اقتدار کامل کی طلب اور آئی ایس آئی ! 16-04-2011

kal-ki-baatیہ مقولہ لارڈ ایکٹن کا ہے کہ اقتدار آدمی کو بدعنوان بناتا ہے اور ” اقتدارکامل “ اسے ”کامل“ طور پر بدعنوان بنا دیتا ہے۔
میں نہیں سمجھتا کہ ملک کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے چند دہائیاں قبل تک یہ سوچا بھی ہوگا کہ ان کے ہاتھوں میں اقتدار اس انداز میں آئے گا جس انداز میں میاں نوازشریف کے ہاتھوں میں 1990ءکی دہائی میں دو مرتبہ آیا اور جناب آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008ءمیں آیا۔
ہمارا ایمان ہے کہ ہر آدمی کا رزق اللہ تعالیٰ شروع میں ہی طے کرچکا ہوتا ہے اور اسی طے کردہ رزق کے مطابق ہر آدمی کو اپنی زندگی میں اتار چڑھاﺅ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یقینا رزق کی طرح اقتدار کا معاملہ بھی قدرت شروع میں ہی طے کردیتی ہوگی۔یہ باتیں میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ میاں نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری دونوں کی داستانِ عروج نے میری نظروں کے سامنے جنم لیا ہے۔
1979ءمیں میاں نوازشریف اس تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے جس کے منشور کی تیاری میں میں نے محترم ایئر مارشل اصغر خان کی معاونت کی تھی ۔ پھر جب میں نے 4جون1981ءکو اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میڈاس کی بنیاد رکھی تو افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی میاں نوازشریف تھے جو اس وقت پنجاب کے وزیر خزانہ تھے۔ انہیں پنجاب کے گورنر جنرل جیلانی تحریک استقلال سے اغواءکرکے لے گئے تھے۔ میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تب میاں صاحب کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ آنے والے ایام میں اقتدار اس طرح ان کی جھولی میں گرتا چلا جائے گا جس طرح گرتا چلا گیا۔ یہ بات صرف قدرت کے علم میں تھی کہ میاں نوازشریف کے مقدر میں کیا لکھا ہے۔ قدرت میاں صاحب کا تعلق جنرل ضیاءالحق سے قائم کرنے کا بندوبست کرچکی تھی۔
قدرت نے ہی میں جناب آصف علی زرداری کا تعلق بھٹو خاندان سے قائم کرنے کا بندوست کرلیا تھا۔
اس کے باوجود بیس برس بعد بھی زرداری صاحب کے خواب و خیال تک میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ اقتدار اس قدر فراوانی کے ساتھ ان کی جھولی میں گرنے والا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ دسمبر2007ءکے وسط میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے اے آر وائی جاوید ملک کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” آصف کا سیاست سے کیا تعلق ؟“ سوال یہ تھا کہ ” آصف دوبئی سے پاکستان کب جائیں گے ۔؟“
قدرت اُس وقت مسکرا رہی ہوگی۔ 27دسمبر 2007ءکو محترمہ شہید کردی گئیں اور آصف علی زرداری اچانک پاکستان کی سب سے زیادہ مقتدر سیاسی شخصیت بن گئے۔
میں نے کالم کا آغاز لارڈ ایکٹن کے اس مقولے سے کیا تھا جس کا تعلق اقتدار کی فطرت سے ہے۔ کرپشن اقتدار کی فطرت میں رچی بسی ہے۔
اور ہماری دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ ” اقتدارکامل“ کے طلبگار ہیں ¾ جو انہیں صرف ایک صورت میں مل سکتا ہے کہ یا تو آئی ایس آئی رحمان ملک کی سربراہی قبول کرلے یا چوہدری نثار علی کا مشورہ مان کر وہ سارے کام بھی سیاستدانوں پر چھوڑ دے جنہیں وہ ملکی سلامتی کا حصہ سمجھتی ہے۔

Scroll To Top