ایک پیج“ کی بات اکثر کی جاتی ہے اس ”پیج“ پر جو نمایاں شخصیات موجود ہیں اُن میں وزیر اعظم میاں نوازشریف کے ساتھ جناب آصف علی زرداری، جناب الطاف حسین،  اسفند یار ولی خان اور مولانا فضل الرحمن پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔
7اکتوبر 2016ءکو جناب آصف علی زرداری نے اپنے فرزند جناب بلاول بھٹو زرداری کو مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے بھیجا۔ اگرچہ دعوت مولانا نے دی تھی مگر زرداری اس سے پہلے مولانا سے رابطہ قائم کر چکے تھے۔ ملاقات کے بعد متذکرہ بالا ”مشہور و معروف پیج“ پر جناب بلاول بھٹو نے بھی اپنے والد اور متعدد ”انکلز“ کے ساتھ اپنی جگہ بنالی۔
انہوں نے”پاکستان مردہ باد“ کا نعرہ لگانے اور لگوانے والے الطاف حسین کو نہ صرف یہ کہ اپنا انکل قرار دے دیا بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ اُن کے اِس انکل کو کراچی کی سیاست سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ گویا وہ یہ فرما رہے تھے کہ یہ اب طے پا گیا ہے کہ کراچی کی سیاست ”پاکستان مردہ باد“ کے نعرے کے گرد گھومے گی۔
زیادہ دلچسپ وضاحت انہوں نے اپنے دوسرے انکل یعنی میاں نواز شریف کے بارے میں کی جنہیں وہ مودی کا یار کہہ کر غدار قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے منتخب وزیر اعظم اوراپنے محبوب انکل کو غدار قرار دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے غدار تو مودی کے یار کو کہا ہے!
یہاں ہمیں انگریزی زبان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس میں چچا ، ماموں ، خالو اور پھوپھا سب کو انکل کہتے ہیں۔ ورنہ انہیں تفریق کرنی پڑتی کہ انکل نوازشریف اور انکل الطاف حسین میں سے ماموں کون ہے اور چچا کون۔
مجھے یہ سب کچھ لکھتے ہوئے دُکھ بھی ہو رہا ہے کیوں کہ بلاول بھٹو بہرحال محترمہ بے نظیر بھٹو کے لخت ِ جگر ہیں۔ جناب آصف علی زرداری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے کے ساتھ بڑا بے رحمانہ کھیل کھیلا ہے۔ بالکل سیڑھی اور سانپ جیسا کھیل۔ دو چار دن پہلے تک بلاول بھٹو آسمانِ سیاست پر چمکنے والے ایک نئے ستارے کی حیثیت سے نظر آرہے تھے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ سانپ اور سیڑھی کا کھیل کیا ہوتا ہے۔
6اکتوبر کے ڈان میں صفحہ اوّل پر جو رپورٹ چھپوائی گئی اور جو اگلے روز تمام بھارتی اخبارات کے صفحات کی زینت بنی، اس میں بڑی مہارت سے پاکستان آرمی کو ایک ”Rogue Army“ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ واضح طور پر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ”سِول قیادت“ نے فوجیوں کو اپنی ”جگہ“ پر لانا شروع کر دیا ہے۔
اگلے ہی روز یہ ”پیج“ تیار ہو کر دنیا کے سامنے آگیا جس پر پانا مہ برانڈ کی جمہوریت کے تمام ستارے یکجا نظر آرہے تھے۔ جمہوریت کے ثنا ءخواں کہیں گے تو یہی کہ ”سِول ملٹری تعلقات“ میں ایک فیصلہ کن موڑ آگیا ہے۔ مگر نیا موڑ دراصل اس جنگ میں آیا ہے جو کچھ عرصے سے پاکستان کو اپنی شکار گاہ سمجھنے والے طالع آزماوں اور پاکستان کو اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھنے والے عوام کے درمیان ہو رہی ہے۔ عوام کی اُمیدوں کا مرکز ایک طرف عمران خان اور دوسری طرف راحیل شریف کی شخصیت ہے۔

Scroll To Top