آرمی چیف نے اپنے آپریشن کا نام ردِالفساد سوچ سمجھ کر ہی رکھا ہے !

aaj-ki-baat-new-21-april

شہبازشریف سے لاکھ اختلافات رکھنے والے لوگ بھی اُن کی اس صلاحیت سے انکار نہیں کریں گے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی طرح اپنے آپ کو صرف افتتاحی تقاریب اور تختیاں لگانے تک محدود نہیں رکھتے۔۔۔ کچھ نہ کچھ کر بھی گزرتے ہیں۔۔۔ انگریزی زبان میں ایسے آدمی کو go-getter کہتے ہیں۔۔۔ نندی پور پلانٹ چلے نہ چلے۔۔۔ قائداعظم سولر پارک کام کرے نہ کرے۔۔۔ تیار تو دونوں ہوچکے ۔۔۔ یہی میاں شہبازشریف کا کمال ہے۔۔۔ بڑے میاں صاحب جب شاندار ترقی کا راگ الاپتے ہیں تو وہ دراصل میاں شہبازشریف کی کارگزاریوں کو خراج تحسین پیش کررہے ہوتے ہیں۔۔۔ ایسے میں میاں شہبازشریف کا اپنے بڑے بھائی کا ممنون ہونا ایک فطری امر ہے۔۔۔ لیکن جب میاں شہبازشریف اپنی ” ممنونیت “ کو بہت دور لے جاتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ ” منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے عوامی مینڈیٹ کی توہین کررہے ہیں “ تو وہ ایک ایسی ” خلافِ عقل“ دلیل پیش کررہے ہوتے ہیں جس کی توقع اُن جیسے ذہین آدمی سے نہیں کی جاسکتی۔۔۔ اس قسم کی باتیں عابد شیر علی ` طلال چوہدری ` طارق فضل چوہدری ` دانیال عزیز اور راناثناءاللہ قماش کے لوگوں پر تو کسی حد تک ” سج“ جاتی ہیں لیکن میاں شہبازشریف بہرحال ذرا مختلف کلاس کے آدمی ہیں۔۔۔
میں اس ضمن میں میاں شہبازشریف سے صرف دو تین سوال پوچھوں گا ` ان کے آسان جواب دے دیں تو یہ بات ان کی سمجھ میں آجائے گی کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں کیوں کہہ رہا ہوں۔۔۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ اگر منتخب وزیراعظم طیش میں آکر اپنے خانساماں کو گولی مار دے تو کیا وہ ” قانون “ سے مخاطب ہو کر یہ کہیں گا کہ ” خبردار مجھے ہاتھ لگایا تو عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوجائے گی ۔۔۔“
اِس وقت ” منتخب وزیراعظم “ کو قتل کے الزام کا سامنا تو نہیں مگر چوری بددیانتی اور ڈاکہ زنی کے الزامات کا سامنا ضرور ہے۔۔۔
اگر انہیں اپنے عوامی مینڈیٹ کے تقدس کا بہت ہی زیادہ پاس ہوتا تو روزِ اول ہی متنازعہ فلیٹس کے ملکیتی کاغذات پارلیمنٹ کے اندر اپنے مخالفوں کے منہ پر دے مارتے۔۔۔ کم ازکم ان ججوں کے منہ پر ضرور دے مارتے جنہوں نے اُن کے ” رویوں“ کے بارے میں اِس قدر توہین آمیز ریمارک ریکارڈ کا حصہ بنوائے۔۔۔
ایک سوال یہاں ” عوامی مینڈیٹ“ کے بارے میں اٹھتا ہے ۔۔۔ میاں صاحب کو ن سے عوام کے مینڈیٹ کی بات کررہے ہیں۔۔۔؟ جن کے ووٹ گننے والوں کا ” علم ِحساب“ کچھ یوں ہے۔۔۔ ” ایک دونی دونی۔۔۔ دو دونی چھ۔۔۔تین دونی دس ۔۔۔ چار دُونی چالیس۔۔۔ ” یا پھر “ دس جمع آٹھ ہوا اٹھائیس جمع بارہ ہوا ساٹھ۔۔۔ جمع بیس ہوا پورے سو۔۔۔ لو۔۔۔ مبارک ہو مبارک ہو شیر جیت گیا۔۔۔“؟
ایک سوال اور میاں صاحب۔۔۔
کیا عوامی مینڈیٹ سے یہ فیصلہ لیا جاسکتا ہے کہ چونکہ عوام نے بتیس ہزار کے مقابلے میں تنیتس ہزار کے ووٹ سے تصدیق کی ہے کہ اللہ ایک نہیں دو ہیں۔۔۔ اس لئے اب صحیح مسلمان کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ صبح کے وقت ایک اللہ کے سامنے سجدہ ریزاور شام کو دوسرے اللہ کے سامنے۔۔۔ چونکہ ایک اللہ نظر نہیں آتا۔۔۔ اس لئے اس پر ویسے ہی ایمان رکھیں۔۔۔ مگر دوسرا اللہ وہ ہے جسے آپ نے ووٹ دیا۔۔۔ قدم بڑھاﺅ نوازشریف ۔۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔“ (نعوذ باللہ)
میاں صاحب۔۔۔ اللہ ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گا۔۔۔ مکہ والوں نے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے بہت سارے خدا بنا لئے تھے۔۔۔اُن کا کیا حشر ہوا۔۔۔؟
جوعوامی مینڈیٹ منشائے الٰہی کی نفی کرتا ہو وہ نِرا فساد ہے۔۔۔
اور آرمی چیف نے اپنے آپریشن کا نام ” ردِالفساد“ سوچ سمجھ کر ہی رکھا ہے۔۔۔

Scroll To Top