ایک تاریخی دستاویز کا 83سالہ سفر

aaj-ki-baat-new-21-april


مسلم نشاة ثانیہ کے خواب کو سیاست کے مرکزی دھارے میں لانے کا سہرا علامہ اقبال ؒ اور جمال الدین افغانی ؒ جیسی عظیم شخصیات کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے لوگوں کے سر پر بھی ہے جنہیں یہاں لوگ یا تو جانتے ہی نہیں یا پھر بہت سطحی طور پر جانتے ہیں۔اس فہرست میں ایک بڑا نام شام کے ایک گمنام و کیل کا بھی ہے جو ایک صحافی بھی تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں اس کا نام اس لئے نہیں آئے گا کہ اس نے کسی سیاسی جماعت یا تحریک کی بنیاد نہیں رکھی تھی۔ اس کے نام کی بڑائی صرف اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس نے ایک بڑا خواب دیکھا تھا۔ یہ خواب اس نے یقینا انیسویں صدی کے اختتام پر دیکھا ہوگا کیوں کہ اسے قلمبند اس نے 1899ءمیں ایک صحافی کی حیثیت سے کیا۔
یہ کہانی شام کے شہر حلب کے ایک ممتاز تاجر گھرانے سے تعلق رکھنے والے وکیل اور صحافی عبدالرحمان الکواکبی کی ہے۔
اس نے ایک صحافی کی حیثیت سے 23جنوری 1899ءکے روز مکہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کی رپورٹ ایک جریدے میں شائع کی جس میں دنیائے اسلام کے متعدد اکابرین نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس کا مقصد دنیائے اسلام کے عمومی حالات کا جائزہ لینا ` اور عالمی سطح پر ایک جامع ” اسلامی پالیسی“ اختیار کرنے کے امکانات پر غور کرنا تھا۔
جن لوگوں نے اس کانفرنس کی روئیداد پڑھی ہوگی ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ ایسی کوئی کانفرنس نہیں ہوئی تھی اور اسے عبدالرحمان کواکبی نے اپنے ذہن میں پرورش پانے والے ” تصورامہ “ کے مقاصد کے اظہار کے لئے محض سوچا تھا۔ عبدالرحمان الکواکبی کی یہ فرضی کانفرنس اس دور میں مسلم نشاة ثانیہ اور اسلامی اتحاد کا خواب دیکھنے والے مفکرین کی سوچ کا تسلسل تھی۔ اس سوچ نے جڑیں 1870ءمیں پکڑنی شروع کردی تھیں۔ سلطنت عثمانیہ تب بڑی تیزی کے ساتھ روبہ زوال تھی۔ اور زوال کا عمل عثمانی ادیبوں مفکروں اور صحافیوں میں ایک طرف تو بڑا شدید احساس زیاں پیدا کررہا تھا اور دوسری طرف زوال کو روکنے اور ترقی کے پہیے کو دوبارہ حرکت میں لانے کی زبردست امنگ بھی پیدا ہورہی تھی ۔ ان مفکروں میں نامق کمال کا نام خاصی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ تحریک خلافت کی حقیقی داغ بیل نامق کمال نے ہی ڈالی تھی۔ خلافت کے تصور کو بین الاقوامی سطح پر ” کوکوک کینر کا “ کے امن معاہدے میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ یہ امن معاہدہ 1774ءمیں ترکی اور روس کے درمیان چھ سال تک جاری رہنے والی جنگ کے اختتام پر ہوا تھا۔
اس معاہدے میں سلطنت عثمانیہ کے حکمران کو ایک خلیفہ کی حیثیت سے پورے عالم اسلام کا نمائندہ مان لیا گیا۔ اس بات کا واضح مطلب یہ تھا کہ ” مسلم امہ “ کے تصور کو آفاقی قبولیت 237برس قبل ہی حاصل ہوگئی تھی۔ اس تصور کو مضبوط بنانے کے لئے عثمانی سلطان عبدالمجید اور پھر سلطان عبدالعزیز نے خاصا کام کیا مگر اسے ایک سیاسی حقیقت بنانے میں اہم کردار سلطان عبدالحمید نے ادا کیا جو سلطنت عثمانیہ کے آخری حکمران تھے۔
خلافت کا تصور ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے بعد مصر کے مملوکوں نے اپنایا تو تھا مگر اس کی حیثیت بالکل رسمی تھی جب مملوکوں کا دور1517ءمیں ختم ہوا تو اس کے ساتھ ہی خلافت کا ذکر بھی ختم ہوگیا۔
انیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں میں روبہ زوال سلطنت عثماینہ نے ” مسلم امہ “ کے نظریے کی بنیاد پر خلافت کے تصور کو آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ` اور اس کوشش میں نامق کمال جیسے مفکروں نے بھرپور حصہ لیا لیکن جسم میں سرطان سرایت کرچکا ہو تو کسی دوا یا نسخے سے اسے صحت اور توانائی نہیں دی جاسکتی۔
تحریک خلافت کے مقدر میں ناکام ہونا لکھا تھا۔ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کے اتحادی کی حیثیت سے سلطنت عثمانیہ کو زبردست شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا۔
