بجھتے چراغ اور امیدوں کے مزار 09-04-2011

aaj-ki-baat-new-21-april
ٹھوس حقائق سے چشم پوشی کا رویہ ایک بہتر اور زیادہ پرُامید مستقبل کی نوید نہیں بن سکتا۔ اور حقائق بڑے ہی تلخ ہیں۔
بات ہم 7اکتوبر 1958ءسے شروع کرتے ہیں۔ آج ہم ” ایوبی آمریت کی آمد“ کو پاکستان کے مسائل و مصائب کا نکتہ آغاز قراردیتے ہیں مگر جب جنرل ایوب خان کی آواز ریڈیو پاکستان پرپہلی دفعہ گونجی تھی تو وطن عزیز کی بڑی ہی غالب اکثریت نے جشن انقلاب منایا تھا۔
دس سال بعد وہی غالب اکثریت ملک کے طول و عرض میں ایوبی آمریت سے نجات پانے کا عزم لے کر سڑکوں پر آچکی تھی ۔ اور مارچ 1969ءمیں جب جنرل یحییٰ خان کی ” آواز انقلاب “ فضاﺅں میں بلند ہوئی تھی تو گھر گھر میں امید کے چراغ جل اٹھے تھے۔
جب 20دسمبر1971ءکو جنرل یحییٰ خان کا ” عہد خرابی “ ختم ہوا اور زیڈ اے بھٹو ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا عزم لے کر پاکستان کے افق پر نمودار ہوئے تو انقلاب کا ایک اور جشن منایا گیا۔
اپریل 1977ءمیں ملک کی ایک بہت بڑی اکثریت ایک بہت ” وسیع السمت “ اتحاد کی صورت میں ” بھٹو کے عہد خرابی “ سے جان چھڑانے کے لئے سڑکوں پر آچکی تھی۔ جب 5جولائی 1977ءکو جنرل ضیاءالحق نے ایک نئے مسیحا کے روپ میں اپنی آمد کا اعلان کیا تو ” نظام مصطفی “ کا نعرہ بلند کرنے والے کروڑوں لوگوں نے ایک بار پھر اپنے چراغوں میں امید کا تیل ڈال دیا۔
اگست 1988ءمیں جب جنرل ضیاءالحق کا طیارہ فضا میں پھٹا تو کروڑوں آنکھیں ایسی تھیں جن کی ” مردنی“زندگی کی چمک میں تبدیل ہوگئی۔
اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کے درمیان میوزیکل چیئرز کا کھیل شروع ہوا جس کا خاتمہ جب 12اکتوبر1999ءکو ہوا تو ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی جو ” عہد جمہوریت “ کے خاتمے پر نوحہ کناں ہونے کے لئے بے چین تھے۔ قوم نے ایک بار پھر اپنے دل و دماغ میں امیدوں کے چراغ روشن کرلئے۔
پھر مارچ 2007ءآیا۔ اور ” انقلاب کی برکات سے فیض پانے کے متمنی عوام “ ایک بار پھر ایک نئے مستقبل کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے۔
اس نئی جستجو نے جو ” منزل “ پائی ہے وہاں عوام ایک بار پھر کھوئی کھوئی نظروں اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ” چہار سُو“ دیکھ رہے ہیں۔ کہ شاید کوئی ایسا چہرہ نظر آجائے جسے وہ اپنا اگلا ناخدامان لیں۔ مگر دور دور تک انہیں اپنی امیدوں کے مزار ہی مزار نظر آرہے ہیں۔
انہیں کون بتائے گا کہ اگر اپنے خوابوں کے پاکستان کو ایک حقیقت بنانا ہے تو اٹھو اور اس نظام کو گرا دو جو تمہیں ناخدا نہیں نئے جلاد دینے کا عادی ہے۔
ہمارا اصل دشمن وہ آئین ہے جس میں عوام کو اپنا لیڈر خود منتخب کرنے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔
(یہ کالم09اپریل2011ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top