یہ جنگ بھی شروع ہونے والی ہے17-09-2008

پاکستان میں ایک ”جنس“ ایسے دانشوروں کی بھی ہے جن کی ”دانش“ کی افزائش اور اس کے ”فروغ“ پر مغرب کے ”مخیر“ ادارے لاکھوں کروڑوں ڈالر صرف کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ اصحاب کافی تواتر کے ساتھ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں جلوہ افروز ہوکر اہل پاکستان کو اپنی ”دانش“ سے فیضیاب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ نام لے کر ایسے ”سودگران فکر“ کی نشاندہی میں یہاں نہیں کروں گا۔ مگر میرے خیال میں آپ ان سے ”ناآشنا“ نہیں ہوں گے۔
گذشتہ دنوں اس نسل یا قبیل کے ایک مانے ہوئے مراعات یافتہ دانشور ایک ٹاک شو میں فرما رہے تھے۔
”مسئلہ کشمیر کے وجود سے انکار نہیں مگر کشمیر کشمیر کی رٹ لگائے رکھنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ ہم بے شک برسہا برس تک مجاہدین تیار کرکے کشمیر بھیجتے رہیں، زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ کشمیر کا مسئلہ تو چلتا ہی رہے گا ہمارے لئے ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیں۔“
ان کی ”روشن خیال“ اور ”ڈالرزدہ“ دانش کے جواب میں پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد نے بڑی متانت کے ساتھ کہا۔
”ہم کشمیر کی کلیدی اور بنیادی حیثیت سے انحراف کرکے اپنے دوررس مفادات کا گلا گھونٹیں گے۔“
متذکرہ ”لبرل“ اور ”روشن خیال“ دانشور ایک اور ٹاک شو میں اچھل اچھل کر امریکہ کے اقدامات کی حمایت میں دلائل پیش کر رہے تھے۔ ان کا ساتھ ایک اور ”ہم جنس دانشور“ دے رہے تھے۔ درمیان میں ایک ”شاونسٹ پاکستانی“ بھی بیٹھا تھا۔ اس نے آخر زچ ہوکر کہا۔
”میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بات یہاں امریکی زیادتیوں کی ہو رہی ہے۔ میرے یہ دائیں بائیں بیٹھے حضرات کیوں آپے سے باہر آ رہے ہیں؟“
شاید وقت آگیا ہے کہ آپے سے باہر آنے والے ان ”سوداگران فکر“ کو آپے میں رکھنے کی کوئی صورت نکالی جائے۔
شاید میرا خیال غلط ہو۔ مگر مجھے لگ یوں رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسی پولرائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں ایک طرف ”ڈالرزدہ“ سوچ ہوگی اور دوسری طرف وہ ”تڑپ“ جو قیام پاکستان کا باعث بنی۔

Scroll To Top