جنرل عبدالقادر بلوچ صاحب۔۔ آپ نے اپنے سابقہ ادارے کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔۔۔۔

kuch-khabrian-new-copy


مشہور بھارتی صنعتکار سجن جندال اچانک میاں نواز شریف کے مہمان بن کر پاکستان کیوں آئے اس کا حقیقی علم ان دونوں کو ہی ہوگا۔ یا پھر اس شخصیت کو جس نے سجن جندال کو ایک ایسے موقع پر پاکستان بھیجا جب میاں صاحب اپنی سیاسی زندگی کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بات قرین قیاس نہیں کہ وہ کسی مشترکہ بزنس پراجیکٹ پر تبادلہ ءخیالات کرنے کے لئے آئے ہوں گے۔ زیادہ قرین قیاس یہ بات ہے کہ وہ میاں صاحب کے لئے یک جہتی کا کوئی پیغام لائے ہوں گے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جندال کے دورے کے بعد میاں صاحب کا رویہ خاصا جارحانہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو سچا اور حقیقی شیر اور اپنے تمام مخالفین کو گیڈر قرار دے ڈالا ہے۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ پاک فوج کو بھی اپنے مخالفین کی فہرست میں شامل کر چکے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سلطان ٹیپو اور نیپولین کے اس مشترکہ مقولے سے بہت متاثر ہوئے ہیں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ اس مقولے کو انہوں نے یوں تبدیل کیا ہے کہ وہ اکیلے شیر سو گیڈروں پر بھاری ہیں۔
پاکستان کے لئے لمحہ ءفکریہ یہ ہے کہ اس شیر میں ہوا بھارت بھر رہا ہے ۔ مجھے اس ضمن میں جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ کے عسکری پسِ منظر پر شبہ ہو رہا ہے۔ وہ میاں صاحب کے زبردست مداح ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عقل و شعور سے رشتہ توڑ لیں۔ کون نہیں جانتا کہ بھارت پاکستان کا اور اس کی فوج کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس دشمن ملک کا ایک اہم آدمی بغیر سکیورٹی کلیرنس کے پاکستان کیسے آیا۔؟کیا دشمن کو دوست سمجھنا اور اس کے آگے بچھ بچھ جانا حب الوطنی ہے۔؟
جنرل عبدالقادر بلوچ صاحب۔۔آپ نے اپنے سابقہ ادارے کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔۔۔۔

Scroll To Top