امریکی ڈومور کی پالیسی بدستور جاری ہے

امریکہ بہادر کی یہ حکمت عملی یقینا سوچی سمجھی ہے کہ پاکستان سے ڈور مور کا مسلسل تقاضا کیا جاتا رہے۔ انکل سام کو باخوبی اندازہ ہے کہ کہ جس دن اس نے پاکستان کی جانی ومالی قربانیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرلیا اس دن ہی کچھ نہ کچھ ضرور دینا پڑجائیگا۔ ایف سولہ طیاروں کی فروخت کا معاملہ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اٹھنے والے اخراجات میں مدد کے علاوہ 30کروڈ ڈالر کی امداد پر پابندی انکل سام ہر وعدے سے انحراف کی پالیسی پر گامزن ہے۔اب تو یہ معمول بن چکا کہ امریکہ محکمہ خارجہ کے ترجمان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار بارے جب بھی سوال پوچھا گیا تو حقانی نیت ورک اور ان تنظمیوں کے خلاف کاروائی کا تقاضا کیا گیا جو بعقول امریکہ کہ پڑوسی ملکوں میں امن وامان خراب کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
تازہ پیش رفت یہ ہوئی کہ افغانستان اور پاکستان بارے امریکہ کے خصوصی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک وہ بیرونی ملکوں پر حملے کرنے والے گروہوں کو برداشت کرنے کی پالیسی نہیں بدلتا“۔
امریکی سینٹ کی کمیٹی بارے خارجہ امور میں افغانستان میں ہونے والی ایک بحث کے دوران امریکہ کے خصوصی سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ پاکستان پر واضح کیا جاچکا کہ اسے تمام شدت پسند تنظمیوں کو بلاامیتاز نشانہ بنانا ہوگا۔بحث کے دوران کچھ امریکی سینٹروں کی رائے یہ تھی کہ پاکستان قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہے اور وہ حقانی نیٹ ورک کا ساتھ دے کر افغانستان میں امریکہ کے خلاف کاروائی کررہا ہے۔ بحث کے دوران اولسن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان مذکورہ تنظیموں کے خلاف اقدمات اٹھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کے اپنے ہمسایہ ملکوں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کے علاوہ خطے میں بھی استحکام آئیگا۔ رچرڈ اولسن نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے مقامی دہشت گردوں کے علاوہ کاروائی کی تو اسے ان تنظیموں کے ساتھ ایک نئی جنگ شروع کرنی پڑے گی جو وہ نہیں کرنا چاہتا۔“
دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے ایک بیان میں کہا کہ دنیا کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہے کہ پاکستان افغانستان کی جنگ بھی لڑے گا۔ “
یہ یقینا افسوسناک صورت حال ہے کہ امریکہ بہادر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان پر دباو بڑھا رہا کہ وہ ان گروہوں کو بھی نشانہ بنائے جو شائد اس کے لیے براہ راست خطرہ نہیں ہیں۔ بادی النظر میں انکل سام پاکستان سے ایک نئے محاذ پر سرگرم ہونے کا مطالبہ کررہا۔ ضرب عضب کے نتیجے میں خبیر تا کراچی جس قدر امن ہوا اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشیش کی جارہی۔ ڈو مور کا مطالبے کرتے ہوئے انکل سام اوراس کے حواری یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ پاکستانی معیشت کسی طور پر مذید جنگی اخراجات برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ سچ یہی ہے کہ پاکستان ذیادہ تر اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے اس پچیدہ جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کررہا جس سے امریکہ، افغانستان اور بھارت تاحال محروم ہیں۔ معاملہ اس قدر آسان نہیں جس قدر سمجھا جارہا ۔ ہونا تو یہی چاہے تھا کہ انکل سام حکمت عملی کے ساتھ پاکستان کو ان اہم مسائل پر قابو پانے میں مدد دیتا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسے آگے بڑھنے سے روک رہی ہیں۔خود کو عالمی تنازعات میں ثالثی کے طور پر پیش کرنے والا امریکہ بہادر تاحال بھارت پر فیصلہ کن دباو ڈالنے کا تیار نہیں جس کے نتیجے میں تنازعہ کشمیر پر دیرپا حل نکل آئے۔حیرت انگیز طور پر انکل سام نہیں سمجھ پا رہا کہ بھارت کو سیاسی ، معاشی اور عسکری حوالوں سے طاقتور بنانے کی حکمت عملی پاکستان کے غم وغصہ میں اضافہ کررہی۔ انکل سام جنوبی ایشیا میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولہ کامیابی سے آزما رہا۔ بھارت کو پاکستان کے خلاف تیار کرنے کے علاوہ چین کے اثررسوخ کو کم کرنے کے لیے بھی اس کی ہمت بڑھائی جارہی۔یہ کہنا درست ہے کہ امریکہ جب تک اس خطے میں اپنی غیر جانبداری ثابت نہیں کریگا اس کے ہر عمل کو شکوک وشبہات سے دیکھنے والوں میں ہرگز کوئی کمی واقع نہیں ہونے والی۔
یہ امر باعث تعجب ہونے کے علاوہ تشویشناک بھی ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں عالمی برداری کسی صورت مثبت کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ تسلیم کہ اقوام عالم کے بھارتی منڈیوں سے معاشی مفادات وابستہ ہوچکے مگر سچ یہ ہے کہ ہر فائدہ امن وامان سے مشروط ہے، اگر دو ایٹمی قوتوں میں مسلسل کشیدیگی برقرار رہے گی تو پھر تجارتی سرگرمیوں کا بڑھنا مخض خواب ہی رہیگا۔ بعض حلقوں کے خیال میں امریکہ پاکستان پر جتنا دباو ڈال رہا اگر اس کا عشر عشیر بھی بھارت پر ڈالتا تو شائد خطے میں بہتری زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتی۔
بظاہر یہ کہنا غلط نہیں کہ امریکہ ، بھارت ، افغانستان اور بنگہ دیش کی شکل میں ایسا اتحاد ابھر رہا جو پاکستان کے خلاف کوئی اقدمات اٹھا سکتا ہے۔ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے والوں کو تاحال اس کا احساس نہیں ہورہا کہ یہ عمل فائدہ دینے کی بجائے خطے کے باسیوں کے لیے خسارے کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکی سینٹ میں پاکستان مخالف لابی کا طاقتور ہونا بلاوجہ نہیں آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر ایسے اقدمات اٹھائے جاسکتے ہیں جو پاکستان کو من مانے اقدمات اٹھانے پر مجبور کردیں ۔ وقت آن پہنچا کہ ارباب اخیتار کو موثر اور متحرک حکمت عملی کے لیے سرجوڈ کر بیٹھ جائیں۔

Scroll To Top