اندھی عقیدتوں اوربہری نفرتوں کا کھیل 04-04-2011

kal-ki-baat
1960ءکی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو میرے ہیرو تھے۔ 1970ءکی دہائی میں ان کے بت کو میں نے اپنے پرستش کدے سے نکال باہر پھینکا۔ 1980ءکی دہائی میں جب میں نے اپنے فکری اور جذباتی رویوں کوٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ پرکھا تو میں اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر نہ رہا کہ نہ تو ہماری عقیدتیں اندھی ہونی چاہئیں اور نہ ہی ہماری نفرتیں بہری۔
اندھی عقیدتوں اور بہری نفرتوں کے کھیل نے ہی اُس خوفناک پولرائزیشن کو جنم دیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایٹمی ویژن دینے والے اور عالم اسلام کو ایک طاقتور سیاسی بلاک بنانے کا خواب دیکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر جانا پڑا۔
جس الزام کو جرم ثابت کرکے بھٹو کو سزائے موت سنائی گئی وہ ” الزام “ خود ان جلادوں کے ذہنی افلاس کا منہ بولتا ثبوت تھا جو سمجھتے تھے کہ ” زندہ بھٹو “ انہیں چین کی نیند سونے نہیں دے گا۔
جن اندھی عقیدتوں اور بہری نفرتوں نے بھٹو کی کہانی کو جنم دیا تھا ` وہ آج بھی اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔
آج بھی سیاسی شعبدہ باز اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اندھی عقیدتوں اور بہری نفرتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اب پھانسی پر وہ سوچ چڑھے جس میں گرفتار لوگ اپنے اقتدار اور اپنے مفاد کی خاطر ملک و قوم کا مفاد بھی داﺅ پر لگانے سے گریز کرنے والے نہیں۔۔۔

Scroll To Top