نامق کمال اور عبدالرحمان کواکبی جیسے خواب پرستوں کی امنگیں پہلی جنگ عظیم کے فاتحین کے قدموں تلے اس قدر بری طرح کچلی گئیں کہ سلطنت عثمانیہ کے کھنڈرات پر جس ترکی نے جنم لیا اس کی شناخت سیکولر قرار پائی۔ جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک نے دین یعنی اسلام کو سیاست سے نکالنے کے لئے جو آہنی اقدامات کئے ان کاذکر میں اس تجزیے میں کرنا نہیں چاہتا۔یہاں میرا مقصد اس حقیقت کی نشاندہی کرنا ہے کہ اپنے سیاسی معاشی اور معاشرتی زوال کی ذمہ داری اسلام پر ڈالنا حقائق سے چشم پوشی کرنے کے مترادف تھا۔
مسلمانوں کو زوال کا سامنا اس وجہ سے نہیں کرنا پڑا تھا کہ وہ اسلام کو ماننے والے تھے۔ ان کے زوال کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام سے دور چلے گئے تھے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ اسلام سے عملی طور پر منحرف ہوگئے تھے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فاتحین نے دنیائے عرب کی تقسیم اپنے دور رس مفادات کو سامنے رکھ کر کی۔ جو مملکتیں اس تقسیم کے نتیجے میں قائم ہوئیں ان کے حکمران عملی طور پر مغربی طاقتوں کے ” فرمان بردار “ تھے یہی وہ سیاسی پس منظر تھا جس میں آج کی عرب دنیا میں بیداری کی تحریکوں کو ” فکری ایندھن “ فراہم کرنے والی اخوان المسلمین نے جنم لیا۔
اگرچہ اہل مغرب اور خود ہمارے سیکولر دانشور اس غلط فہمی میں مبتلا رہنا چاہتے ہیںکہ تیونس ` مصر اور لیبیا میں جو کچھ ہوا ہے یا ہورہا ہے اس کا ” مسلم تشخص“ اور اخوان المسلمین کی تحریک سے کوئی تعلق نہیں ` لیکن بہت جلد دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ عرب دنیا میں جو طوفان اٹھا ہے وہ نئی امنگوں سے سرشار ” امت “ کو کس سمت میں لے جارہا ہے۔
یہاں میں اس تاریخی دستاویز کو قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں جسے ایک منشور کے طور پر اختیار کرکے حسن البنیٰ نے اخوان المسلمین کی بنیاد ڈالی تھی ۔1928ءکی یہ دستاویز اس انقلاب کی پیش رو اور پہچان کہی جاسکتی ہے جو آج عالمِ اسلام کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔
یہ دستاویز دراصل ایک حلف نامہ تھا۔ ملاحظہ فرمائیں۔
(1)۔میرا ایمان ہے کہ ہر چیز اللہ کے تابع ہے ۔ اور حضرت محمد نسل انسانی کے لئے اللہ کا آخری پیغام لائے۔ یہ بھی کہ قرآن خدا کا کلام ہے او ر ایک یوم ِحساب ہوگا جس کے بعد آخرت کی زندگی ہوگی۔یہ بھی کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ ءحیات ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ بھی کہ میں روزانہ کم ازکم ایک آیت کی قرا¿ت مفہوم سمجھ کر ضرور کروں گا ` آنحضرت کی حیات مبارکہ کا مطالعہ بھی کروں گا اور آپ کے پیروکاروں کی تاریخ سے استفادہ کرتا رہوں گا۔
(2)۔میرا ایمان ہے کہ راست عمل ` نیکی اور علم اسلام کے ستونوں میں ہیں۔میں عہد کرتا ہوں کہ نیک عمل اپناﺅں گا اور بدی سے دور رہوں گا ۔ اسلامی طور طریقے اختیار کروں گا اور محبت اور بھائی چارے کو رقابت اور دشمنی پر ترجیح دوں گا۔ میں غیروں سے امیدیں نہیں باندھوں گا ` اپنے دین کی تعلیمات کو پھیلاﺅں گا اور سائنسی علوم اور آگہی کو پوری قوم میں فروغ دینے کے لئے کام کروں گا۔
(3)۔میرا ایمان ہے کہ ہر مسلمان اپنے خاندان کی فلاح کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ اپنے گھر والوں کی صحت کا خیال رکھے ` ان میں اچھی عادات اور دین کی آگہی پیدا کرے ۔میں عہد کرتا ہوں کہ میں اپنی یہ ذمہ داری پوری دیانت سے پوری کروں گا۔ اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں داخل نہیں کراﺅں گا جو مسلمانوں کے عقائد سے آگہی نہ دلاتے ہوں۔ میں اپنے بچوں کو ایسی کتابوں ایسے رسائل ایسی تنظیموں اور ایسے کلبوں سے دور رکھنے کی کوشش کروں گا جو اسلامی عقائد کے خلاف رحجانات پیدا کرتی ہوں۔
(4) ۔میرا ایمان ہے کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ” امت مسلّمہ “ کے احیا کے لئے کام کرے ` اسلام کو بالادست اور غالب حیثیت دلانے کے لئے جدوجہد کرے اور اسلامی تعلیمات کا فیض پوری نسلِ انسانی تک پھیلانے کے لئے سرگرم عمل رہے۔
میں عہد کرتا ہوں کہ اپنی پوری زندگی ان ہی مقاصد کے حصول کے لئے وقف کردوں گا۔
اس دستاویزکو پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیںکہ جو باتیں 1928ءمیں سچ تھیں وہ آج بھی سچ ہیں۔
یہ کالم 03اپریل2011ءکو بھی شائع ہواتھا ۔۔۔

Scroll To Top