گفتگو کا مقصد شام میں پرتشدد حالات کے مکمل خاتمے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے، روس۔ فوٹو: فائل واشنگٹن / ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور شام کی موجودہ صورت حال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پیوٹن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شام میں تمام فریقین کو جنگ بندی کے خاتمے کے لئے عملی طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس خبر کو بھی پڑھیں: امریکا شام میں کیمیائی حملوں کی سازش کر رہا ہے، پیوٹن دوسری جانب سے روس کے صدارتی محل کریملین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں آگے بڑھ کر شام میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کوششیں کرنی چاہئیں۔ اس گفتگو کا مقصد شام میں پرتشدد حالات کے مکمل خاتمے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا ہے۔ اس خبر کو بھی پڑھیں: پیوٹن سے ہوشیاررہیں، برطانوی وزیراعظم کا ٹرمپ کو مشورہ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک کے صدور کے درمیان شمالی کوریا کی صورت حال کے ممکنہ حل پر بھی بات چیت ہوئی، جب کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد پہلی ملاقات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔ روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان جولائی میں جی 20 اجلاس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔ واضح رہے کہ شام میں ایک ماہ قبل ہونے والے امریکی فضائی حملے کے بعد امریکا اور روس کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے صدور نے ٹیلی فون پر ایک دوسرے سے رابطہ کیا۔

parlimantبرطانیہ میں عام انتخابات کے بعد ہی بریگزٹ پر یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مذاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔ (فوٹو: فائل)

لندن: برطانیہ میں 8 جون کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل پارلیمنٹ تحلیل کردی گئی ہے جبکہ پارلیمانی ارکان نے گزشتہ ہفتے سے ہی اپنے دفاتر خالی کردیئے تھے۔

عام انتخابات کے بعد ہی برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے (بریگزٹ) کے معاملے پر مزید مذاکرات ہوں گے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے گزشتہ ماہ اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کےلیے جون میں عام انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ حالیہ ایگزٹ پولز کے مطابق تھریسا مے کی کنزرویٹیو پارٹی کو حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی پر واضح برتری حاصل ہے۔

برطانیہ میں قانون کے مطابق عام انتخابات سے پچیس دن قبل پارلیمنٹ تحلیل کردی جاتی ہےاور باقاعدہ طور پرانتخابی مہم کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وزراء عبوری حیثیت میں اپنی اپنی وزارتوں کے ذمہ دار رہتے ہیں اور انتخابی نتائج آنے تک اپنے قانونی امور سرانجام دیتے رہتے ہیں جبکہ انتخابی عمل پورا ہوجانے کے بعد نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے۔

بریگزٹ پر مذاکرات کےلیے یورپی یونین کی جانب سے مرکزی عہدیدار مچل بارنیئر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مذاکراتی ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ معاملہ اکتوبر 2018 تک خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔

Scroll To Top