شہیدوں کی روحیں ویزاعظم سے کچھ پوچھ رہی ہیں

kuch-khabrian-new-copy


وطنِ عزیز کے ازلی دشمن بھارت کے بڑے صنعتکار سجن جندال کے دورہ ءافغانستان و پاکستان کے بعد بھارتی ایجنڈے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔ چمن بارڈر پر افغان فوج کا حملہ ایک لحاظ سے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حملے میں جو شہادتیں ہوئی ہیں وہ پُکار پُکار کر پاکستان کے وزیر اعظم سے پوچھ رہی ہیں کہ تم نے دوستی کے لئے ہمارے بد ترین دشمنوں کا انتخاب کیوں کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کا نام پاکستان کے غداروں کی فہرست میں سب سے اوپر آتا تھا وہ تمہارے مشیر بنے ہوئے ہیں؟

مجھے یقین ہے کہ میاں صاحب کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔یہ یقین مجھے اس لئے ہے کہ دولت کے انباروں پر بیٹھے لوگوں کا کوئی وطن نہیں ہوا کرتا۔۔ اگر اُن کا کوئی وطن ہوتا تو پانامالیکس کے کیس کے لئے اتنا بڑا بنچ کیوں بنتا؟۔۔ وہ فلیٹ کیوں میاں خاندان کے ساتھ منسوب ہوتے جو برطانوی شہریوں کی ملکیت ہونے چائیں۔؟
بڑی خبر آج کی یہ ہے کہ پاناماکیس کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لئے قائم کئے جانے والے بنچ نے ایک با اختیار جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس جے آئی ٹی کو ملکی وغیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا اس کا ہیڈکوارٹر جوڈیشل اکیڈیمی اسلام آباد میں ہوگا اور یہ براہِ راست سپریم کورٹ کی نگرانی میں کام کرے گی۔
اس جے آئی ٹی کا بنیادی کام عدالت کے سامنے کوئی ایسا ٹھوس ثبوت لانا ہوگا جو جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار کے فیصلے کو غلط ثابت کر سکے۔ اگر ایسا ثبوت میاں صاحب اور ان کا خاندان جے آئی ٹی کو مہیا نہ کر سکا تو عدالت کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار کے فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کر دے۔۔

Scroll To Top