کیا فوج 99 پر ڈٹی رہے گی ؟

aaj-ki-baat-new-21-aprilپاکستان کے مایہ ناز کپتان مصباح الحق کو اُن کی اہلیہ نے ” مسٹر99“کا لقب دے ڈالا ہے۔۔۔ اِس ریسٹ انڈین سیریز میں مصباح الحق نے دو مرتبہ 99کیا۔۔۔ ایک بار ناٹ آﺅٹ رہے اور دوسری بار آﺅٹ ہوگئے۔۔۔ دونوں مرتبہ انہوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن 99تو بنا لئے وہ ” ایک “ رن نہ بنا سکے جس سے سنچری بنتی ہے اور نام ریکارڈ بکس میں جاتا ہے۔۔۔
پاکستان کی فوج کی بالکل یہی مثال ہے ۔۔۔ اور معاملہ روزنامہ ڈان میں اکتوبر کے اوائل میں چھپنے والی خبرکا ہے جسے خود وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کسی سازشی ذہن کی اختراع قرار دیا تھا جس کا واحد مقصد دنیا میں پاک فوج کے ” امیج“ کو داغ داغ کرنا تھا۔۔۔آپ کو یاد ہوگا کہ چوہدری صاحب نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ چار پانچ دن میں ملزم یا ملزمان کو پکڑ لیا جائے گا اور اسے یا انہیں قرار واقعی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔۔۔
پاک فوج کا ردعمل اس سے بھی زیادہ شدید تھا۔۔۔ کیوں کہ متذکرہ خبر پرائم منسٹر ہاﺅس میں ہونے والے ایک اجلاس کے حوالے سے تیار کرکے چھپوائی گئی تھی۔۔۔ تب کے آرمی چیف دو مرتبہ اس معاملے پر وزیراعظم سے ملے اور انہیں ” کور کمانڈرز“ کی شدید تشویش سے آگاہ کیا۔۔۔ لگتا تھا کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔۔۔ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ وزیراطلاعات پرویز رشیدکی تو ابتداءمیں ہی چھٹی کرادی گئی تھی۔۔۔ پر وزیراعظم اس سنگین معاملے کو ہوا میں تحلیل کرا دینے کی حکمت عملی میں کامیاب ہوئے اور نوبت جب بالآخر معاملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے تک پہنچی تو وزیراعظم کے نہایت ” لاڈلے“ پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے دستخطوں سے یہ ” حکم نامہ “ جاری کردیا گیا کہ مشیر خارجہ امور طارق فاطمی اور پی آئی او تحسین راﺅ کو اپنے موجودہ عہدوں سے فوری طور پر ہٹایا جارہا ہے۔۔۔ظاہر ہے کہ فوج نے جس امید پر بڑے صبر و تحمل سے اتنا لمبا انتظار کیا تھا اس پر پانی پھیر دیا گیا تھا۔۔۔ فوج چاہتی تھی کہ اگر کسی ” خاص شخصیت“ کو بچانا مقصود ہو بھی تو بھی اصل حقائق مناسب حد تک سامنے ضرور آنے چاہئیں۔۔۔ فواد حسن فواد کے جاری کردہ آرڈر پر فوج کا فوری ردعمل سامنے آیا اور آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا کہ متذکرہ آرڈر چونکہ رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا اس لئے اسے مسترد کیا جاتا ہے۔۔۔یہ ٹویٹ ملکی سیاست میں تلاطم لانے کے لئے کافی تھی۔۔۔ اور یہ ٹویٹ میجر جنرل آصف غفور کی ذاتی رائے نہیں فوج کی اجتماعی منشاءکی مظہر تھی۔۔۔
حکومت نے عجیب و غریب حکمت عملی تیار کی۔۔۔ ایک طرف جاتی امراءمیں ایک طویل اجلاس ہوا تاکہ فوج کی شکایت کا مداوا کیاجاسکے۔۔۔ دوسری طرف میجر جنرل آصف غفور کے خلاف خصوصی طور پر اور فوج کے خلاف عمومی طور پر میڈیا پر ایک منظم مہم شروع کردی گئی کہ ملک کے منتخب وزیراعظم کی نافرمانی کرکے آئین کو پامال کیا گیا ہے۔۔۔
اس ضمن میں وزیراعظم کی لاڈلی صاحبزادی مریم کی جو ٹویٹ سامنے آئی وہ واضح طور پر ” وزیراعظم ہاﺅس “ کے اندر پنپنے والی سوچ کی آئینہ دار تھی۔۔۔
” کسی بھی شخص کو کسی سے بھی ملاقات کرکے کوئی بھی حل تلاش کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔۔۔“ یہ مریم صاحبہ کی ٹویٹ کا مفہوم تھا۔۔۔
لوگوں کا خیا ل تھا کہ اگلے چوبیس گھنٹے اہم ہوں گے۔۔۔ مگر جس طرح چوبیس ہفتے گزرے تھے اسی طرح چوبیس گھنٹے بھی گزر گئے۔۔۔
اور اب مکمل سناٹا ہے۔۔۔
کیا فوج مصباح الحق کی طرح 99پر ہی ڈٹی رہے گی ؟
کیا اُس ایک رن کا اضافہ نہیں ہوگا جس سے سنچری مکمل ہوتی ہے!

Scroll To Top